
Originally Posted by
cefspan
@Unicorn ,
Uhs ka result a gaya hae, ,,,,, my aggregate percentage is low , I wont be getting admission in the entrance test....
I read an article a year ago , it stated something like why churchs are full of losers........................
MY FATHER WAS IN ICU , I had his thalium scan reports 2 months old ,mentioning that he was healthy and well..................
a day later he expired , I had prayed......
My grand ma , was there dying of stroke , I was with her , waking all 3 nights , ...................
I prayed ,
She died....
I was the only one back in home who used to take my grand dad to doctors ,................ I prayed to Allah , do let me have enough marks to get admission in RYK. I didn't .......
SO for me , GOD IS BUSY some where
and I am never ever going to pray again.
P.S => Dont dare abuse me , I had enough.,,......
''اللہ رب العزتے فرماتے ہیں: اجین دعوة الداع اذادعان فلیستجیبوالہ۔''
ترجمہ: ''جب کوئی دعا کرتا ہے تو دعا کرنے والے کی دعا کو (اپنی حکمت کے مطابق) قبول کرتا ہوں۔ سو یہ بھی میرا حکم مانا کریں''۔ قرآن مجید پارہ نمبر 2، سورہ بقرہ، آیت نمبر 186۔
اللہ تعالی کے ارشاد پاک میں ''اجیب'' کے معنی اجابت کے ہیں۔ یعنی اللہ تعالی ہر دعا کا جواب دیتا ہے اور جواب دینے کی درج :ذیل چند صورتیں ہیں
الف: بندہ جو چیز مانگے وہ اسے عطا کر دی جاتی ہے یا پھر اس کا نعم البدل عطا کر دیا جاتا ہے۔
ب: اللہ رب العالمین اس دعا کے بدلے میں اس سے کوئی بلا اور مصیبت ٹال دیتے ہیں۔ یا پھر اسکے گناہ معاف فرما دیتے ہیں۔
ج: اور بعض اوقات آخرت میں اجر و ثواب دے کر اس دعا کا جواب دے دیا جاتا ہے۔
!الغرض مومن کی دعا رائیگاں نہیں جاتی
:لیکن بعض اوقات درج ذیل وجوہ کی بنیاد پر مانگی ہوئی دعا قبول نہیں ہوتی
٭ گناہ یا پھر قطع رحمی کے لئے مانگی گئی دعا ''سنن ترمزی'' کتاب الدعوات عن رسول اللہ، باب فی انتظار الفرج الخ، حدیث نمبر 3497۔
٭ دعا کی پوری شرائط ادا نہ ہوں، جیسے پرہیز کے بغیر دوا فائدہ نہیں دیتی۔''کتب التفاسیر'' زیر آیت: 186، پارہ نمبر 2 ، سورہ بقرہ۔
کچھ شرائط یہ ہیں: ابتداء میں اللہ تعالی کی حمدوثناء اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم پر درود و سلام، دل اور ذہن کو مکمل طور پر اللہ کی طرف متوجہ کرنا، جلدی یا بے صبری نہ کرنا، راحت اور سکھ میں اللہ سے بکثرت دعا کرنا تا کہ مصیبت اور دکھ میں اسکی دعا قبول ہو، قبولیت کا یقین ہونا، عاجزی و انکساری اور کثرت سے دعا کرنا۔
٭ بندہ کبھی کسی چیز کو اچھا سمجھ کر مانگ لیتا ہے، لیکن وہ اس کے لئے بہتر نہیں ہوتی، تو ہم پر مہربان ہمارا رب وہ چیز نہیں دیتا۔ جیسے بیمار بندہ ڈاکٹر سے اچھی غذائیں مانگے جو حقیقت میں اس کے لئے نقصان دہ ہوں، تو ڈاکٹر وہ نہ دے۔ لہذا اس صورت میں دعا کا قبول نہ ہونا ہی بہتر ہوتا ہے۔
''کتب التفاسیر'' زیر آیت: 189، پارہ نمبر 2 سورہ بقرہ۔
:٭ قضاء قدر کے خلاف دعا نا مقبول ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے
''فیکشف ماتدعون الیہ انشائ''
ترجمہ: یعنی جو دعائیں مشیت الہی کے مطابق ہونگی، وہ قبول ہونگی۔
''قرآن مجید'' پارہ نمبر 7، سورہ انعام، آیت نمبر 41۔
٭دعا قبول نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے بیان فرمائی کہ ''ایک شخص دور دراز کا سفر کرتا ہے، بال اس کے پریشان، جسم اس کا گرد آلود، آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتا ہے اے رب! اے رب! اس کا کھانا، پینا، لباس سب حرام کمائی سے ہے، اور اس کے پیٹ میں جو غذا ہے وہ بھی حرام ہے تو ایسے کی دعا کب قبول ہونے کے لائق ہے؟ ''صحیح مسلم'' کتاب الزکاة، باب قبول الصدقة الخ، حدیث نمبر 1686۔
:٭مذکورہ بالا آیت میں ارشاد باری تعالی ہے
میں دعاکرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں، سو وہ بھی میرا حکم مانا کریں ۔ اس آیت مبارکہ میں یہ چیز بڑے خوبصورت انداز میں بیان کی گئی ہے کہ بندہ اللہ تعالی کا حکم مانیں تو اللہ ان کی دعا قبول فرمائے گا تو جب بندے اس کے محتاج ہونے کے باوجود اس کے کہنے پر عمل نہیں کریں گے تو وہ جوان سے بے پرواہ ہے وہ ان کے کہنے کے مطابق کیوں کرے گا؟
لہذا دین کے خلاف عمل کرنے والے اور شریعت کی پاسداری نہ کرنے والے قبولیت دعا کے حقدار نہیں! اور جو حقدار بننا چاہیں وہ اللہ اور اس کے رسول کے احکامات پر عملدرآمد کریں، تب ان کی دعائیں قبول ہو جایا کریں گی۔ جیسے کہ انبیاء کرام، صحابہ عظام اور اولیاء (رحمھم اللہ تعالی) کی دعائیں شرف قبولیت سے نواز دی جاتی ہیں، کیونکہ وہ ہر کام میں اللہ عالی کی اطاعت کرتے ہیں۔
تو اسی طرح جب ہم بھی اللہ تعالی اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے اطاعت گزار بن جائیں گے تو اللہ رب العزت رور بر ضرور ہماری مانگی ہوئی دعائیں بھی قبول فرمائے گا۔
کسی دعا کی قبولیت نہ ہونے پر مایوسی یا یہ کہنا کہ ''دعا تو بہت کی تھی لیکن قبول ہی نہیں ہوتی'' بھی دعا کے قبول نہ ہونے : کا ایک بہت بڑا سبب ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
ترجمہ : ''آدمی کی ہر دعا کو اللہ تعالی قبول فرماتے ہیں جب تک قطع تعلقی کی دعا نہ کرے یاجلد بازی سے کام نہ لے ''، کہا گیا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جلد بازی کیا ہے: فرمایا:''آدمی یہ کہے کہ میں نے دعا تو بہت کی لیکن مجھے نہیں لگتا کہ میری دعا قبول ہوگی ،اسوقت وہ نا امید ہوکر دعا چھوڑ دیتا ہے لہذا یہ بات کہنا مناسب نہیں کہ ''یہ وعدہ پورا نہیں ہورہا
قبولیت دعا کی چند صورتیں ہیں اگر بندے کی دعا اس کیلئے بہتر ہے تو وہ قبول ہو جاتی ہے ورنہ دعاء کی برکت سے کوئی اور بلا ٹل جاتی یا اسے دعا کا دنیا و آخرت میں ثواب دے دیا جاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ بندہ کبھی بری چیز کو اچھی سمجھ کر مانگتا ہے تو رب اپنے کرم سے نہیں دیتا جیسے کہ نادان بیمار کامل طبیب سے نقصان دہ غذائیں مانگے اور وہ نہ دے تو اس صورت میں دعا نہ قبول ہونا ہی بہتر ہے۔ تیسرے یہ کہ کبھی دعاء کے پورے شرائط ادا نہیں ہوتے اس لئے قبول نہیں ہوتی،
امید ہے کہ میں آپ کو بات سمجھانے میں کامیاب رہا ہونگا
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
و صلی اللہ علی نبینا محمد
و السلا م علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ