پاکستان صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں شہر بند ہونے کے بعد لوگوں نے ’نامعلوم‘ لفظ کا استعمال کر کے ٹویٹس کرنی شروع کر دیں۔
شہر بند ہونے کے وقت ’کراچی‘ ٹوئٹر پر دوسرے نمبر پر ٹرینڈ کر رہا تھا جس کا مطلب ہے کہ کراچی پر بہت بڑی تعداد میں لوگ بات کر رہے تھے۔
ڈاکٹر شاہد مسعود نے ایک ٹویٹ میں کہا ’نامعلوم نام کراچی میں آج کل سب سے زیادہ مشہور ہے، مسٹر نامعلوم، نامعلوم بچہ، نامعلوم والد، نامعلوم محترمہ، نامعلوم حکومت وغیرہ وغیرہ‘۔
ہارون رشید نے ٹویٹ کی کہ ’اس سارے معاملے میں جو واحد نامعلوم ہے وہ حکومت سندھ ہے‘۔
سوہا خان آغا نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ’کراچی شہر کا بند ہونا سب سے تیز بند ہونا تھا، گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ بنتا ہے کہ پندرہ منٹ میں آپ کراچی کے رقبے کا شہر بند کروا لیں اور اس کا سہرا ہے نامعلوم افراد کے سر۔‘
نوربرٹ المیڈا نے ٹویٹ کی ’افواہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ نامعلوم افراد کو بدنام کرنے کے لیے کیا گیا تھا‘۔
مشہور صحافی غازی صلاح الدین نے ٹویٹ کی ’کراچی پولیس کو ان نامعلوم افراد کو بھرتی کرنا چاہیے جو شہر کو دو منٹ میں بند کروا سکتے ہیں کیونکہ پولیس دھماکے کی جگہ پر تین گھنٹے تک نہیں پہنچ سکتی۔‘
اسد منیر نے ٹویٹ کی ’نامعلوم افراد، پوشیدہ ہاتھ، غیر ملکی سازشی عناصر، ایٹمی اثاثے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ مرنے والا اور مارنے والا دونوں پاکستانی ہی ہیں۔‘
باسط اوپائی ٹویٹ کرتے ہوئے کہتے ہیں ’اور نامعلوم افراد نے تمام اہل اقتدار کو بتا دیا ہے کہ کراچی شہر کا مالک اصل میں کون ہے۔‘
حنا صفدر نے ٹویٹ کی کہ ’نامعلوم افراد حرکت میں ہیں جبکہ معلوم افراد پوشیدہ ہیں۔‘
احمر مراد نے ملائشیا سے ٹویٹ کی کہ ’عجیب مسئلہ ہے پہلے نامعلوم ڈرون کا معمہ حل نہیں ہوا اب یہ نامعلوم افراد آ گئے۔‘
کاشف عزیز نے ٹویٹ کی کہ ’نامعلوم افراد سنجیدگی سے چاہتے ہیں کہ فوج کراچی اور کوئٹہ میں تعینات کر دی جائے۔‘
اداکارہ نادیہ جمیل کہتی ہیں ’نامعلوم افراد کو نامعلوم لوگ نامعلوم جگہ لے گئے۔‘
محمد حنیف نے کہا کہ ’حقیقی صحافت کے لیے ہمیں نام لینے چاہیں‘۔
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2...rachi_rh.shtml
















