"Asfandyar Wali Khan [Official]" at his FB page over resumption of NATO Supply.امریکہ نے تو آٹھ ماہ کے مسلسل انکار کے بعد چوبیس پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے پاکستان سے معافی مانگ لی ہے جس کی ضرورت بھی نہیں تھی کیونکہ فوجی وطن پر مرنے کے لئے بھرتی ہوتے ہیں امریکہ نے آئندہ کے لیے وعدہ کیاہے کہ دوبارہ یہ غلطی نہیں دہرائی جائیگی۔ تاہم ایک اہم سوال جو پاکستان میں کوئی نہیں پوچھ رہا کہ درجنوں کی تعداد میں کنٹینرز کے جو بے گناہ ڈرائیورز ، کنڈکٹرز اور دیگر عملہ کو پاکستانی سڑکوں پر قتل کیا جاتا رہا ہے اور ان کے ٹینکرز کو جلایا جاتا رہا ہے کیا ان کی ذمہ داری قبول کر کے کوئی امریکہ کی طرح ان کے غریب خاندانوں سے بھی معافی مانگے گا ؟
Whats your take on his empty head's precious thoughts
کیا ٹینکرز پر حملوں میں مرنے والے ڈرایؤرز اور کنڈیکٹرز کے خاندانوں سے معافی نہیں مانگنی چاہیے یا ان کا خون ہمارے ہلاک ہونیو الے فوجیوں سے مختلف تھا اور وہ اس ملک کے شہری نہیں تھے؟ فوجی تو امریکہ کے ہاتھوں مارے گئے لیکن یہ ڈرایؤرز تو اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں مارے جارہے تھے اور ہر طرف خاموشی تھی۔
بے گناہ ڈرایؤرز اور سٹاف قتل کیا جارہا تھا اور کسی کو ان کی فکر نہیں تھی۔کسی نے ان غریب ڈرایؤرز اور کنڈکٹر کے قتل پر کوئی ٹی وی شو کبھی نہیں کیا ۔
شاید میڈیا بھی ان معصوم ڈرایؤرز اور کنڈکٹرز کے دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے جانے والوں کے قتل کو اس وجہ سے بھی جائز سمجھنا شروع ہوگیا ہے کہ وہ امریکیوں کے لیے سامان لے کر جاتے ہیں لہذا ان کی سزا موت تھی۔ ان کا یہی قصور ان کے قتل کا جواز مانا جارہا ہے۔ میڈیا کا بھی وہ حشر ہوگیا ہے جو کبھی آج سے پانچ سال پہلے تھا جب طالبان نے پاکستانی فوجیوں اور سویلین پر خودکش حملے شروع کیے تھے، تو پاکستان کی بڑی آبادی کا حصہ اور میڈیا ان کو اس وجہ سے دہشت گردوں کو ہیرو سمجھنا شروع ہوگیا تھا کہ وہ سب جنرل مشرف کے طویل اقتدار اور طاقت سے تنگ تھے۔ انہوں نے ان کو ہیرو سمجھ لیا کہ دہشت گرد ہی سہی، جنرل مشرف کے خلاف مزاحمت تو کر رہے تھے۔ پوری قوم ان خودکش حملوں میں بھی ایک عجیب مریضانہ مزہ لیتی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان طالبان نے اس ملک کے چالیس ہزار شہری قتل کر دیے اور قتل کا جواز یہ ٹھہرا کہ حکومت وقت امریکہ کی پھٹو ہے لہذا اپنے شہریوں کا قتل جائز تھا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ نیٹو سپلائی کھلنے کے بعد مزید کتنے بے گناہ پاکستانی ڈرائیورز اور کنڈکٹرز سڑکوں پر اپنے کنٹینرز سمیت جلائے جاتے ہیں اور ہم سب ان کے زندہ جلنے کے نام پر تالیاں پیٹتے ہیں اور ٹی وی چینلز لایؤ شعلوں کو دنیا بھر میں دکھاتے ہیں، بغیر سوچے سمجھے کہ پاکستانی سڑکوں پر ٹینکرز پر حملوں میں کوئی امریکی تو نہیں مرتا، لیکن ہم نے اب تک ایک” مریضانہ خوشی” کے نام پر کتنے ہی اپنے غریب اور معصوم ڈرایؤرز اور کنڈکٹرز جلا ڈالے ہیں!!












, by the way my fellow colleagues of the forum are witnessed that how many times I DEMEAN the enemies of PAKISTAN, you are welcome to ask them .....

