وینز ویلا میں عوام سڑکوں پر نکل آئے،ہر آنکھ اشک بار،ہم سب ہوگو شاویز ہیں کے نعرے، 7روزہ سوگ کا اعلان ،دو امریکی سفارت کار ملک بدر دنیا بھر سے عالمی رہنماؤں کا خراج عقیدت،کئی ممالک میں سرکاری سطح پر سوگ،روس نے المیہ قرار دیا،شاویز مشتبہ بیماری سےشہید ہوئے ،ایران عالمی استعمار کو للکارنے والے لاطینی امریکی ملک وینز ویلا کے بہادر صدر ہوگو شاویز انتقال کرگئے۔ان کے انتقال کی خبر سنتے ہی دنیا بھر میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔وینز ویلا کے نائب صدر نکولس میڈورو نے ہوگوشاویز کی موت کا ذمہ دار امریکا کو ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے زہردیا گیا جبکہ دو امریکی سفیروں کو جاسوسی کے الزام میں ملک بدرکردیاگیا ہے۔امریکا نے الزام مسترد کردیا۔ نکولس میڈورونے کہا کہ دونوں سفیروں نے جاسوسی کرکے ہوگوشاویز کو زہر دینے میں کردارادا کیا۔سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف مزاحمت کی علامت اور عظیم انقلابی رہنما ہوگو شاویز دو سال تک کینسر کے مہلک مرض میں مبتلا رہنے کے بعد 58سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔ وینزویلا کے نائب صدر نکولس میڈورو نے بدھ کووزراء کے ہمراہ قوم سے خطاب میں ہوگو شاویز کی موت کا اعلان کیا۔اس موقع پرتمام قیادت آبدیدہ تھی۔ہوگو شاویز کے انتقال کی خبر ملتے ہی دارالحکومت کراکس سمیت ملک بھر میں لوگ روتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور غم سے نڈھال عوام دھاڑیں مار مار کر روتے رہے۔ انہوں نے شاویز زندہ باد اور ہم سب شاویز ہیں کے نعرے لگائے۔ان کی تدفین جمعے کو کی جائے گی۔ حکومت نے ملک میں 7روزہ سوگ اور 30روز کے اندر نئے انتخابات کرانے کا اعلان کیاہے۔جون 2011ء میں شاویز کے کینسر کی تشخیص ہوئی جس کے بعد کیوبا میں ان کے چار آپریشن ہوئے۔ آخری بار فروری میں اپنا علاج کراکے واپس آئے تھے تاہم طبعیت سنبھل نہ سکی اور کینسر سے جنگ میں زندگی ہار گئے۔ شاویز14سال تک صدر کے عہدے پر فائز رہے۔6دسمبر 1998ء کو پہلی بار وینزویلا کے صدر منتخب ہوئے اور ان کی ہر دلعزیز اور غریب پرور پالیسیوں کے سبب عوام نے انہیں لگاتار تین بار صدر منتخب کیا۔آخری بار انہوں نے 2012ء میں صدارتی انتخاب جیتا تاہم شدید علالت کے باعث آخری دم تک عہدے کا حلف نہ اٹھاسکے۔ شاویز نے اپنے دوراقتدار میں غریب پرور معاشی پالیسیاں اپنائی تھیں جس کی وجہ سے سرمایہ دارطبقہ انھیں اپنا مخالف سمجھتا تھا۔ وہ سابق صدر جارج ڈبلیو بش کی انتہا پسندانہ اور جنگ پسندی پر مبنی جارحانہ پالیسیوں کی شدید مخالفت کرتے رہے اور ایک مرتبہ اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئےبش کو بدبودار شخص کہنے سے بھی گریز نہیں کیا ۔ وہ اسرائیل کی فلسطین کش پالیسیوں کے بھی شدید نقاد تھے اور انھوں نے فلسطینی نصب العین کی ہر پلیٹ فارم پر حمایت کی۔شاویز کی موت پر دنیا بھرکے عالمی رہنماؤں نے انہیں خراج عقیدت پیش کیا ۔کیوبا اور ارجنٹائن نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے جب کہ لاطینی امریکا کے دیگر کئی ممالک میں بھی سرکاری سطح پر سوگ منایا جارہا ہے۔ کیوبا نے کہا ہے کہ ہوگو شاویز ایک بیٹے کی طرح ہمیشہ فیڈل کاسترو کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔برازیل کی خاتون صدر دلما رؤسف نے کہا ہے کہ شاویز کے انتقال نے انتقال نے لاطینی اور وسطی امریکا کو غم زدہ کردیا ہے۔روس نے شاویز کے انتقال کو ایک المیہ قرار دیا۔ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نےکہا کہ شاویز مشتبہ بیماری سےشہید ہوئے ہیں،انہوں نے اپنے ملک اور لوگوں کی آزادی کے لیے جان دی۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے وینزویلا کی حکومت، عوام اور ان کے خاندان سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ۔ برطانوی وزیرخارجہ ولیم ہیگ نے کہاکہ ہوگوشاویز کی موت کا سن کر انہیں دلی صدمہ پہنچا ۔امریکا کے صدر اوباما نے کہا ہے کہ ان کا ملک وینزویلا کے ساتھ تعمیری سیاسی تعلقات کا خواہاں ہے۔کینیڈا اور میکسیکو سمیت دنیا بھر کے ممالک نے وینز ویلا کے عوام سے شاویز کے انتقال کی تعزیت کی اور افسوس کا اظہار کیا
http://dunya.com.pk/index.php/dunya-meray-aagay/2013-03-07/84699#.UTgwwlfil2c









