جامعہ علویہ حیدریہ کے مہتمم اور اہلسنت والجماعت (سپاہ صحابہ) ضلع چکوال کے سینئر نائب صدر قاری سعید احمد علوی کے خلاف قائداعظم کالونی راولپنڈی کی خاتون فرح بی بی کی مدعیت میں راولپنڈی تھانہ صدر بیرونی میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ قاری سعید اسے فون پر تنگ کرتا تھا اس نے گھر والوں کو بتا کر قاری سعید کو گھر بلوایا اور پولیس کے حوالہ کر دیا، جس پر راولپنڈی پولیس نے قاری سعید کے خلافدفعات 25 ڈی، 452 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ منگل کو پولیس نے انہیں مقامی عدالت میں پیش کیا، جس پر عدالت نے انکا جوڈیشنل ریمانڈ دیا۔ بعد ازاں ضمانت کی درخواست کی سماعت کے پہلے روز عدالت نے قاری سعید کو اڈیالہ جیل بھجوا دیا، اگلے روز انکی ضمانت منظور ہوگئی۔ دوسری طرف قاری سعید کیس کی مدعیہ فرح ناز بی بی نے تلہ گنگ اپ ڈیٹس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ شخص پانچ ماہ سے فون پر تنگ کر رہا تھا، قاری سعید کو گھر بلانے سے قبل ہم نے اہل محلہ کو آگاہ کر دیا تھا کہ جو شخص فون پر تنگ کرتا ہے اسے آج بلایا ہے، اہل محلہ بھی اس بات کے گواہ ہیں کہ مذکورہ شخص ہمارے گھر آیا ہے اور پولیس نے اسے گرفتار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قاری سعید کے موبائل کا ریکارڈ نکلوایا جائے تو سب سامنے آ جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک غریب عورت ہے اور اس نے دکان بنا رکھی ہے، وہ خود مزدوری کرتی ہیں، انکا بیٹا جیل میں قید ہے۔ انہوں نے کہا کہ قاری سعید کے نائب کی طرف سے اغوا کی کہانی جھوٹی ہے، ایک عورت کیسے مرد کو اغواء کرسکتی ہے، ہم نے اپنی گلی میں قاری سعید کو بلانے سے قبل سب کو بتا دیا تھا کہ آج ہم نے موبائل پر تنگ کرنے والے کو بلایا ہے۔ قاری سعید کی گرفتاری کی خبر نشر کرنے پر سپاہ صحابہ کے نامعلوم دہشتگردوں نے تلہ گنگ اپ ڈیٹس ٹیم کو دھمکیاں دیں کہ خبر کیوں نشر کی؟ گھر کا پتہ دو ہم آ رہے ہیں؟ تلہ گنگ میں رہتے ہو کچھ بھی ہوسکتا ہے، قاری سعید کے خلاف خبریں دینے سے باز آ جاو ورنہ نقصان ہوسکتا ہے۔ ایک کالر نے کہا کہ قاری سعید ہمارے دوست ہیں، ان کے خلاف خبریں مت لگاو، ورنہ تلہ گنگ کے رہائشی ہو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ تلہ گنگ، چکوال، پنڈی گھیب، خوشاب، لاوہ، ٹمن، اسلام آباد و دیگر علاقوں سے لوگ گرفتاری کی تصدیق کرتے رہے، بعض ٹیلی فون کالرز نے قاری سعید کی گرفتاری کو سازش قرار دیا اور کہا کہ قاری سعید ایک معزز شخصیت ہیں، ان کے خلاف سازش کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز سے بات کرتے ہوئے خبر نشر کرنے والے تلہ گنگ اپ ڈیٹس کے انچارج ممتاز نے بتایا کہ انہیں مسلسل ٹیلی فون کے ذریعہ دھمکیاں مل رہی ہیں۔ فون پر ایسی گالیاں بکی جا رہی ہیں جنہیں زبان پر نہیں لایا جاسکتا، افسوس کا مقام ہے کہ میڈیا اس اہم ایشو کو نہیں اٹھا رہا۔ منگل کو پولیس نے قاری سعید کو مقامی عدالت میں پیش کیا، جس پر عدالت نے انکا جوڈیشنل ریمانڈ دیا۔ بعد ازاں ضمانت کی درخواست کی سماعت کے پہلے روز عدالت نے قاری سعید کو اڈیالہ جیل بھجوا دیا، اگلے روز انکی ضمانت منظور ہوگئی، آج کسی بھی وقت قاری سعید کی رہائی کا امکان ہے۔
—
![]()








— 

.


