2 Payar karnay walo ko ye zamana jeenay nahi deta...![]()
2 Payar karnay walo ko ye zamana jeenay nahi deta...![]()
ADVERTISING
Saboo thanked for this post
no personal life plz, its un ethical
why do chief justice not take suo moto on this serious issue.?
she is like his mom.come on
Dear Graag2
I agree with you partly because of a reason.
You are correct that we should not interfere in others private life but private life is only when they are not in the parliament.
If someone is representing us and enjoying on the tax money of poor people of Pakistan then I do not think that their life is personnel especially for these type of immoral activities because a leader is also ideal of many supporters.
But whatever any parliamentarian is doing within moral boundaries we should not interfere in it. We should keep in mind that moral boundaries of Pakistan are different than the moral boundaries of Western countries.
Another thing is that we are not spending money on them to waste their time on these activities.
If Hina resigns from the assembly, then whatever she do I will never take notice of it.
It is my opinion. What do you think ?
ambroxo liked this post
Waisay lagtaa hay,
Aoor galat bhee hoo saktaa hay.
Rabb nay banaaiee jorree,
Ikk annhaa tay ikk kohree.
"Saayein tOu SaaYein .. SaaYein ki Bahoo bhi ... *Ahem* *Ahem*"
Khalid liked this post
Khalid liked this post
پاکستان کی نوجوان اور شادی شدہ خاتون وزیر خارجہ جن کے حسن کے چرچے بھارتی ایوانوں میں تھرتھری پھیلاتے تھے اب انہوں نے پاکستان ایوان صدر میں بھی تھرتھری پھیلا دی ہے اور پاکستان صدر کے نوجوان بیٹے بلاول ذرداری بھی ان کے عشق میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ ایک غیر ملکی میگزین کی رپورٹ کے مطابق اس قضیے سے پاکستانی ایوانوں میں سخت کشیدگی اور سرد جنگ شروع ہوچکی ہے مگر حنا ربانی کھر اور بلاول زردداری اپنے معاشقے میں مصروف ہیں۔ واضح رہے کہ حنا ربانی کھر کی ایک بیٹی بھی ہے۔ بنگلہ دیشی جریدے بلیٹنز کے مطابق دونوں ایک دوسرے کو تحائف بھیج رہے ہیں اور عیدے اور سالگرہ کے موقع پر ایک دوسرے کو تحائف اور پیغامات بھیج کر تجدید محبت کی گئی ہے۔صدر زرداری کو ایوان صدرمیں حنا ربانی کھر اور بلاول کی ایک رومانوی ملاقات کے دوران اس بات کا علم ہوا کہ دونوں کس حد تک نکل چکے ہیں اور اس کے بعد انہوں نے دونوں کے موبائل فونز کے ریکارڈ سے بھی ثبوت حاصل کئے جو رومانوی گفتگو پر مشتمل تھے۔ رپورٹ میں کہا گیاہے کہ اس پر صدر زرداری نےمشتعل ہو کر حنا ربانی کھر کو ایوان صدر میں طلب کیا اور انہیں...اپنے بیٹے سے دور رہنے کو کہا جس پر حنا ربانی کھرنے بھی غصے کا اظہار کیا اور انتہائی سخت لہجے میں کہا کہ وہ ان کی ذاتی زندگی سے دور رہیں۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر صدر نے فورا ان کے معافی نہ مانگی تو وہ وزارت اور پی پی کو چھوڑ دیں گی۔ جب یہ بات بلاول کے علم میں آئی تو اس نے بھی پی پی اور ملک چھوڑنے کی دھمکی دی جس پر صدر کو اندازہ ہوا کہ معاملہ کہاں تک پہنچ چکا ہے۔ انتہائی باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول زرداری نے رواں برس کے آخر میں پارٹی اور ملک چھوڑنے کا پروگرام بنا رکھا ہے اور اسی عرصے میں حنا ربانی کھر کی جانب سے بھی مستعفی ہونے کا امکان ہے۔ رپورٹ مین دعوی کیا گیا ہے کہ باپ اور بیٹے کے درمیان سرد جنگ گہری ہوتی جارہی ہے اور دوسری جانب حنا ربانی کھر نے بھی اپنے شوہر فیروز گلزار سے طلاق لینے کے لئے بات چیت شروع کردی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حنا ربانی کھر اپنے شوہر کے دوسری عورتوں سے تعلقات پر دل برداشتہ تھیں اور جیسے ہی بلاول نے انہیں سہارا دیا وہ جھولی میں آ گریں۔ کہا جا رہا ہے کہ دونوں پریمی شادی کر کے سوئیٹزر لینڈ میں مقیم ہونے کا سوچ رہے ہیں۔
There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)