A tattoo is seen on the back of a Taliban militant who was killed during a gun battle in Peshawar December 16, 2012.
http://news.yahoo.com/photos/tattoo-...115835887.html
پشاور میں مارے گئے ایک دہشتگرد کی کمر پر بنے خوفناک ٹیٹو اور حملے کی نئی طرز کی حکمت عملی تفتیشی اداروں کے لئے ایک پہیلی بن گئی ہے۔
پشاور: ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب باچا خان انٹرنیشنل ائیر پورٹ اور پی اے ایف ائیر بیس پر دہشتگردوں کے حملے کا اختتام اتوار کے روز اس وقت ہوا جب پولیس نے باقی 5 ازبک خود کش حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔ حملہ آوروں میں سے ایک کی کمر پر بنے خوفناک ٹیٹو نے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ ٹیٹو میں دہشت کی علامت کھوپڑی اور ایک پنجے کا نشان نمایاں ہے۔ کھوپڑی پر چھ سینگ بھی بنے ہوئے ہیں۔ عام طور پراس قسم کے ٹیٹو کسی جہادی گروپ کے ارکان نہیں بنواتے تاہم کئی غیر اسلامی ممالک میں جسم پر ٹیٹو بنوانا عام بات ہے۔ حملے کے لئے بھی نئی طرز کی حکمت عملی اپنائی گئی تھی جس نے تفتیشی اداروں کو چکرا دیا ہے۔ پہلے راکٹ داغے گئے تاکہ سیکیورٹی اہلکاروں کی توجہ راکٹوں کی طرف ہوجائے۔ اس کے بعد دوسری سمت سے بڑا حملہ کیا گیا تاہم ریڈ الرٹ سیکیورٹی کے باعث حملہ آوروں کو بیرونی حفاظتی لائن سے 20 میٹر کے فاصلے پر ہی روک کر ان کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ کالعد م تحریک طالبان نے اگرچہ اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے تاہم دہشتگرد کی کمر پر بنے غیر شرعی ٹیٹو نے کئی سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ حملے کی منفرد حکمت عملی اور ٹیٹو ایک ایسی الجھی ہوئی گتھی ہے جسے تفتیشی اداروں کو سلجھانا ہو گا۔ اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہو گا کہ حملہ آوروں کی کمان کس کے ہاتھ میں تھی اور پھر اتنے حساس علاقے میں داخل ہونے اور قیام کرنے میں ان کی مدد کس نے کی۔
Source









i know bad joke







