Siasat.pk Forums
   
Results 1 to 2 of 2
  1. #1
    Banned change_pakistan's Avatar
    Join Date
    Jun 2012
    Location
    Karachi, Pakistan, Pakistan
    Posts
    70
    Age
    30
    Post Thanks / Like

    عظمت باطل کےعلاج کانسخہ اکسیر

    عظمت باطل کےعلاج کانسخہ اکسیر
    ملاعبدالرحمن
    بدھ, 01 اگست 2012 19:59

    آج حالات نے پلٹا کھالیاہے۔ آج قرآن کی وہ بات حقیقت کا روپ دھارکر آفتابِ نصف النہار کی طرح افق کی اس بلندی پر بڑی چمک دمک کے ساتھ رونماہو رہی ہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں؛ ہم زمانے کو لوگوں کے درمیان الٹتے پلٹتے رہتے ہیں ۔

    میں اس خوشی کو اپنی دامن میں جلوہ گر دیکھ کر بڑا ہی شاداں و فرحاں ہوں،مسرت کی سرشاری میرے جسم میں برق ِ سما وی کی لہروں کی مانند دوڑ رہی ہے۔ اس سرور وشادمانی سے بھر آنے والے میری آنکھوں کے اشک ، آب دار موتی بن کر ٹمٹما رہے ہیں۔
    یہ تو اِک ہونے والا واقعہ تھا۔اس کا منصہ شہود پر ظہور پذیر ہونا اتنا ہی ظاہر تھا جتنا تاریک رات کی ظلمت چھٹ جانے کے بعدصبح ِپر نور کا نموار ہو نا ہے۔ عقابی نگاہ والوں نے اپنی خد ا دا د بصیرت کے جہاں نما میں اس کا نظارہ کر رکھا تھا۔ اسی لیے ان کی طبیعت بوجھل اور افکا رپریشان نہیں ہوئے اور چشم ِشپرہ کے مالکان نے با طل کی عینک لگا کر اس کا مشا ہد ہ کیا تھا، اسی لیے ان کی خاطرغبار آلو د اور خیالات زلف ِپریشان کی طرح گنجلک ہوگئے ہیں۔
    امریکا نے دھمکی دے ڈالی تھی، اس کی لہجے سے فر عونیت اور باتوں سے نمرودیت نا سور کی طرح ٹپک اور رِس رہی تھی۔ وہ طالبان کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے پر ادھار کھائے بیٹھا تھا۔ اُس نے اِس بات کے خار کھارکھے تھے کہ افغانستان کے مُلا کو وہاں کے کو ہ ودامن سے مکھن سے بال کی طرح نکال باہر کرے گا۔یہ ایک دیوانے کی بڑ تھی۔ کیوں کہ ؛ ایں خیال است ومحا ل است و جنون لیکن اس کی بدفطرتی نے اس کو اس غیردانش مندانہ فیصلے پر عمل کرنے کے لیے مجبو ر کردیا۔
    امریکا نے اس اقدام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں ساتھ نہ نبھانے والوں کو پتھر کے دور میں پہنچا دینے کی گُھرکیاں سنا سنا کر اپنی صف میں لاکھڑا کروادیاتھا۔دِنوں کی گردش نہیں لمحوں کی سر سراہٹ بتا رہی تھی کہ کچھ ہونے جارہا ہے اور پھر تیاریا ںمکمل ہو گئیں۔ بحری بیڑے بحرہند سے بحیرہ عرب میں داخل ہو کر دندنانے لگے۔ فضا میں کر گسوں کی پر واز تیز تر ہوگئی۔ اس نازک موڑ پر پہنچنے کے بعدمیرے وطن کے درودیش اور بے تاج بادشاہ کو ایک بار پھر دا ئمی سلطنت کی پیش کش ہو ئی۔ افغانستان کی تاریکیاں ڈالر سے پھوٹتی روشنیوں سے ختم کر دینے کی آفر ہو ئی۔ پھر کیا ہوا؟اس کا کیا نتیجہ بر آمدہوا ؟یہ بتانے کے لیے مجھے تاریخ کے دریچے سے جھانک کراِسلام کے ایک روشن سپوت کا کردار دیکھنے کی ضرورت پیش آرہی ہے کیوں کہ اس کے بغیر مزہ نہیں ،لذت نہیں اور بات کے تشنہ تکمیل رہ جانے کی وجہ سے چاشنی نہیں ہوگی۔
    یہ بار ہویں صدی عیسوی کی 80ءکی دہائی ہے ۔مسلمانوں کی غفلت ، آپس کی خانہ جنگیو ں اور حالات سے آنکھیں پھیر لینے کے نا قابلِ معافی جرم نے ایک طوفان عظیم بر پا کر دیا تھا۔ مسلم مملکتیں دھیرے دھیرے منسوخ شدہ یہو دیت کا ضمیمہ بن جانے والی عیسائیت کے پنجہ استبداد میں چلی جارہی تھیں۔ سلطنت ِاسلامیہ پھیلنے کی بجائے آہستہ آہستہ سمٹ کر محدود سے محدود تر ہوتی چلی جارہی تھی۔ ا ہل اسلام کی آپس کی سر پھٹول نے منحوس صلیب کے دل داروں کوچیرہ دستیوں کا خوب موقع فراہم کر دیا،جس کی وجہ سے قریب تھاکہ انبیاءکی سر زمین ارضِ شام سے اسلام ،شعائر اسلام اور اہل اسلام کا نام تک یوں مٹ جاتا جیسے موت بڑے بڑے نام وروں کو بے نشان کر کے رکھ دیتی ہے ۔
    یہ وہ نازک ترین وقت تھا، جس کی نزاکت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایاجاسکتا ہے اگر اس وقت مسلمان جہاد سے منہ موڑ لیتے ،بزدلی کا لباس زیب تن کر لیتے اور بچی کچی بیداریاں نیلام کرکے خوابِ خرگوش کی گود میں سر رکھ لیتے تو آج مسلمانوں کے رِستے زخم فلسطین میں مسجد اقصی کی جگہ گرجا گھر قا ئم ہوتا ۔جہاں ہلال کے سائے تلے توحید کی بلالی اذانیں نہ گونج ہورہی ہو تیں، بلکہ صلیب کے سائے میں تثلیث کی شیطانی گھنٹےیں بج رہی ہوتیں۔
    یورپ کے پادریوں نے عیسائی نو جوانوں کو صلیبی جنگ کے نام پر اُبھارا اورسرزمین ِشام میں لاکھڑاکیا۔ صلیبی جنگ کی لہر وشدت اور شور شرابے نے یورپ کے شہنشاہوں، شہزادوں ،نوجوانوں ،فوجیوں اور بڑے بڑے نام ور شہسواروں کو بحیرہ روم کے ایشیا ئی ساحل پرلااُتارا۔انہوں نے اپنے سپہ سالارِ اعظم رچڑڈ کی قیادت میں اپنی تلواریں بلند کیں اور سلطان صلاح الدین ایوبی کو پیغام بھیجوایا:

    ہم بہت سے بادشاہ صلیب کے سائے تلے اکھٹے ہیں اور تم صرف ایک ہو۔یرو شلم سے نکل جاﺅ !ور نہ ہم تمہیں نیست ونابودکر دیں گے۔ فرزند ایشیاءسلطان صلاح الدین ایوبی نے شمشیر بے نیام کے قبضے پر ہاتھ جمایا اور جواب بھیجا:

    یرو شلم (موجودہ بیت المقدس) تو خیر حوالے نہیں کریں گے، میرے ایشیاءسرزمین اپنا وسیع دامن تم یورپیوں کی گاجر مولی کی طرح کٹ جانے والی لاشوں کو مدفن کے طور پر خیرات کے نام پر دینے کو تیار ہے۔
    پھر دنیا نے دیکھا ، جب مسلما نوں نے اتحاد کر کے یلغار کی اور چلائی تو خوش بخت صلیبیوں کی قبریں تو ان کی خواہش کے عین مطابق ایشیا ہی کی مٹی میں بنیں اور باقی نصیب جلوں نے جب سلطان ایوبی کی کاٹ دار شمشیر کے کرتب دیکھے تو موت کے خوف سے ایسے دُم دبا کر بھاگے کہ پیچھے دیکھنے کا نام تک نہ لیتے تھے اور پھرواپس یورپ جاکر ہی سکون کی سانس لی۔ کہاں یر وشلم ہتھیا نے کی فکراور کہاں زندگی بچانا بھی مشکل ہوگےا !
    قارئین ! ہم نے تاریخ کا جو جھر وکا کھولا ہے اور اس سے تاک کر اسلام کے12 ویں صدی کے جس رورشن کردار کی منظر کشی کی ہے آیئے! اسی کے تناظر میں آج 21ویں صدی کے راہ نما ئے مسلما نانِ عالَم کے درخشاں کردار کی تصوےر کشی کرتے ہیں۔

    جب امریکا کے صلیبی جنگ کے جنون نے اس کو افغانستان کی سرحد پر لاکھڑکیا تو بندرنما بش بڑے ہی متکبرانہ لہجے میں گویا ہوا:

    ارے اوافغانی مُلا!ہم 42 ممالک کے نیٹونامی اتحاد کے ہمراہ افغانستان کے دروازے پرآکھڑے ہوئے ہیں ا ور یادرکھو! آج روسوالی صورتِ حال با لکل نہیں ہے، بلکہ آج فضاءمیں خلا میں اور ہوا میں ،میراہی راج ہے۔ ہرطرف میرے ہی کر گس اڑانیں بھر رہے ہیں۔ ہر طرف میراہی طوطی بول رہا ہے۔ اور یاد رہے !تم اکیلے ہو۔ لہذا کابل ہمارے حوالے کردو۔۔۔۔!
    سبحان ﷲ!قربان جاﺅں امیرالمومنین ملا محمد عمر مجاہد حفظہ اﷲ کے ایمان افروز جواب پر۔ وہ بھی 12ویں صدی کے سلطان صلاح الدین ایوبی کے 21ویی صدی کے روحانی بیٹے ہیں ۔وہ بھی تو فرزندایشیاہیں۔ آخر اہل دانش وفکر نے انہیں عمر ثالث کا لقب دے رکھا ہے۔ مشرقیوں کی غیرت حمیت اور حریت توان میں کوٹ کوٹ کر بھر ی ہوئی ہے۔لہذا فرمانے لگے: ارے کیا بات ہے؟کبھی امریکا اپنی رعونت دکھاتا ہے ، کبھی برطانیہ اپنے مغرور ہونے کا اظہار کرتا ہے،کبھی کوئی نمرودیت کا شورمچاتا ہے اور کھبی کوئی قا رونیت کا لہجہ لیے گلا پھاڑ پھاڑ کر تکبرا نہ انداز کا اظہار کر رہا ہو تا ہے ۔آجاﺅ ! روس کی طرح تمہاری زمینی خدائی بھی مٹی میں ملادیں تا کہ نہ رہے گا بانس ،نہ بجے گی بانسری ۔
    پھر اہل دنیا نے خود ہی دیکھا، امریکاکی طرف سے بھڑ کائی ہوئی اس بے نام جنگ کی آگ سے اس کے اپنے ہی بے شمار فوجی جھلس کر خاکستر ہو گئے۔ طیارے زندوں کو سفر کرانے کے بجائے مُردوں کو فضا میں گھمانے پھیرانے لگے ۔تابوت سازوں کا کاروبار دن دگنی رات چگنی ترقی کرنے لگا۔ لو ہے کی کباڑ مارکیٹ میں امریکی طیاروں، ٹینکوں ،توپوں اور تباہ شدہ گاڑیوں کے پرزے دھڑادھڑابکنے آنے لگے۔آخراپنے پیسوں اور اپنے پیاروں کی جا نو ں کا ضیاع دیکھ کرامریکی چیخ اور یورپی بِلک اٹھے ۔
    اس کے ساتھ ساتھ مغرب سے درآمدہ دانش بگھارنے والے وہ ، جن کی زبانیں میرے وطن کے جانباز سپاہی طالبا ن کے خلا ف بول بول کر تھکتی نہ تھیں، یوں گنگ ہو کر رہ گئیں ہیں ،جیسے بولنا سیکھاہی نہیں تھا ۔ یا ان کی ماں نے انہیں گونگا جنا ہو۔انہیں بھی سمجھ نہیں آرہی کہ اب کیا کِیا اور کیا کہا جائے ؟ انھوں نے کچھ دُشنام سنبھال نہ رکھی تھیں ،اسی لیے اب وہ خود کو کہتے ہیں؛دنیا کو کون سا منہ دکھاﺅ گے شرم تم کو مگر نہیں آتی وہ خود کو ملامت کررہے ہیں:ہائے! اب دنیاکو کیا کہیں گے؟
    اسلام کے فرزندکی عظمت کو سلام! انہوں نے امریکی فرعونیت کی ٹیکنالوجی کا بھرم توڑ کر بتادیاکہ جو بھی سلطان صلاح الدین ایوبی کا بیٹا بن کر تلوار تھام لے گاو ہی شجرِاسلام کی حفاظت کر سکے گا ۔وہی ان کی عظمت ِرفتہ واپس دِلا سکتا ہے۔ وہی امت ِمحمدیہ کی نشاة ثانیہ کر کے ان کی شوکت گزشتہ لوٹا سکتا ہے ۔اور وہی ہے وہ مجاہد جس پر ایک دنیا ناز کرتی ہے اور وہی ہے جس کی تلوار کے سائے تلے امت مسلمہ آرام کرتی ہے اور جس کا جوہر عمل پکار پکار کر بتلا رہا ہے :
    صدی ۲۱ ہو یا زمانے کی گردش اور ہند سوں کے ہیر پھیر سے وجود میں آنے والی۱۲ ویں صدی ، متحارب گروپ چاہے رچر ڈ اور سلطان صلاح الدین ایوبی کی صورت میں ہوں یا امریکا ویورپ او ر طالبان کے روپ میں اللہ کے دشمنوں کی شکست وریخت کے لیے فقط اہل بدر کا ساایما ن پیدا کر نے کی ضرورت ہے۔ پھر مسلمان کی نصر ت اور کافر کی ر خصت کے لیے فرشتے آسما نوں سے اتر آئیں گے۔
    بخدا! یہی وہ نسخہ اکسیرہے جس کو قرآن نے یوں بیان فر مایا: اور تم ہی سر بلند رہو گے، اگر تم ٹھیک ٹھیک ایمان دار رہے ۔کیوں کہ
    یہ عظمت ِ باطل دھوکا ہے، یہ قوتِ کافر کچھ بھی نہیں

    مٹی کے کھلونے ہیں سارے، یہ کفر کے لشکرکچھ بھی نہیں



    ADVERTISING



  2. Likes wadaich, zeshaan, jahanzaibi liked this post

  3. #2
    Advanced
    Join Date
    May 2011
    Posts
    1,003
    Post Thanks / Like

    Re: عظمت باطل کےعلاج کانسخہ اکسیر

    Abhi thori hi deer may tammam Internet American Agent ya sabit karnay lageen gay kay America ko aik wazah fatah hasil ho gai hay.. aur us nay apnay tammam target acheive kar lia hain.. aur ya taliban islam dushman hain.


Thread Information

Users Browsing this Thread

There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)

Similar Threads

  1. Replies: 12
    Last Post: 26-May-2012, 09:44 PM
  2. Replies: 13
    Last Post: 28-Apr-2012, 08:29 PM
  3. Replies: 2
    Last Post: 30-Oct-2011, 05:39 AM
  4. جماعتِ اسلامی اور طالبان کا ایک مؤقف
    By Ammad Hafeez in forum Siasi Discussion
    Replies: 3
    Last Post: 07-Jun-2011, 09:31 AM

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •  
Siasat.pk Forums