ایسے بہت سے جرایم اور جذباتی حرکتوں کا تعلق مذھب سے نہیں ہوتا ، ایسے معاملات کا تعلق ، ہمارے کلچر اور روایات سے ہے ، جب پاکستان ، معاشرے میں ، موجود مختلف ، مسالک ، قومیتوں ، مذاہب ، کی سماجی زندگی پر نظر ڈالیں تو ، ہمیں ، ہر جگہ پر ، بہت سے تضادات نذر آئین گے ، کبھی ایسا نہیں سنا کہ ، پسند کی شادی کرنے پر ، "لڑکے" کے بھائی نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا ، قتل صرف بہن کو ہی کیا جاتا ہے ، کبھی کسی "مرد" کو بد کردار نہیں کہا جاتا ، کردار بس عورت کا ہی ڈسکس ہوتا ہے ، ہر گھر ، ہر محفل ، ہر شادی میں ، گانا ، موسیقی ، لازم ملزوم ہیں ، مگر ، موسیقاروں کو انتہائی آخری درجہ کا شہری بنا کر "میراثی" کہا جاتا ہے ، اور گانے والی عورتوں کو "رنڈی" کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے ، ہر مرد محبت کرنا چاہتا ہے ، مگر یہ حق صرف وہ اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے ، اپنی بہن کو نہیں دے سکتا ، ہر محبت میں ، ایک مرد کے ساتھ دوسسری عورت ہوتی ہے ، وہ بھی تو کسی نہ کسی گھر کی "غیرت" ہوتی ہے ، مگر روایتی غیرت مند تیسری دنیا کے مرد ، کی غیرت کا محور بس اسکی "تحویل" میں رہنے والی عورت ہے ،
ان تمام واقعات و حالات میں ، جذباتیت ، جہالت کا عمل دخل ہے ، نہ کہ ، ہمارا مذہب ایسے "تھرلرز" کی اجازت دیتا ہے ، کم و بیش بلکل ایسے ہی واقعات اکثر ہمارے پڑوس بھارت میں بھی رونما ہوتے رہتے ہیں ، اسس مماثلت کی وجہ ، دونوں پڑوسی ملک میں ، تعلیم ، معاشرتی مسائل ، سیاسی ماحول ، ایک جیسے ہی ہیں ،