یورپ کی یہودی اور مسلمان تنظیمیں ایک معاملے پر متحد ہوگئی ہیں اور انہوں نے مل کر ہی آواز اٹھائی ہے۔
یورپ کی یہودی اور مسلمان تنظیموں نے مشترکہ طور پر جرمنی کے قانون سازوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بچوں کی ختنہ کے حق کا تحفظ کریں۔پچھلے ماہ کولون کی ایک عدالت نے حکم دیا تھا کہ صرف مذہبی بنیادوں پر نوزائیدہ بچوں کی ختنہ سنگین جسمانی نقصان کے برابر ہوتی ہے۔ اس فیصلے کے بعد جرمن میڈیکل ایسوسی ایشن نے قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے تمام ڈاکٹروں سے کہا تھا کہ وہ بچوں کی ختنہ نہیں کریں۔سوائے اس کے کہ جب یہ عمل طبی طور پر ضروری ہو۔
یہودی اور مسلمان گروہوں نے کہا ہے کہ ختنہ ان کی عقائد کی بنیادوں میں سے ہے اور اسے قانون تحفظ ملنا چاہیے۔
جرمنی میں ہر سال ہزاروں مسلمان اور یہودی بچوں کی ختنہ کروائی جاتی ہیں۔
یہوری اور مسلمان تنظیموں کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا وہ اپنی اس روایت کا بھرپور دفاع کریں گے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ جرمنی کی پارلیمان اور تمام سیاسی جماعتوں سے عدالت کے اس فیصلے کو کلعدم کروانے کے لیے استدعا کریں گے۔
بی بی سی کے نامہ کے مطابق جرمنی کی حکومت واضح طور پر اس فیصلے سے پریشان ہے خاص طور پر اس طرح کے الزامات کے بعد کہ اس ملک میں جہاں ’ہولوکاسٹ‘ یا یہودی کا قتل عام کیا گیا اب وہاں ان کے بنیادی عقائد کو ُغیر قانونی قرار دیا جا رہا ہے۔
ختنہ کے بارے میں کولون کی جس عدالت نے فیصلہ دیا اسے کے سامنے ایک چار سالہ لڑکے کا معاملہ پیش کیا گیا تھا جس کی ختنہ کے بعد طبی مسائل پیدا ہو گئے تھے۔ عدالت نے کہا کہ بچوں کا جسمانی تحفظ مذہب اور والدین کے حقوق سے زیادہ اہم ہے۔
http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2012...europe_a.shtml













