ویسے کچھ بات سمجھ میں آرہی ہے یہ بیماری قائد تحریک کو اس وقت تک رہی جب تک وہ برطانہ چلے نہ گئے اور وہاں کی شہریت ان کو مل نہ گئی۔ اس بیماری کا نام درحقیقت ہے "ویزا یاترا ہیجان"، اس میں قائد کو ہوتا یہ تھا کہ جب کبھی انگلستان کی یاترا اور اس کے ویزے کا ذکر غلطی سے بھی قائد کے کان میں پڑ جاتا تو وہ ہیجانی کیفیت میں آجاتے تھے، اول فول بکنے لگتے چیزیں اٹھا کر تحریکی بھائیوں کے سر پر مار دیتے ﴿اس حالت میں انہوں نے ایک گملہ وسیم اختر کے سر پر توڑ دیا تھا ، اسی لیے وسیم اختر کی یہ حالت ہے﴾ اور "مے تے انگلستانی ویزا ہی لے ساں" کے نعرے لگانا شروع کر دیتے تھے۔ گو کہ ان کا ایک آپریشن ہوا تو لیکن اتنا افاقہ نہ ہوا، بلکہ آپریشن کے بعد وہ سرے سے یہ بھول ہی گے کہ وہ انسان ہیں اور انسان کا خون و گوشت کھانا ان کے لیے جائز نہیں﴿پتہ نہیں ڈاکٹر نے ان کی کیا چیز کاٹ دی تھی کہ انسانیت سے ان کا رشہ ہی ختم ہو گیا﴾ تاہم جب ان کو انگلستانی شہریت مل گئ تب سے ان کی اس ویزا یاترا میں افاقہ تو ہے لیکن روز بروز قائد تحریک کی دیگر دماغی بیماریاں زور پکٹرتی جارہی ہیں خدا خیر کرے۔
قائد کی حالت بیماری کی ایک ویڈیو
<font size="5">
قائد تحریک حالت بیماری میں گانا گاتے ہوئے
<font size="5">
گانے کے دوران بیماری کا اچانک شدید حملہ
<font size="5">