اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آج دنیا بھر سے آے ہوے حجاج اکرام کے لیے بے انتہا سہولتیں میسر ہیں
دوسری طرف عجیب بات یا کچھ حد تک افسوس ہوتا ہے کہ حرم مقدس کے اطراف بلند و بالا عمارتیں تعمیر ہو گئیں ہیں اور وہ اتنی مہنگی ہیں کہ لگتا ہے کہ عنقریب صرف امیر لوگ ہی حج و عمرہ کے لیے آ سکیں گے
غریب ممالک سے آے ہوے مسلمان کہاں قیام کریں گے
حرمین ہمیشہ سے ہی تجارت کا مرکز رہا ہے ، اور حجاج اکرام اپنے ساتھ تجارت کا سامان بھی لاتے رہے ہیں ، آج یہ ہی تجارت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے
انسان کی فطرت میں دنیا داری غالب رہتی ہے اس لیے اکثر حجاج حرام میں زیادہ وقت گزارنے کے بجائے بازاروں میں گھومتے پھرتے ہیں
پھر بھی الله کی رحمت ہر طرف برستی محسوس ہوتی ہے