Siasat.pk Forums
   
Page 26 of 43 FirstFirst ... 16 24 25 26 27 28 36 ... LastLast
Results 501 to 520 of 845
  1. #501
    Intermediate saud491's Avatar
    Join Date
    Jun 2011
    Posts
    436
    Post Thanks / Like

    Re: "Rajam" Ahadith ki Roashni Mai ☺Aur☺ GHAMDI Ka Rajam sai INKAAR

    http://www.deeneislam.com/ur/uni_mai...XT.html&CID=76
    س

    حدود آرڈیننس کے بارے میں
    وفاقی شرعی عدالت کا تاریخ ساز فیصلہ
    شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی
    (ر) جسٹس شریعت ایپلٹ بنچ سپریم کورٹ آف پاکستان

    حقیقت سے آگاہی کے لئے


    یہ بات ذہن نشین فرمالیں کہ آج کل حدود آرڈیننس کے بارے میں مختلف شعبہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی آراء معلوم کرنے کا ایک سلسلہ شروع کیا گیا جسے اربابِ اختیار کی جانب سے سراہا بھی جارہا ہے ۔ چند سطروں پر مشتمل مبہم تبصروں سے یہ تأثر دیا جارہا ہے کہ حدودِ آرڈیننس انسانوں کا بنایا ہوا قانون ہے جو شریعت کے موافق نہیں اور اس میں ضروری ترامیم کر کے اسے درست کرنا ضروری ہیں ، قطعِ نظر اس کے کہ پاکستان میں ہزاروں غیر اسلامی قوانین کی موجودگی اور سود کے حق میں پاکستانی بینکوں کی قانونی جنگ کے باوجودآخر اس ایک قانون کو ’’شرعی‘‘ بنانے کی کوشش کیوں کی جارہی ہے..... حدود آرڈیننس سے متعلق وفاقی شرعی عدالت کا ایک تاریخ ساز فیصلہ شائع کیا جاتا ہے تاکہ لوگ مسئلہ کی حقیقت سے آگاہی حاصل کرسکیں۔
    ’’رجم‘‘کے بارے میں حکومت کی نظرِ ثانی کی ایک درخواست پر وفاقی شرعی عدالت نے یہ متفقہ فیصلہ دیا کہ جرمِ زنا(نفاذِ حدود) آرڈیننس 1979ء کی دفعات 5اور 6جن میں رجم کو بطورِ حدِّ شرعی نافذ کیا گیا ہے ، احکامِ اسلام کے منافی نہیں ہیں ۔ چھ ججوں پر مشتمل بینچ کا یہ فیصلہ P.L.D کے اکتوبر و نومبر 1983ء کے شماروں میں شائع ہو چکا ہے ، یہ حصہ شیخ الاسلام(ر) جسٹس مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم کا تحریرکردہ ہے۔
    ۱۔ سب سے پہلا مسئلہ یہ ہے کہ آیا ’’رجم‘‘ کی سزا قرآن مجید میں مذکور ہے یا نہیں ؟ اس بارے میں دو رائے نہیں ہوسکتیں کہ زنا کی سزا کے طور پر صراحۃً اس کا ذکر قرآنِ کریم میں نہیں ہے۔ البتہ سورۂ مائدہ کی آیات۴۰ تا۴۴ میں اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے ۔ یہ آیات کریمہ مندرجہ ذیل ہیں :
    ےٰٓاَیُّھَاالرَّسُو٘لُ لَایَح٘زُن٘کَ الَّذِی٘نَ ےُسَارِعُو٘نَ فِی ال٘کُف٘رِ مِنَ الَّذِی٘نَ قَالُو٘ا اٰمَنَّا بِأَف٘وَاھِھِم٘ وَلَم٘ تُؤ٘مِن٘ قُلُو٘بُھُم٘ وَمِنَ الَّذِی٘نَ ھَادُو٘ا سَمّٰعُو٘نَ لِل٘کَذِبِ لِقَو٘مٍ اٰخَرِینَ لَم٘ ےَأ٘تُو٘کَ ےُحَرِّفُو٘نَ ال٘کَلِمَ مِن٘ بَع٘دِ مَوَاضِعِہ ےَقُو٘لُو٘نَ اِن٘ أُو٘تِے٘تُم٘ ھٰذَا فَخُذُو٘ہُ وَاِن٘ لَّم٘ تُؤ٘تَو٘ہُ فَاحْذَرُوْا ط وَمَنْ یُّرِدِ اﷲُ فِتْنَتَہٗ فَلَنْ تَمْلِکَ لَہٗ مِنَ اﷲِ شَیْئًا ط اُوْلٰئِکَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اﷲُ اَنْ ےُّطَھِّرَ قُلُوْبَھُمْ ، لَھُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّلَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ﴿﴾ سَمّٰعُوْنَ لِلْکَذِبِ اَکّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ ط فَاِنْ جَآئُ وْکَ فَاحْکُمْ بَیْنَھُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْھُمْ ج وَاِنْ تُعْرِضْ عَنْھُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْکَ شَیْئًا ط وَاِنْ حَکَمْتَ فَاحْکُمْ بَیْنَھُمْ بِالْقِسْطِ ط اِنَّ اﷲَ ےُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ ﴿﴾ وَکَیْفَ ےُحَکِّمُوْنَکَ وَعِنْدَھُمُ التَّوْرٰۃُ فِیْھَا حُکْمُ اﷲِ ثُمَّ ےَتَوَلَّوْنَ مِنْم بَعْدِ ذٰلِکَ ط وَمَآ اُوْلٰئِکَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ ﴿﴾ اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰۃَ فِیْھَا ھُدیً وَّنُوْرٌ ج ےَحْکُمُ بِھَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ ھَادُوْا وَالرَّبَّانِیُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ کِتٰبِ اﷲِ وَکَانُوْا عَلَیْہِ شُھَدَآئَ ج فَلاَ تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰےٰتِیْ ثَمَناً قَلِیْلاً ط وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اﷲُ فَاُوْلٰئِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ۔
    [المآئدۃ:۴۱۔۴۴]
    ان آیات کا ترجمہ حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمہ اﷲ نے بیان القرآن میں اس طرح کیا ہے :۔
    ترجمہ:اے رسول ا ! جو لوگ کفر کی باتوں میں دوردورگرتے ہیں ، آپ کو وہ مغموم نہ کریں ، خواہ ان لوگوں میں سے ہوں جو اپنے من سے تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اور ان کے دل یقین نہیں لائے اور خواہ وہ ان لوگوں میں سے ہوں جو کہ یہودی ہیں ، یہ لوگ غلط باتیں سننے کے عادی ہیں ۔ آپ کی باتیں دوسری قوم کسی خاطر سے کان دھر دھر (غور سے) سنتے ہیں ، جس قوم کے یہ حالات ہیں کہ وہ آپ کے پاس نہیں آئے ، کلامِ الٰہی بعد اس کے کہ وہ اپنے موقع پر ہوتا ہے ، بدلتے رہتے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ اگر تم کو یہ حکم ملے تب تو اس کو قبول کرلینا اور اگر تم کو یہ حکم نہ ملے تو احتیاط رکھنا اور جس کا خراب ہونا خدا ہی کو منظور ہو تو اس کے لئے اﷲ سے تیرا کچھ زور نہیں چل سکتا، یہ لوگ ایسے ہیں کہ خدا تعالیٰ کو ان کے دلوں کا پاک کرنا منظور نہیں ہوا ۔ ان لوگوں کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لئے سزائے عظیم ہے ۔ یہ لوگ غلط باتوں کے سننے کے عادی ہیں ، حرام کے کھانے والے ہیں ، تو اگر یہ لوگ آپ کے پاس آویں تو خواہ آپ ان میں فیصلہ کردیجئے یا ان کو ٹال دیجئے اور اگر آپ ان کو ٹال ہی دیں تو ان کی مجال نہیں کہ آپ کو ذرا بھی ضرر پہنچا سکیں اور اگر آپ فیصلہ کریں تو ان میں عدل کے موافق فیصلہ کیجئے، بیشک حق تعالیٰ عدل کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور وہ آپ سے کیسے فیصلہ کراتے ہیں ، حالانکہ ان کے پاس تورات ہے ، جس میں اﷲ کا حکم ہے ، پھر اس کے بعد ہٹ جاتے ہیں اور یہ لوگ ہر گز اعتقاد والے نہیں ، ہم نے تورات نازل فرمائی تھی جس میں ہدایت تھی اور وضوح تھا ، انبیاء جو کہ اﷲ تعالیٰ کے مطیع تھے ، اس کے موافق یہود کو حکم دیا کرتے تھے اور اہل اﷲ اور علماء بھی ۔ بوجہ اس کے کہ ان کو اس کتاب اﷲ کی نگہداشت کا حکم دیا گیا اور وہ اس کے اقراری ہوگئے تھے ، سو تم بھی لوگوں سے اندیشہ مت کرو اور مجھ سے ڈرو اور میرے احکام کے بدلے میں متاعِ قلیل مت لو اور جو شخص خدا تعالیٰ کے نازل کئے ہوئے کے موافق حکم نہ کرے سو ایسے لوگ بالکل کافر ہیں‘‘۔
    ان آیاتِ کریمہ کا سادہ سا مطالعہ بھی یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ آیتیں کسی خاص واقعے کے پس منظر میں نازل ہوئی ہیں جس میں کچھ یہودی آپ کے پاس کسی مقدمے کا فیصلہ کرانے کے لئے آئے تھے اور ان کے پیشِ نظر یہ تھا کہ اگر آنحضرت ا اس قضیے کا فیصلہ ان کی خواہشات کے مطابق کردیں تو اُسے قبول کرلیں ورنہ اس سے انکار کردیں۔
    قرآنِ کریم میں یہ واقعہ بیان کیا گیا ، لیکن صحیح احادیث میں اس کی تفصیل آئی ہے۔
    اور تفسیر و حدیث کی تقریباً ہر کتاب میں اس واقعہ کو کہیں مفصل اور کہیں مختصر طریقے پر بیان کیا گیا ہے ۔ یوں تو اس واقعے کو بہت سے صحابۂ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین نے روایت کیا ہے ،لیکن حضرت جابر بن عبداﷲ ؓ کی روایت میں واقعے کے بیشتر ضروری اجزاء زیادہ جامعیت اور اختصار کے ساتھ آگئے ہیں ۔
    حضرت جابر بن عبداﷲ ؓ فرماتے ہیں کہ فدک کے لوگوں میں سے ایک شخص نے زنا کرلیا تھا اس پر فدک کے لوگوں نے مدینہ طیبہ کے یہودیوں میں سے کچھ لوگوں کو لکھا :
    محمد ا سے اس بارے میں پوچھو، اگر وہ تمہیں کوڑوں کا حکم دیں تو اُسے قبول کرلینا اور سنگساری کا حکم دیں تو قبول نہ کرنا‘‘
    چنانچہ ان لوگوں نے آپ اسے اس بارے میں پوچھا ، آپ ا نے فرمایا کہ میرے پاس اپنے دو آدمی ایسے بھیجو جو تمہارے درمیان سب سے زیادہ علم رکھتے ہوں ، چنانچہ وہ ابن صوریا نامی ایک یک چشم آدمی کو اور ایک اور شخص کو لے آئے ، ان سے آپ ا نے پوچھا :’’ کیا تم اپنے لوگوں میں سب سے بڑے عالم ہو؟‘‘ انہوں نے کہا جب ہی تو ہماری قوم نے ہم سے رجوع کیا ہے ، آپ ا نے ان سے فرمایا: ’’ کیا تمہارے پاس تورات نہیں ہے، جس میں اﷲ کا حکم موجود ہو؟ انہوں نے کہا :’’ کیوں نہیں‘‘؟ آپ ا نے فرمایا : بس تو میں تمہیں اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس نے بنی اسرائیل کے لئے سمندر کو پھاڑا، تم لوگوں پر ابر کا سایہ کیا ، تمہیں آلِ فرعون سے نجات دی اور بنی اسرائیل پر من و سلویٰ نازل کیا ، یہ بتاؤ کہ تم تورات میں رجم کے حکم کے بارے میں کیا پاتے ہو؟
    اس پر ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا :’’ آج تک مجھے ایسی قسم نہیں دی گئی‘‘ پھر وہ بولے : ’’ ہم یہ پاتے ہیں کہ بدنگاہی بھی ایک قسم کا زنا ہے اور بوس و کنار بھی ایک قسم کا زنا ہے لیکن اگر چار آدمی اس بات کی گواہی دیدیں کہ انہوں نے ملزم کو اس طرح دخول کرتے دیکھا ہے جیسے سرمہ دانی میں سلائی ، تو اس وقت رجم واجب ہو جاتا ہے ۔
    نبی کریم ا نے اس موقع پر فرمایا :’’بس ! یہی بات ہے۔‘‘ اس کے بعد آپ انے اس زانی کو سنگسار کرنے کا حکم دیا ، چنانچہ اسے سنگسار کیا گیا ، اس پر یہ آیات ( یعنی سورۂ مائدہ کی مذکورہ بالا آیات) نازل ہوئیں کہ فان جاء وک فاحکم بینھم۔
    عدالت ہٰذا کے اس فیصلے میں جس پر اس وقت نظرِ ثانی کی جارہی ہے، یہودیوں کے اس واقعہ پر اس وجہ سے تفصیل کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی کہ یہ یہودیوں کا واقعہ ہے اور اس میں خود ان کے مذہب کے مطابق فیصلہ کیا گیا تھا۔ لہٰذا یہ مسلمانوں کیلئے قابلِ اطلاق نہیں ہے ۔
    نظرِ ثانی کے وقت ہمارے سامنے اس مسئلے پر تفصیل کے ساتھ بحث کی گئی کہ قانونِ زنا پر اس واقعے کے کیا اثرات ہیں ؟اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ کس حیثیت سے فرمایا تھا ؟ چنانچہ اس پہلو پر قدرے مفصل تحقیق کی ضرورت ہے۔
    اس واقعے میں دو باتیں خاص طور پر تنقیح طلب ہیں :
    ایک یہ کہ آنحضرت ا نے یہ فیصلہ اپنی شریعت کے مطابق فرمایا تھا ؟ یا تورات کے حکم کے مطابق؟
    دوسرے یہ کہ یہ واقعہ کب کا ہے ؟ اور سورۂ نور کی آیت نمبر 2جس میں زنا کار کے لئے سو کوڑوں کی سزا مقرر کی گئی ہے ، اس وقت نازل ہو چکی تھی یا نہیں ؟ لیکن اس موضوع پر میں آگے چل کر بحث کروں گا کیونکہ اس کا تعلق احادیثِ رجم سے ہے ۔
    یہاں اس واقعے کو نقل کرنے سے مقصد صرف یہ تھا کہ اگرچہ قرانِ کریم میںزانی کیلئے رجم کا حکم صراحۃً مذکور نہیں لیکن سورۂ مائدہ کی مذکورہ بالا آیات چونکہ یہودیوں کے رجم کے بارے میں نازل ہوئیں اس لئے ان آیات میں نہ صرف یہ کہ اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے بلکہرجم کے حکم کو ’’حکم اﷲ‘‘ ( اﷲ کا حکم) ما أنزل اﷲ (اﷲ کا نازل کیا ہوا حکم) اور ’’القسط‘‘ (انصاف) کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے اور سرورِ دوعالم ا کو اس کے مطابق فیصلہ کرنے کی تاکید فرمائی گئی ہے۔
    ۲۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ آیا قرآنِ مجید میں کوئی آیت ایسی ہے جس سے زانی محصن کے لئے سزائے رجم کی نفی ہوتی ہو ؟ اس سلسلے میں مسؤل الیہ کے فاضل وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ سورۂ نور کی آیت نمبر2سزائے رجم کی نفی کرتی ہے اس لئے کہ اس کے الفاظ یہ ہیں :
    الزانیۃ والزانی فاجلدوا کل واحد منھما مائۃ جلدۃ ۔
    ترجمہ: زنا کار عورت اور زنا کار مرد دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ۔
    ان کا کہنا یہ ہے کہ اس آیت میں زانی اور زانیہ بالکل عام ہیں اور اس میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کا کوئی فرق نہیں، لہٰذا شادی شدہ زانی کیلئے کوئی ایسی سزا تجویز کرنا جو قرآنِ کریم میں مذکور نہیں ہے اس آیت کے خلاف ہوگا اور جن احادیث میں سزائے رجمکا ذکر آیا ہے وہ اس آیت کے خلاف ہونے کی بنا پر ناقابلِ اعتبار ، ناقابلِ عمل یا کم از کم لائقِ تاویل ضرور ہیں ورنہ اگر ان احادیث کی بنا پر سزائے رجم کو حدِّ شرعی قرار دیا گیا تو اس سے لازم آئے گا کہ حدیث نے قرآنِ کریم کی آیت کو منسوخ کردیا ، حالانکہ حدیث کے ذریعے قرآن کریم کی کسی آیت کو منسوخ نہیں کیا جاسکتا ۔ کم و بیش یہی مؤقف اس عدالت کے سابقہ اکثریتی فیصلے میں بھی اختیار کیا گیا ہے۔
    یہ مسئلہ چونکہ زیرِ بحث مقدمے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے ، اس لئے اس کا قدرے تفصیل کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
    یہاں سب سے پہلے سوال یہ ہے کہ سنت میں شادی شدہ زانی کے لئے رجم کا حکم مذکور ہے کیا وہ سورۂ نور کی مذکورہ آیت کے معارض ہے؟
    میری رائے میں سنت کی تشریعی اور قانونی حیثیت تسلیم کرلینے کے بعد سورۂ نور کی مذکورہ آیت اور سنت کے حکمِ رجم میں کوئی تعارض باقی نہیں رہتا۔ سورۂ نور کا حکم عام ہے اور سنت کا حکم ایک خاص صورت کے ساتھ مخصوص ہے اور اگر دو مختلف قانونوں میں ایک جگہ حکم عام اور دوسری جگہ خاص ہو تو ان کو باہم نہ متعارض سمجھا جاسکتا ہے اور نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک قانون نے دوسرے کو منسوخ کردیا ۔
    یہ بات مثال سے واضح ہوسکے گی:
    مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 379کی عبارت یہ ہے:
    ''Whoever commits theft shall be punished with imprisonment for either description fortern wich may extend to three years , or with fine, or with both''.
    اس دفعہ کا حکم عام ہے کہ ’’ جو شخص بھی چوری کرے اس کی سزاتین سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں ہوسکتی ہیں ‘‘ اس میں ہر قسم کا چور داخل ہے خواہ اس نے کسی مکان سے چوری کی ہو یا دوکان سے ، وہ کسی کا ملازم ہو یا نہ ہو۔
    اس کے بعد دفعہ 380کے الفاظ یہ ہیں :۔
    ''Whoever commits theft in any building........used a human delling........shall be punished with imrisonment of either description for a term wich may extend to seven years , and shall also be laible to fine."
    اس دفعہ میں کہا گیا ہے کہ ’’جو شخص کسی رہائشی عمارت سے چوری کا ارتکاب کرے ، اس کی سزا سات سال تک ہوسکتی ہے‘‘
    یہاں ایک خاص قسم کی چوری کا حکم بتایا گیا ہے جو دفعہ 379کے عموم میں بھی داخل تھی ، اب کہا یہ جاسکتا ہے کہ دفعہ 380دفعہ379سے متعارض ہے یا دفعہ 380نے دفعہ 379کو منسوخ کردیاہے؟
    پھر دفعہ 381کے الفاظ یہ ہیں :۔
    '' whoever beings clerk or servent.......commits theft in respect of any property in the possession of his master or employees shall be punished with imprisonment of either description for a term wich may extend seven years.....''.
    اس دفعہ میں ایک خاص قسم کے چور کے لئے ( یعنی ملازم جبکہ اپنے آجر کی چوری کی) الگ سزا مقرر کی گئی ہے ، حالانکہ دفعہ 379کے عمومی مفہوم میں یہ چور بھی داخل تھا ۔ اب کیایہ کہا جاسکتا ہے کہ دفعہ 381نے دفعہ379کو منسوخ کردیا ؟
    پھر دفعہ 1979ء میں حدود آرڈیننس نمبر(6) 1979ء نافذ ہوا جس کی دفعہ (9) میں کہا گیا ہے :
    '' whoever commits theft liable to had for the first time shall be punished with amputation of his right hand from the joint of his wrist''.
    اس دفعہ نے ایک خاص قسم کے چور کیلئے جس نے سرقہ موجبِ حد کا ارتکاب کیا ہو ایک بالکل مختلف سزا یعنی قطعِ ید مقرر کردی ۔ اب کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ آرڈیننس نمبر(6) 1979ء کی دفعہ (9) نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 379،380، اور 381کو منسوخ(REPEAL) کردیا؟
    ظاہر ہے کہ ان تینوں سوالات کا جواب نفی میں ہے ۔
    واقعہ یہ ہے کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ379،380 ، 381اور آرڈیننس نمبر(6) 1979ء کی دفعہ 6 سب بیک وقت نافذ العمل ہیں اور یہ بات صرف اتنی ہے کہ دفعہ 379کا حکم عام تھا اور باقی تینوں قوانین میں کچھ مخصوص صورتوں کا حکم الگ بیان کردیا گیا ہے ۔
    اس صورتِ حال کی توجیہ دو طرح ممکن ہے:
    ایک یہ کہ دفعہ 380اور دفعہ 381اور حدود آرڈیننس کی دفعہ (9) نے دفعہ379کے عموم میں تخصیص پیدا کردی ہے اور اب دفعہ 379صرف ان چوروں پر اطلاق پذیر ہوگی جو مذکورہ تین قوانین کی زد میں نہ آتے ہوں ۔
    دوسری توجیہ یہ ممکن ہے کہ دفعہ 379کا عموم اب بھی برقرار رہے اور جو شخص کسی رہائشی مکان میں چوری کرے گا ، وہ بیک وقت دو دفعات کے تحت مجرم ہوگا ، ایک دفعہ 379کے تحت اور دوسرے دفعہ 380کے تحت ، لیکن چونکہ قاعدہ یہ ہے چھوٹی سزا بڑی سزا میں مدغم ہو جاتی ہے اس لئے عملاً اس کو سزا دفعہ 380کے تحت دی جائے گی اور یہی معاملہ دفعہ 381اور حدود آرڈیننس (6) کی دفعہ (9) میں ہوگا۔
    تقریبا ً یہی صورتحال زانی کے سلسلے میں واقع ہوئی ہے ۔ قرآن کریم کی سورۂ نور آیت نمبر2میں حکم یہ دیا گیا کہ زانی اور زانیہ کی سزا سو کوڑے ہیں۔ اس میں کسی خاص قسم کے زانی اور زانیہ کا بیان نہیں ، بلکہ اپنے الفاظ کے لحاظ سے یہ حکم ہر قسم کے زانی کیلئے عام ہے۔
    اس کے بعد اگر سنت ( جو اسلامی قانون کا دوسرا مستقل مأخذ ہے) یہ کہے کہ ایک خاص قسم کے زانی یعنی محصن کی سزا رجم ہے تو اس کو کسی بھی صورت میں یہ نہیں کہا جائیگا کہ یہ حکم سورۂ نور کی آیت نمبر2کے معارض ہے ۔ یا اس کو ماننے سے سورۂ نور کی آیت نمبر 2منسوخ (Repeal) ہوجائے گی، بلکہ جس طرح مذکورہ مثال میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 379اور دفعہ380بیک وقت نافذ العمل ہیں اسی طرح سورۂ نور کا حکم اور سنت کا حکم رجم بھی بیک وقت نافذالعمل رہ سکتے ہیں۔

    ADVERTISING




  2. #502
    Intermediate saud491's Avatar
    Join Date
    Jun 2011
    Posts
    436
    Post Thanks / Like

    Re: "Rajam" Ahadith ki Roashni Mai ☺Aur☺ GHAMDI Ka Rajam sai INKAAR

    http://www.al-mawrid.org/pages/quest...id=507&cid=235
    رجم کی سزا

    غامدی صاحب نے اپنے ایک ٹی وی پروگرام میں فرمایاکہ اسلام میں زنا کی سزا سو کوڑے ہے، خواہ وہ کنوارا ہو خواہ شادی شدہ۔ اس سے پہلے میرے علم کے مطابق اس طرح کی آرا منکرین حدیث ہی ظاہر کرتے تھے۔ آپ لوگ منکر حدیث نہیں ہیں ، اس لیے کہ آپ احادیث کے حوالے دیتے ہیں۔ احادیث کی کتابوں میں یہ بات بڑی صراحت سے بیان ہوئی ہے کہ شادی شدہ زانی کی سزا رجم ہے۔ اگر آپ رجم کے جواز کے قائل نہیں ہیں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے میں یہ سزا دے کر ناانصافی کی تھی ، اس لیے کہ مشرکین عرب میں زانی کے لیے اس سزا کا کوئی رواج نہیں تھا۔

    علاوہ ازیں یہ سزا عہد نامہ عتیق میں بھی بیان ہوئی ہے اور یہود کے ہاں اس پر عمل بھی رہا ہے۔ مولانا مودودی ، ابن کثیر اور فقہاے اربعہ شادی شدہ زانی کی سزا رجم ہی قرار دیتے ہیں۔

    آپ اگر حدیث کی حجیت کے قائل ہیں تو آپ کی راے قابل قبول نہیں ہے۔ اگر آپ منکر حدیث ہیں تب براہ مہربانی صورت حال واضح کر دیں۔ اگر ایسا ہے تو یہ میرے لیے ایک حادثہ ہو گا، اس لیے کہ میں اس سے پہلے اس حوالے سے آپ کا دفاع کرتا رہا ہوں؟
    (شمس زمان)
    :سوال
    پہلی بات تو یہ واضح رہے کہ استاد محترم کسی بھی معنی میں منکر حدیث نہیں ہیں۔ جو آدمی سنت کو ایک مستقل ماخذ دین مانتا ہو اسے منکر حدیث قرار دینا اتہام کے سوا کچھ نہیں ہے۔ جس آدمی نے ماخذ کی بحث کا آغاز ''دین کا تنہا ماخذ اس زمین پر اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات والا صفات ہے'' جیسے شاہ کا ر جملے سے کیا ہو، اسے منکر حدیث قرار دینا ظلم ہی قرار دیا جائے گا ، جبکہ اس نے اپنے اس نقطۂ نظر کی وضاحت ان الفاظ میں کی ہو:
    ''...یہ صرف اُنھی کی ہستی ہے کہ جس سے قیامت تک بنی آدم کو اُن کے پروردگار کی ہدایت میسر ہو سکتی اور یہ صرف اُنھی کا مقام ہے کہ اپنے قول وفعل اور تقریروتصویب سے وہ جس چیز کو دین قرار دیں، وہی اب رہتی دنیا تک دین حق قرار پائے۔'' (میزان 13)
    جس نے سنت اور قرآن کو قطعیت میں ہم پلہ قرار دیا ہو ، وہ بجا طور پر اس کا مستحق ہے کہ اسے حامی سنت کے لقب سے یاد کیا جائے کجا یہ کہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو نہ ماننے والا سمجھا جائے۔ سنت کی حیثیت کو واضح کرتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے:
    ''سنت ... کے بارے میں یہ بالکل قطعی ہے کہ ثبوت کے اعتبار سے اِس میں اور قرآن مجید میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ وہ جس طرح کے صحابہ کے اجماع اور قولی تواتر سے ملا ہے، یہ اِسی طرح اُن کے اجماع اور عملی تواتر سے ملی ہے اور قرآن ہی کی طرح ہر دور میں مسلمانوں کے اجماع سے ثابت قرار پائی ہے، لہٰذا اِس کے بارے میں اب کسی بحث ونزاع کے لیے کوئی گنجایش نہیں ہے۔'' (میزان 14)
    حدیث کے دائرۂ کار کے بارے میں انھوں نے اپنا نقطۂ نظر ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
    ''...دین میں اِن (احادیث)سے کسی عقیدہ وعمل کا اضافہ بھی نہیں ہوتا۔ دین سے متعلق جو چیزیں اِن میں آتی ہیں، وہ درحقیقت، قرآن وسنت میں محصور اِسی دین کی تفہیم وتبیین اور اِس پر عمل کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کا بیان ہے۔ حدیث کا دائرہ یہی ہے۔'' (میزان 15)
    اس کے بعد حدیث کی حجیت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    ''اِس دائرے کے اندر ، البتہ اِس کی حجت ہر اُس شخص پر قائم ہو جاتی ہے جو اِس کی صحت پر مطمئن ہو جانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل یا تقریر و تصویب کی حیثیت سے اِسے قبول کر لیتا ہے۔ اِس سے انحراف پھر اُس کے لیے جائز نہیں رہتا ، بلکہ ضروری ہو جاتا ہے کہ آپ کا کوئی حکم یافیصلہ اگر اِس میں بیان کیا گیا ہے تو اُس کے سامنے سر تسلیم خم کر دے۔'' (میزان 15)
    ان بیانات سے یہ حقیقت مبرہن ہو جاتی ہے کہ استاد محترم کے نزدیک حدیث و سنت دین کے معاملے میں ایک محکم حیثیت رکھتی ہیں ، لہٰذا آپ کی استاد محترم کے بارے میں یہ راے کہ وہ منکر حدیث نہیں ہیں ، بالکل در ست ہے اور اسے تبدیل کرنے کی آپ کو کوئی ضرورت نہیں ہے۔

    اب ہم رجم کے معاملے کو لیتے ہیں۔ استاد محترم رجم کی سزا کے قائل ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہ اسے سورۂ مائدہ کی آیت محاربہ کے تحت دی گئی سزا سمجھتے ہیں۔ آیت میں آئے ہوئے لفظ تقتیل کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے:
    ''آیت میں اِس سزا کے لیے 'اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا' کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن کے معنی یہ ہیں کہ اللہ و رسول سے محاربہ یا فساد فی الارض کے یہ مجرم صرف قتل ہی نہیں ، بلکہ عبرت ناک طریقے سے قتل کر دیے جائیں۔ اِس کی دلیل یہ ہے کہ 'قتل' یہاں 'تقتیل' کی صورت میں آیا ہے۔ عربیت کے ادا شناس جانتے ہیں کہ بنا میں زیادت نفس فعل میں شدت اور مبالغہ کے لیے ہوئی ہے۔ اِس وجہ سے 'تقتیل' یہاں 'شرتقتیل' کے مفہوم میں ہے۔ چنانچہ حکم کا تقاضا یہ ہو گا کہ اِن مجرموں کو ایسے طریقے سے قتل کیا جائے جو دوسروں کے لیے عبرت انگیز اور سبق آموز ہو۔ رجم، یعنی سنگ ساری بھی، ہمارے نزدیک اِسی کے تحت داخل ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے میں اوباشی کے بعض مجرموں کو یہ سزا اِسی آیت کے حکم کی پیروی میں دی ہے۔'' (میزان 612۔613)
    گویا ان کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جن زانیوں کو رجم کرایا، وہ اصلاً اوباشی کے مجرم تھے۔ غامدی صاحب رجم کی سزا کے قائل ہیں، اس میں وہ امت سے مختلف نہیں ہیں۔ وہ اس سزا کے دینے کے سبب کے طے کرنے میں فقہا سے اختلاف کرتے ہیں۔ فقہا نے جس طرح اخذ واستنباط سے یہ طے کیا ہے کہ شادی شدہ زانی کی سزا رجم ہے ، استاد محترم نے اسی طرح اخذ واستنباط سے یہ طے کیاہے کہ یہ سزا زنا کے اوباش مجرموں کو دی گئی۔ یہ ایک علمی اختلاف ہے اور اس کا انکار حدیث سے کوئی تعلق نہیں۔
    :جواب
    :تحریر


  3. #503
    Intermediate zsheikh's Avatar
    Join Date
    Jan 2012
    Location
    Kolachi
    Posts
    610
    Age
    25
    Post Thanks / Like

    Re: "Rajam" Ahadith ki Roashni Mai ☺Aur☺ GHAMDI Ka Rajam sai INKAAR

    @WatanDost
    is 3117 point mein quran ki kaun si aayat ka zikar ho raha hai. kiya yeh quran mein maujood hai ya nahi . thanks



  4. #504
    Intermediate Muslimpower's Avatar
    Join Date
    Mar 2011
    Location
    ...................
    Posts
    682
    Age
    36
    Post Thanks / Like

    Re: "Rajam" Ahadith ki Roashni Mai ☺Aur☺ GHAMDI Ka Rajam sai INKAAR



  5. #505
    Professional _pakistan's Avatar
    Join Date
    Nov 2011
    Location
    Germany
    Posts
    3,512
    Age
    28
    Post Thanks / Like

    Must a Pilgrim Woman Accompanied by a Mahram?


  6. Thanks meezan thanked for this post
    Likes Mughal1 liked this post

  7. #506
    Advanced
    Join Date
    Mar 2011
    Posts
    1,053
    Post Thanks / Like

    Re: Must a Pilgrim Woman Accompanied by a Mahram?

    He has a point ... about airhosteses what u will say about it?


  8. #507
    Regular Member
    Join Date
    Jul 2010
    Posts
    52
    Post Thanks / Like

    Re: Must a Pilgrim Woman Accompanied by a Mahram?

    religion and logic don't mix. saudi baddus wont allow it either


  9. #508
    Expert
    Join Date
    Mar 2009
    Posts
    7,027
    Post Thanks / Like

    Re: Must a Pilgrim Woman Accompanied by a Mahram?

    Quote Originally Posted by syediqbal View Post
    He has a point ... about airhosteses what u will say about it?
    What about air-hostess profession itself?

  10. Likes Temojin, biomat, jahanzaibi, WatanDost liked this post

  11. #509
    Professional
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    planeT:eartH
    Posts
    3,831
    Age
    :?
    Post Thanks / Like

    Re: Must a Pilgrim Woman Accompanied by a Mahram?

    Quote Originally Posted by atensari View Post
    What about air-hostess profession itself?
    Quote Originally Posted by reefer View Post
    religion and logic don't mix. saudi baddus wont allow it either
    Quote Originally Posted by syediqbal View Post
    He has a point ... about airhosteses what u will say about it?
    Quote Originally Posted by _pakistan View Post
    juST ANSWER THIS: IF A MUSLIM LADY CAN TRAVEL ALONE FROM CHICAGO TO KARACHI, TOU PHR HAJJ/UMRA PE JATAE HUWAE KAUNSA SHAITAN WARGALATE HN?

  12. Likes Mughal1, _pakistan liked this post

  13. #510
    Moderator simple_and_peacefull's Avatar
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    On earth
    Posts
    6,062
    Age
    100
    Post Thanks / Like
    Blog Entries
    1

    Re: Must a Pilgrim Woman Accompanied by a Mahram?

    All women are required to travel for Hajj with a Mahram. Proof of kinship must be submitted with the application form. Any woman over the age of 45 may travel without a Mahram with an organized group, provided she submits a letter of no objection from her husband, son or brother, authorizing her to travel for Hajj with the named group. This letter should be notarized.
    http://www.hajinformation.com/main/p10.htm

    http://www.hajinformation.com/main/t1505.htm

  14. Likes WatanDost liked this post

  15. #511
    Advanced
    Join Date
    May 2011
    Posts
    1,001
    Post Thanks / Like

    Re: Must a Pilgrim Woman Accompanied by a Mahram?

    bahi phir to app paint shirt may hi hajj kar lain..

    Quote Originally Posted by cefspan View Post
    juST ANSWER THIS: IF A MUSLIM LADY CAN TRAVEL ALONE FROM CHICAGO TO KARACHI, TOU PHR HAJJ/UMRA PE JATAE HUWAE KAUNSA SHAITAN WARGALATE HN?

  16. Thanks cefspan thanked for this post
    Likes Temojin, biomat liked this post

  17. #512
    Advanced
    Join Date
    Nov 2010
    Posts
    1,435
    Post Thanks / Like

    Re: Must a Pilgrim Woman Accompanied by a Mahram?

    Quote Originally Posted by cefspan View Post
    juST ANSWER THIS: IF A MUSLIM LADY CAN TRAVEL ALONE FROM CHICAGO TO KARACHI, TOU PHR HAJJ/UMRA PE JATAE HUWAE KAUNSA SHAITAN WARGALATE HN?
    Tu unkay Alone Chicago jany ko kaun Ain Islami karar daita hy ??

  18. Likes biomat liked this post

  19. #513
    Professional biomat's Avatar
    Join Date
    Dec 2008
    Location
    KARACHI
    Posts
    3,775
    Post Thanks / Like

    Re: Must a Pilgrim Woman Accompanied by a Mahram?

    Salam..
    PHIR TO JUMMAH KEE NAMAZ FAJAR MAIN PURHNEE CHAHIYAY. KIUN KAY PILOT KO FLIGHT PER JANA HAY CHICAGO..
    (Note:- As i have heard from their follower that actually JUMMAH PRAYER was in FAJAR.. Mullahs have changed to NOON time, thats why it has 2 rakats..So CALLED ISLAMIC RESEARCH) May ALLAH give them Hidayat.
    Last edited by biomat; 11-Jun-2012 at 01:34 PM.

  20. Likes Temojin liked this post

  21. #514
    Banned
    Join Date
    Jun 2012
    Location
    Brampton
    Posts
    1,631
    Age
    37
    Post Thanks / Like

    Re: Must a Pilgrim Woman Accompanied by a Mahram?

    Quote Originally Posted by cefspan View Post
    juST ANSWER THIS: IF A MUSLIM LADY CAN TRAVEL ALONE FROM CHICAGO TO KARACHI, TOU PHR HAJJ/UMRA PE JATAE HUWAE KAUNSA SHAITAN WARGALATE HN?
    Shaitan ko choro modren islam kai mujari kuch chezain shariat ka bhi hisa hoti hain. App dunya kai kanoon ko toor maroor saktay hoo lakin Allh kai bnai houay kanoon ko nahee. Aor rah gai baat iss Ghamdi ki tu iss fitnay ka ilaj ya tu goli hai ya phir wohi jo mirza tati waly ka houa tha.


  22. #515
    Banned
    Join Date
    Jun 2012
    Location
    Brampton
    Posts
    1,631
    Age
    37
    Post Thanks / Like

    Re: Must a Pilgrim Woman Accompanied by a Mahram?

    Quote Originally Posted by jahanzaibi View Post
    bahi phir to app paint shirt may hi hajj kar lain..
    Allah aison ko tafik nahee daita


  23. #516
    Advanced mrcritic's Avatar
    Join Date
    Apr 2010
    Posts
    2,416
    Post Thanks / Like

    Re: Must a Pilgrim Woman Accompanied by a Mahram?



  24. #517
    Professional WatanDost's Avatar
    Join Date
    Apr 2011
    Posts
    4,947
    Post Thanks / Like

    Re: Must a Pilgrim Woman Accompanied by a Mahram?

    حیرت ہے غامدی کی جہالت کی کوئی حد بھی ہے یا نہیں-
    چند سوال اسی غامدی کی ویڈیو سے
    ١- نبی صل الله ھو علیہ وسلم نے کب اور کہاں فرمایا ہے کہ
    "محرم کی شرط میرے زمانے تک کے لئے ہے؟"
    ٢- مکہ اور مدینہ کے راستے کون سا "جنگل" آتا ہے نام ہی بتا دے غامدی جھوٹا -
    اب حدیث پڑھیں اور اپنی "منطق" غامدی اور اس کے حواری اپنے پاس سنبھال کر رکھیں-شکریہ

    @_pakistan , @reefer , @syediqbal , @cefspan and rest











    -
    Last edited by WatanDost; 11-Jun-2012 at 02:03 PM.

  25. Thanks umairel, biomat, Temojin, cefspan, zamughal thanked for this post
    Likes KK YASIR liked this post

  26. #518
    Regular Member
    Join Date
    May 2012
    Location
    karachi
    Posts
    174
    Age
    25
    Post Thanks / Like

    Re: Must a Pilgrim Woman Accompanied by a Mahram?

    ghamdi and tahir ul qadri is FITNA.

  27. Likes zamughal liked this post

  28. #519
    Expert
    Join Date
    Mar 2009
    Posts
    7,027
    Post Thanks / Like

    Re: Must a Pilgrim Woman Accompanied by a Mahram?

    Quote Originally Posted by cefspan View Post
    juST ANSWER THIS: IF A MUSLIM LADY CAN TRAVEL ALONE FROM CHICAGO TO KARACHI, TOU PHR HAJJ/UMRA PE JATAE HUWAE KAUNSA SHAITAN WARGALATE HN?

    حج شکاگو سے کراچی تک کا سفر نہیں ہے
    شرمیلا فاروقی کے ساتھ ہوائی جہاز میں کیا ہوا تھا


  29. Likes biomat, cefspan, WatanDost liked this post

  30. #520
    Intermediate
    Join Date
    Jan 2011
    Location
    UAE
    Posts
    414
    Post Thanks / Like

    Re: Must a Pilgrim Woman Accompanied by a Mahram?

    Quote Originally Posted by syediqbal View Post
    He has a point ... about airhosteses what u will say about it?
    آپ کو غامدی کی جس بات میں وزن محسوس ہو رہا ہے وہ سرے سے ہے ہی مردود ۔
    اس کا حق یہ ہے کہ پہلے یہ ائیر ہوسٹس کا اسطرح گھر سے نکلنا کتاب اور سنت مطہرہ سے جائز ثابت کرے پھر اس سے استدلال کرے

    کسی دوسرے کے گناہ کو اپنے گناہ کا جواز بنانا کہاں کی عقلمندی اور ایمانداری ہے ۔
    .اور یہ شعبدہ باز غامدی گناہ کی دلیل گناہ سے دے رہا ہے

  31. Thanks BKKhan thanked for this post
    Likes biomat, Abdul Allah, WatanDost, zamughal liked this post

Page 26 of 43 FirstFirst ... 16 24 25 26 27 28 36 ... LastLast

Thread Information

Users Browsing this Thread

There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)

Similar Threads

  1. Maulana Tariq Jameel Threads - Collection
    By Naeem in forum Islamic Corner
    Replies: 986
    Last Post: 28-Apr-2013, 11:28 PM
  2. JAVED GHAMDI aur amriki Islam
    By WatanDost in forum Islamic Corner
    Replies: 40
    Last Post: 16-Jul-2012, 01:35 PM
  3. Replies: 0
    Last Post: 26-Mar-2011, 12:35 AM
  4. Replies: 5
    Last Post: 22-Nov-2010, 02:35 AM

Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •  
Siasat.pk Forums