
Originally Posted by
_pakistan
hakumat nahin bhai ,Agencies mulawas hoti hain.
Bhai mazrat key saath keh raha hoon,hamary mulik kay sub say baray dushman hamray Generals aur agencies hi hain.
jub inki hakumat hoti hay ,tou sub tekh ho jata hay. jab bhi koi jamhuri hakumat aati hay ,tou ye fasad shuru ho jata hay.
http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AA%...B1%D9%86%D8%B3
تقسیم کرو اور حکومت کرو
اس میں ایجنسیوں کا ہات ہے لیکن وہ پاکستان کی نہیں دوسرے ممالک کی ایجنسیاں ہیں یہ انگریز کی فلاسفی رہی ہے مسلمانوں کے خلاف اس حکمتے عملی کا آغاز کئی سو سالوں سے ہوا ہے مگر آج تک کامیاب ہے- ایجنسیاں ہندوستان کی ہوں یا پاکستان سب اسی فلسفے کے تحت حکومت کرتی ہیں کیونکہ ان سب کی ٹرینننگ بھی انگریز نے کی ہے- مسلمانوں کی خلافت کا خاتمہ بھی ایسی فلسفے سے ہوا تھا- پختون قوم نے انگریزو کو دو دفع مکمل طور پر شکست دی لیکن ان کو بھی ایسی طریقے سے کمزور کردیا گیا اور وہ اخیر میں انگریز کے اجنسیوں میں تقسیم ہوگئے اور ادھے پختونوں پر انگریز نے حکومت قائم رکھی،وہ پختون جو آج پاکستان کے حصے میں شامل ہیں- آج اگر ہماری اجنسیاں اس مسلے میں شامل ہیں تو ان کو خود جتنا خطرہ ہوسکتا وہ اپ سوچ بھی نہیں سکتے، آج پھر وہی انگریز پاکستان کو توڑنے کے لئے وہی طریقه استمال کررہا ہے پاکستان کی طاقت کو ختم کرنے کے لئے اور آخر میں وہ اپنا اصلی چہرہ دیکھا ئینگے- اس کو سمجھنے کے لئے لیفٹننٹ کرنل تھامس ایڈورڈ لارنس کی کہانی دیکھ لیں
لیفٹیننٹ کرنل
تھامس ایڈورڈ لارنس (
16 اگست 1888ء –
19 مئی 1935ء)، جنہیں پیشہ ورانہ طور پر ٹی ای لارنس کے طور پر جانا جاتا تھا، برطانوی افواج کے ایک معروف افسر تھے جنہیں
پہلی جنگ عظیم کے دوران
سلطنت عثمانیہ کے زیر نگیں عرب علاقوں میں
بغاوت کو منظم کرنے کے باعث عالمی شہرت ملی۔ اس بغاوت کے نتیجے میں جنگ عظیم کے بعد عرب علاقے سلطنت عثمانیہ کی دسترس سے نکل گئے۔
اسلامی
خلافت کے خاتمے کے لیے عربوں میں قوم پرستی کے جذبات جگا کر انہیں ترکوں کے خلاف متحد کرنے کے باعث انہیں "لارنس آف عربیہ" بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا یہ خطاب
1962ء میں
لارنس آف عربیہ کے نام سے جاری ہونے والی فلم کے باعث عالمی شہرت اختیار کر گیا۔
1915 ء کے آخری عشرے میں جب ترک مجاہدوں نے انگریز حملہ آوروں کو ناکوں چنے چبوائے اور مارچ 1916ء کو دریائے دجلہ کے کنارے ترک کرنل خلیل پاشا نے برطانیہ کی دس ہزار سپاہ کو عبرتناک شکست دی، تو انگریزوں کو یہ احساس ہو گیا کہ وہ مسلمانوں کا میدان جنگ میں مقابلہ نہیں کرسکتے ۔لارڈ کرزن نے ہوگرتھ کے ذریعے " تقسیم کرو اور حکومت کرو" کے مشن پر عمل کرنے کی ہدایت کی ، لارنس نے عربی لباس بھی پہننا شروع کیا وہ عربی زبان اچھی خاصی جانتا تھا لہٰذا لارنس آف عربیہ کے نام سے مشہور ہوا ۔ستمبر 1911ء میں اس نے بصرہ کے ہوٹل میں جاسوسی کا ادارہ قائم کیا اور دو عرب نوجوانوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کیا ۔ ایک امریکن جاسوس یہودی لڑکی بھی اسکے ساتھ مل گئی جس نے اسکی بڑی مدد کی۔ وہ انتہائی خوبصورت تھی۔ اس نے عربی نوجوانوں پر دام حسن ڈال کر ترکوں کی بیخ کنی شروع کردی ۔انگریزوں نے لارنس کو ہدایت کی کہ وہ برلن سے بغداد جانے والی ریلوے لائن سے متعلق اطلاعات لندن پہنچائے اور ایسے افراد کا انتخاب کرے جو ضمیر فروش ہونے کے ساتھ ساتھ بااثر بھی ہوں۔ ان دنوں عراقی ریلوے لائن دریائے فرات تک پہنچ چکی تھی اور دریا پر پل باندھا جار ہا تھا۔اس پل کے قریب لارنس نے آثار قدیمہ کے نگران اعلیٰ کا روپ دھار کر کھدائی شروع کروا دی، آثار قدیمہ کی کھدائی محض بہانہ تھی اصل مقصد برلن بغداد، ریلوے لائن کی جاسوسی تھا۔ یہاں سے وہ ہر روز خبریں لکھ کر لندن روانہ کرتا رہتا ۔اپنا مقصد حاصل کرنے کیلئے اس نے مزید غداروں اور ضمیر فروشوں کی تلاش شروع کی۔ کافی تگ و دو کے بعد اس نے ترک پارلیمنٹ کے رکن سلیمان فائزی کا انتخاب کیا اور خطیر رقم کا لالچ دیکر اسکو اپنا ہم نوا بنانے کی کوشش کی ۔ فائزی نے بڑی حقارت سے اسکی پیشکش ٹھکرا دی اور دھکے مار کر لارنس کو نکال دیا۔ لارنس بڑا عقلمند اور جہان دیدہ تھا۔ اس نے سلیمان فائزی سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور کافی غوروفکر کے بعد فیصلہ کیا کہ برطانیہ کیلئے قابل اعتماد آلہ کار اور اپنے ڈھب کا غدار اسکو پڑھے لکھے، دولت مند اور سیاسی لوگوں میں سے نہیں مل سکتا اس لیے مذہب کی آڑ لینا شروع کی۔ وہ بصرہ کی مسجد میں گیا اور مسلمان ہونے کا اعلان کیا۔ عربی لباس پہن کر عرب صحرا نشینوں میں گھل مل گیا۔ لارنس نے بدوؤں میں دو لاکھ پونڈ ہر ماہ تقسیم کرنا شروع کردیئے اس نے " پونڈ" پانی کی طرح بہا کر عربوں کو اپنا مداح بنا لیا۔وہ اس کو اپنا محسن اور مربی سمجھنے لگے اور ان کی مدد سے لارنس نے گورنر مکہ حسین ہاشمی تک رسائی حاصل کر لی اور اپنی چرب زبانی اور مکارانہ چالوں سے حسین ہاشمی کو گمراہ کرنے میں زیادہ دقت پیش نہ آئی۔ پاسبان حرم کو شیشے میں اتارنے کے بعد لارنس نے اپنی پوری توجہ حسین ہاشمی کے بیٹوں عبداللہ، علی، فیصل اور زید پر مرکوز کی۔ انکو باور کرایا کہ اولاد رسول مقبولﷺ ہو کر دوسروں کی ماتحتی میں زندگی گزارنا ذلت آمیز ہے ۔ ابتداء میں تو چاروں نے لارنس کی بات پر زیادہ توجہ نہ دی مگر اپنے باپ کے پیہم اصرار پر اور لارنس کی چکنی چپڑی باتوں کے باعث ان کے دلوں میں آہستہ آہستہ ترکوں کے خلاف نفرت پیدا ہو گئی اور پھر ایک دن انہوں نے اپنے مکان کی کھڑکی سے ترکوں پر گولیاں برسانا شروع کر دیں ۔اس طرح ترکوں کے خلاف عربوں کی بغاوت کا آغاز کروا کر لارنس بڑا خوش ہوا اور لندن اطلاع دی کہ کھیل شروع ہوگیا ہے۔