ایسی بہت سی ، سازشی یا تصوراتی کہانیاں ، کہنے ، سننے کے لیے ، ہر وقت دستیاب رہتی ہیں ، صرف مشرق ہی نہیں مغرب میں ، بھی ایسی بہت سے وہمی اور جنونی بستے ہیں ،
مگر سب سے تلخ حقیقت ، یہی ہے کہ ، ایمن الزواہری ، اور اسامہ بن لادن ، اس "کارنامے" کو قبول کر چکے ہیں ، اور بارھا ، وہ اس واقعے کی تمام تر زمہ داری ، کا اقرار کر چکے ہیں ، یہ ممکن ہے کہ ، تمام تر کاروائی ، امریکی حساس اداروں کے علم میں ہو ، اور وہ ہی ، اسکے بنیادی معاون ہوں ، لیکن اس بات میں شک نہیں ہونا چاہیے ، کہ ، کندھا ، جذبہ ، خوں اور افراد ہمارے ہی ، اس کام میں استعمال ہوے ،
لہٰذہ ، ساری کہانی ، میں ، آغاز ، حقایق سے کیا جانا چاہیے ، وہ حقایق جو درست اور ثابت شدہ ہیں ، پھر بہت سے تانے بنے بنے جا سکتے ہیں ،
کسی زمانے میں ، صدام کا کویت پر حملہ ، امریکی اس منصوبے سے آگاہ تھے ، ہم مجاہد اسلام ، صدام حسین ، کے نعرے میں ، مست رہے ، اور امریکہ ، نے اس سارے قصے سے ، اپنا کام نکل لیا ، پھر پاکستان میں ، جنگجو گروپوں کی تربیت اور فنڈنگ ، یہ بھی ، مشترکہ ، پالیسی رہی ہے ، ہمارے اور امریکی بعض اداروں کی ، جیسے ، نصیر الله بابر ، اور بینظیر بھٹو ، نے ایک مبہم اور مشکوک منصوبے کے تحت ، طالبان کو ، جنم دیا ، کیا یہ معاملہ بھی ، صرف ہمارہ ، ذاتی تھا ؟ نہیں اس میں بھی ، ہمارے "آقاؤں" کا مکمل ، تعاون شامل تھا ، پھر وہ وقت بھی اگر یاد کیا جاۓ کہ ، جب ، ہمارے بعض ، حساس اداروں کے کرتا دھرتا ، طالبان ، کو ہتھیار ڈالنے کی بجاۓ ، جنگ کرنے پر آمادہ کر رہے تھے ، کیا دنیا یا امریکی اندھے تھے ؟ جب انکا پورا وفد کابل میں جا کر ، یہ کچھ کر رہا تھا ، نہیں ، یہ بھی ، امریکیوں کی پالیسی کے تحت تھا ، کیوں کہ ، جنگ میں ہی امریکہ کا مفاد تھا ،
بھر حال ، اگر تمام حالت و واقعات کو ، کسی جذباتی یا مذہبی تعصب کے بغیر ، قریبی تاریخ کو دیکھا جاۓ تو ، بہت کچھ سمجھ آسکتا ہے ، مگر ہم ، تاریخ میں ، اپنے اپنے "بتوں" کی پرستش کرتے ہیں ، حقیقت کو نہیں سمجھتے