محترم وڑائچ صاحب! ایک طویل عرصہ تک آپکے خیالات پڑھتے رہنے کے بعد آج ایک سوال کا مُرتکب ہوا چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔ اُمید ہے شفقت فرمائیں گے۔http://www.siasat.pk/forum/showthrea...=1#post1016339
کیا پروردِگار نے کارخانہِ ہستی یہود و نصاریٰ کو ٹھیکے پر دے دیا ہے کہ ہر کام وہی کر رہے ہیں؟
کُچھ بھی سیدھے طور سے نہیں ہو رہا سب ایک بڑی سازش اور گیم پلان کا ہی نہ سمجھ میں آنیوالا کوئی رُخ ہے ۔ ۔ ۔ ۔
اور اُنکی سازشوں کو اِسقدر مؤثر طور سے پھیلانا کہ یہودو نصاریٰ کی دھاک بیٹھ جائے کہیں یہ بھی اُنہی کے ورلڈ آرڈر کا حصہ تو نہیں اور آپ بے خیالی میں اُنکا ہتھیار بن گئے ہوں۔ جی ہاں بے خیالی کہا ہے آپ پر یہودی کارندہ ہونے کا شک کرنا بھی کفرانِ نعمت سمجھتا ہوں۔
ہاں! اگر افغانستان میں امریکہ شکشت سے دو چار ہو گیا تو ایسا پہلی بار نہیں ہوگا۔ ویتنام وغیرہ میں ایسا پہلے بھی ہو چُکا ۔ ۔ ۔ بغیر کِسی مُلا عُمر کے۔ اپنے ہاں بھی ایک ٹی بی زدہ شخص اور ایک کم لباس ہِندو بغیر کوئی گولی چلائے استعمار کو بھگا چُکے لِہٰذا بظاہر ہار جیت کوئی معنی نہیں رکھتی جنگ میں شکست اور فتح سے کہیں زیادہ اہم اُسکے اثرات ہوتے ہیں۔ آپ تاریخ نورد ہیں اِتنا تو یقیناً جانتے ہونگے۔
مخترم بو ترابی صاحب! السلام و علیکم! آپ کی توجہ پانے پر بے حد مشکور ہوں. آپ کے سوالات تفصیلی جواب کے متقاضی ہیں. .... مگر کیا کروں اپنی کم علمی آڑے آ جاتی ہے. بہرحال جو بن سکا کوشش کر دیکھتا ہوں. ہر انسان چیزوں کو کسی کسوٹی پر پرکھتا ہے اور کسی نہ کسی کی رہ نمائی کی بدولت چیزوں کا تجزیہ کرتا ہے اور پھر ایک رائے قائم کرتا ہے. اور اگر اسے اپنے رہنما کی حقانیت پر یقین کامل ہو اور کسوٹی کے کھرا ہونے کا حق الیقین ہو تو پھر وہ اپنی رائے پر ڈٹ بھی جاتا ہے. بسا اوقات ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ رہ نمائی اور کسوٹی تو ٹھیک ہو مگر اس کی ذہنی صلاحیت اتنی نہ ہو کہ حقائق تک پوھنچ سکے حاص طور پر اس زمانے میں جس میں سچائی کو تلاش کرنا ایک سیاہ چیونٹی کو تاریک رات میں سیاہ پتھر پر تلاش کرنا.
جہاں تک میرے جیسے اوسط ذہنی صلاحیت کے فرد کا تعلق ہے میری رہ نمائی کا ذریعہ قران و سنت ہے اور کسوٹی میرا دین اسلام. مندرجہ ذیل پر پختہ یقین ہے
١. جتنا بڑا کام ہو گا اس کے پیچھے اتنا ہی بڑا محرک ہو گا
٢. بڑی سے بڑی قربانی کے پیچھے حق یا رحمانی قوت اور ظلم کے پیچھے باطل یا شیطانی قوت. دونوں قوتیں اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے ممکنہ حد تک بہترین صلاحیت استمال کرتی ہیں
٣. اسلام چونکہ حق ہے اس کوئی بات میری سمجھ سے بالا ہو سکتی ہے غلط نہیں
٤.قران نے جو بتا دیا ہے اور نبی پاک نے جو صحیح احادیث میں فرما دیا ہے اس کی حقانیت شک و شبہ سے بالا تر ہے
٥. انسانی عقل انتہائی محدود ہے. اور بار بار ٹھوکر کھاتی ہے
٦.خیر اور شر کی قوتوں میں معرکه آرائی ازل سے ابد تک ہے. اور آج کے دور میں حقائق کو کتنے دبیز پردوں میں چھپا کر شیطانی قوتیں کام کر رہی ہیں
٧. حق ہر حال میں غالب آیے گا
٨. قوموں کی زندگی میں وقت کا پیمانہ وسیح ہو جاتا ہے. لمحات پھیل کر دھا یوں پر محیط اور دن صدیوں پر. لہذا اس ضمن میں میری اور آپ کی زندگی شائد چند ساعتوں سے زیادہ نہ ہو. اور میری آپ کی جزا سزا کا فیصلہ زمانے کے حالات کی بنیاد پر ہو گا
بحث کو سمیٹتے ہووے محتصر ترین بات کروں گا. مگر ذہن میں رہے کے طاقتور ہونے یا اپنی سچائی پر یقین کامل ہونے کی صورت میں قوموں کا رویہ محکوم ہونے یا فکریطور پر متزلزل ہونے پر قطعی مختلف ہوتا ہے
ا. قران یہود و نصاری کے بارے میں کیا ہدایات دیتا ہے اور ان کی فطرت کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟ حاص طور پر یہود کی تمام حصلتوں پر نگاہ رہے
ب. حلا فت راشدہ میں امت مسلمہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے میں ان کا کیا کردار ہے؟
ت. یہود کا طریقہ واردات کیا رہا ہے؟
ج. یہود عیسایوں اور مسلمانوں دونوں کے دشمن ہیں. مگر وقت آنے پر مسلمانوں کو یہ دونوں اپنا دشمن گردانتے ہیں؟
چ. دور حاضر میں اسرا ئیل کا قیام ......نبی پاک کی احادیث زمانہ آخر سے متعلق ذہن میں رہیں حاص طور پر دجال کے بارے میں اور وہن سے متعلق
خ. اپنی کوتاہیوں کے سبب مسلمانوں کا دین اور سائنس سے دور ہونا اور تر نوالہ بن جانا اور کیک کی طرح تقسیم کیا جانا
د. صدیوں کی کوتاہیوں کا کفارہ دنوں میں نہیں ادا ہوتا. اسی طرح ہوتا ہے جس طرح یہود نصاری کے مسلط ہو جانے کی وجہ سے ادا ہو رہا ہے. اور سونا آگ میں تپ کر کندن ہوتا ہے.غزوہ حندق محلصین کی چھانٹی کے سلسلے میں یاد رہے...شاید آجکل کے حالت میں کچھ رہنمائی کرے
باقی رہے آپ کے سوالات تو ان کا جواب اپنی ذہنی صلاحیت کے مطابق ہی دے سکوں گا. آپ جیسے اہل علم و فہم کے معیار پر پورا اترنا شاید مشکل ہو بہر حال اپنی رائے رکھنا کا حقدار ہوں
قوموں کی زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں. اور مسلمان اس وقت اپنی کوتاہیاں بھگت رہے ہیں. الله کسی کو ٹھیکہ پر کوئی چیز نہیں دیتا جیسا کہ یہود کا نظریۂ ہے. اس کا اپنا ایک نظام ہے. موجودہ وقت بھی نہیں رہے گا. یاد رہے اپنے وقت کی طاقتور قوم کا پیمانہ اور رد عمل اس کے عقائد و نظریات اور مقاصد کے مطابق ہوتا ہے جو کہ رحمانی یا شیطانی ہو سکتے ہیں. اگر ہم موجودہ دور کو احادیث رسول کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں تو کوئی چیز معمہ نہیں رہتی بعض اوقات تو اسقدر مبرہن ہو جاتی ہیں کہ حسن نثار حود ساختہ افلاطون بھی اگلنے پر مجبور ہو جاتا ہے. ہاں، ہم حود اگر پرا پیگنڈہ کا شکار ہو کر سازشی تھیوری کے نام پر ہر حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کا حصہ بن کر کبوتر بن جائیں تو بلی تو اپنا کام کرے گی. مسلمان کی زندگی کا واحد منشاء الله کی دی ہوئی ہدایات کے مطابق اس کے نظام کا غالب کرنا ہے. جس میں سب سے پہلا قدم اسباب پیدا کرنا ہے اور پھر کامل یقین کے ساتھ اس سے مدد کا طالب ہونا
موجودہ حالات میں سب سے بڑا جہاد لوگوں کے سامنے شیطانی قوتوں کے مقاصد کو بے نقاب کرنا اور سائنس و ٹیکنا لو جی میں برتری حاصل کرنا ہے نہ کہ یہود و نصاری کا بازو بن کر ٹی ٹی پی کی طرز پر اور بے و قوف دوست کی طرح دین و ملت پر جسمانی اور فکری محاز پر حود کش حملے کرنا. اپنی ملت کا مورال گرانا اپنے آپ کو گالیاں اور کوسنے دینا اور نوجوان نسل کو شاندارعلمی و عسکری ماضی سے بے بہرہ کر کے احساس کمتری میں مبتلا کرنا. بعض الا ما شا الله ایسے فکری حود کش ہیں جو ہر وقت اس ٹوہ میں لگے رہتے ہیں کہ جھوٹا یا سچا کوئی ایسا واقعہ تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائیں جس کے سبب وہ اپنے آپ کو ترقی پسند کہلا سکیں چاہے چند ہی روز بعد وہ سوات یا کوہستان کی ویڈیو ثابت ہو. جن کی زندگی کا مقصد مغرب کو جنت ثابت کرنا ہے چاہے زخم کے نیچے کتنی مہلک پیپ ہو
کسی کی عیاری، مکاری، بددیانتی کو بے نقاب کرنا میری دانست میں اس کی دہشت و قوت کو تقویت پہنچانا نہیں ہے...جہاں بھی سلیم الفطرت لوگ موجود ہیں وہ بلا امتیاز مذھب، رنگ، ملت یہ کام کرتے آیے ہیں. البتہ ظلم، اس کی منصوبہ بندی، اور مجرموں کی کاروایوں پر پردہ ڈالنا شاید ظلم میں برابر کا شریک ہونا ہے اور اگر یہ آپ کی اپنی قوم کے خلاف ہو تو نا قابل معافی جرم. اور آج کے عظیم ترین افلاطونوں کے مطابق ما شا الله ٩/١١،٢٦/١١ سب کچھ عربوں کا کیا دھرا.....کتنی مزے کی بات ہے. ہے نا. جہاز لگنے کیسی کنٹرولڈ ڈیمولیشن ہوتی ہے
رہی بات فتح و شکست اور کامرانی و ناکامی کی تو جب ہم ہر واقعہ میں ذمہ داری محض انسانی سوچ، صلاحیت، ٹیکنا لوجی اور افعال پر ڈال دیتے ہیں اور قادر مطلق کے کردار کو کلیتہ نکال باہر کرتے ہیں تو پھرشاید بہت سی چیزیں اور واقعات آپ کی سمجھ سے بالا تر ہو جاتی ہیں. اور یہیں سے صاحبان ایمان اور صرف اور صرف دنیاوی اسباب پر بھروسہ کرنے والوں کا فرق شرو ع ہوتا ہے. حضرت علی اور خیبر کا دروازہ بھی. غزوہ حندق و حنین بھی، شہادت حسین بھی ...... .......اور دور جدید میں قیام پاکستان کا معجزہ بھی جب امت اپنی کوتاہیوں کے سبب اپنے ممالک کو دشمن کے ڈائننگ ٹیبل پر اشیاۓ خرد و نوش کی طرح تقسیم کروا چکی ہو . آجکل مسلمانوں کا ایک دوسرے کا گلا کاٹنے کے عذاب میں مبتلا ہونا بھی. جدید ترین اسلح سے لیس ہونے کے باوجود دنیاوی سپر طاقتوں کا بے سرو سامان افغانوں کے سامنے ناک سے لکیریں نکالنا بھی
Note: I hope forum members input shall be very rewarding for me.









. U are done. Islam is not a religion. It is a way of life, a "Deen". A guide from our very birth to grave. In its very nature it cannot be separated from our daily life.When we shall give Islam on "contract" to a group of select people like the Christians did then we shall face different interpretations as per the vested interests of the "contractors". And it is punishment we are suffering from.
Khair Bro.
