مین سٹریم میڈیا ہمیشہ کِسی غریب محنت کش کی بیٹی پر ظالم جاگیردار کے تشدد کی خبر فوراً سے پہلے بریک اور "کاروباری تقاضوں" کے پیشِ نظر اُس لڑکی کا با تصویر انٹرویو نشر کرنا بھی ضروری سمجھتا ہے۔ جبکہ وہ شرمائی، گھبرائی، ڈری، سہمی سی بچی اپنا مقدمہ پیش کر سکتی ہے نہ اپنے اوپر ہونے والے ظُلم کو موثر طریقے سے بیان۔
لیکن یہی میڈیا عائشہ احد کی باری اُس چابکدستی کا عملی مظاہرہ کبھی نہیں کرتا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟
شائد ظالم جاگیردار اور ظالم سرمایہ دار میں ایک فرق دولت کے اُس سانپ کا ہے جو ہمارے صحافیوں کو ہمیشہ سونگھ جاتا ہے۔ جاگیردار کا نشانہ بننے والی اُس بچی کی نسبت عائشہ احد کو بات کرنے کا ڈھنگ بھی آتا ہے اور وہ ماری ماری پھِرتی ہے کہ اُس کی بات سُنی جائے اور زمانے کو سُنوائی جائے ۔ ۔ ۔ ۔
لیکن ۔ ۔ ۔ ۔ شائد میڈیا کو ظالم سرمایہ دار کا ’’سانپ‘‘ اندر تک سوُنگھ چُکا ہے جو مارے خوف یا کِسی ملائم سی لذت کے مسرور سی چُپ سادھے لیٹے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
برائے مہربانی، یہاں سانپ کو سانپ ہی سمجھیں کِوئی مشابہہ چیز تصور کرنے سے اجتناب کیجیئے ورنہ ’’فحش خیالی‘‘ میں آپ کو بین کیا جا سکتا ہے۔