nice one salute to allama iqbal
Night_Hawk liked this post
یہ کس نے کہا تم کوچ کرو، باتیں نہ بناؤ انشا جی
یہ شہر تمہارا اپنا ہے، اسے چھوڑ نہ جاؤ انشا جی
جتنے بھی یہاں کے باسی ہیں، سب کے سب تم سے پیار کریں
کیا اِن سے بھی منہہ پھیروگے، یہ ظلم نہ ڈھاؤ انشا جی
کیا سوچ کے تم نے سینچی تھی، یہ کیسر کیاری چاہتے کی
تم جن کو ہنسانے آئے تھے، اُن کو نہ رلاؤ انشا جی
تم لاکھ سیاحت کے ہو دھنی، اِک بات ہماری بھی مانو
کوئی جا کے جہاں سے آتا نہیں، اُس دیس نہ جاؤ انشا جی
بکھراتے ہو سونا حرفوں کا، تم چاندی جیسے کاغذ پر
پھر اِن میں اپنے زخموں کا، مت زہر ملاؤ انشا جی
اِک رات تو کیا وہ حشر تلک، رکھے گی کھُلا دروازے کو
کب لوٹ کے تم گھر آؤ گے، سجنی کو بتاؤ انشا جی
نہیں صرف قتیل کی بات یہاں، کہیں ساحر ہے کہیں عالی ہے
تم اپنے پرانے یاروں سے، دامن نہ چھڑاؤ انشا جی
.................................................. .........................
Last edited by MUHAMMAD NAWAZ SHAMPURI; 19-Dec-2010 at 10:59 PM. Reason: just want to remove
اے ابنے آدم ایک تری چاہت ہے
اور ایک الله کی چاہت ہے
پر ہوگا ووہی جو الله کی چاہت ہے
بس اگر تو نے سپرد کر دیا اسس کے ، جو الله کی چاہت ہے
تو الله بخش دیگا وو بھی جو تری چاہت ہے
اور اگر تو نے نافرمانی کی اس کی ، جو الله کی چاہت ہے
تو الله تھکا دیگا تجے اس مے ، جو تری چاہت ہے
اور پھر ہوگا ووہی جو الله کی چاہت ہے
canadian thanked for this post
canadian thanked for this post
Night_Hawk liked this post
یہ بھی تو بچے ہیں - اِبنِ اُمید
ஜ۩۞۩ஜ اِبنِ اُمید ஜ۩۞۩ஜ
http://www.ibn-e-Umeed.com/
کبھی تو فرصت کے موسموں میں
کسی بڑے شہر کی نکڑ پہ
کچی بستی کے سہمے سہمے
ننھے بچوں کے چہرے پڑھنا
کہ جن کے ننگے بدن نجانے
کتنی ہی خنک رتوں کو
لباس کر کے پہن چکے ہیں
معصوم سے ہاتھ، پھول چہرے
کھلونے روٹی کے مانگتے ہیں
زرد موسم نجانے کتنی
بہاریں اُن کی نگل چکے ہیں
کئی تو ہیں جو کہ پیدا ہوتے ہی
بچپنے سے نکل چکے ہیں
اُن کی آنکھوں میں دیکھو اک بار
حسرتیں برف بن گئی ہیں
اُن کے حصے کی خوشیاں تھیں جو
کبھی یہ سوچا، کدھر گئی ہیں؟
ஜ۩۞۩ஜ اِبنِ اُمید ஜ۩۞۩ஜ
http://www.ibn-e-Umeed.com/
ஜ۩۞۩ஜ اِبنِ اُمید ஜ۩۞۩ஜ
http://www.ibn-e-Umeed.com/
![]()
Last edited by ibn-e-Umeed; 07-Nov-2010 at 11:46 AM.
★★★★★★★
نظامِ غربت سے ھے بغاوت
کہ چُپ کی قربت سے ھے بغاوت
اگر یہی ھے نظامِ قدرت
تو ہم کو قدرت سے ھے بغاوت
ஜ۩۞۩ஜ اِبنِ اُمید ஜ۩۞۩ஜ
http://www.ibn-e-Umeed.com/
http://www.facebook.com/ibn.e.umeed
![]()
Last edited by ibn-e-Umeed; 19-Nov-2010 at 02:16 PM.
کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ھے
مِرے وطن میں بھی اک صبحِ جاوداں اُترے
یہاں پہ امن و محبت کی ایسی ریت چلے
ہر ایک دل میں اُمیدوں کی کہکشاں اُترے
قندیلِ چشم میں ایسے دھنک کے رنگ اُبھریں
سوادِ زیست کے آنگن میں ضوفشاں اُترے
کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ھے
مِرے وطن کو سبھی کا ہی گُل بدن کر دے
ہماری سوچ میں مٹی کی بُو نظر آئے
ہمارے خواب دُعاؤں کے پیرھن کر دے
مِرے وطن کی ہواؤں کو دے یقیں کی رِدا
فلک کو چھُونے کی خواہش کو مؤجزن کر دے
کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ھے
سورگ تراشنے کا خود ہی جتن کیا جائے
کسی کی حاجت ہی ٹھہرے اساسِ ہُنرو خِرَد
منافع خوری فقط نہ سخن کیا جائے
ہر ایک بیج کو بو کر ہو یُوںطمانت سی
کسی کی بھوک کو جیسے دفن کیا جائے
کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ھے
مِرے وطن میں بھی اک صبحِ جاوداں اُترے
ஜ۩۞۩ஜ اِبنِ اُمید ஜ۩۞۩ஜ
http://www.ibn-e-Umeed.com/
http://www.facebook.com/ibn.e.umeed
![]()
کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ھے
مِرے وطن میں بھی اک صبحِ جاوداں اُترے
یہاں پہ امن و محبت کی ایسی ریت چلے
ہر ایک دل میں اُمیدوں کی کہکشاں اُترے
قندیلِ چشم میں ایسے دھنک کے رنگ اُبھریں
سوادِ زیست کے آنگن میں ضوفشاں اُترے
کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ھے
مِرے وطن کو سبھی کا ہی گُل بدن کر دے
ہماری سوچ میں مٹی کی بُو نظر آئے
ہمارے خواب دُعاؤں کے پیرھن کر دے
مِرے وطن کی ہواؤں کو دے یقیں کی رِدا
فلک کو چھُونے کی خواہش کو مؤجزن کر دے
کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ھے
سورگ تراشنے کا خود ہی جتن کیا جائے
کسی کی حاجت ہی ٹھہرے اساسِ ہُنرو خِرَد
منافع خوری فقط نہ سخن کیا جائے
ہر ایک بیج کو بو کر ہو یُوںطمانت سی
کسی کی بھوک کو جیسے دفن کیا جائے
کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ھے
مِرے وطن میں بھی اک صبحِ جاوداں اُترے
ஜ۩۞۩ஜ اِبنِ اُمید ஜ۩۞۩ஜ
http://www.ibn-e-Umeed.com/
http://www.facebook.com/ibn.e.umeed
![]()
تھے ديار نو زمين و آسماں ميرے ليےعہد طفلي
وسعت آغوش مادر اک جہاں ميرے ليے
تھي ہر اک جنبش نشان لطف جاں ميرے ليے
حرف بے مطلب تھي خود ميري زباں ميرے ليے
درد ، طفلي ميں اگر کوئي رلاتا تھا مجھے
شورش زنجير در ميں لطف آتا تھا مجھے
تکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سوئے قمر
وہ پھٹے بادل ميں بے آواز پا اس کا سفر
پوچھنا رہ رہ کے اس کے کوہ و صحرا کي خبر
اور وہ حيرت دروغ مصلحت آميز پر
آنکھ وقف ديد تھي ، لب مائل گفتار تھا
دل نہ تھا ميرا ، سراپا ذوق استفسار تھا
Last edited by ashar13; 21-Dec-2010 at 11:46 PM.
wah buht khoob...
''Only those who will risk going too far can possibly find out how far one can go. "~ T. S. Eliot
Last edited by ashar13; 19-Dec-2010 at 10:31 PM.
wo mujay apni zindge samjta hai Faraz
kia usay muj par aitibar nahi
Tu bhi to Aaeinay ki tarha bewafa nikla Faraz
Jo samnay Aaya, ussi ka ho gaya...!!
ik aesa shakhs meri zeest mein hai Qasim
jo meri zindagi hai aur mein usska lamha bhi nahi
rootha rahay woh mujse yeh manzoor hai lekin
yaro ussey samjhao k mera shehr na chore
There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)