[IMG]http://************************/wp-content/uploads/2012/06/deadwood.jpg[/IMG]
اور سیاسی وزیراعظم عدالت کے ہاتھوں سزا کا حقدار ٹھہرا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ قانون کی نگاہ میں واقعی مجرم ہو اور درست سزا ملی ہو۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تاریخ بھی اسے مجرم سمجھے گی یا اس سے بڑھ کر کیا عوام کی عدالت میں بھی وہ مجرم ٹھہریں گے ؟
اگر پاکستان میں تاریخی طور پر دیکھا جائے تو عدالتوں نے جن سیاسی وزراء اعظم کو سزا دی ہے، انہیں وقت نے بری کر دیا تھا اور عوام نے عدالتوں کے فیصلوں کے برعکس اپنے فیصلے سنائے اور آج تک پاکستان میں اس پر کوئی بحث نہیں ہوئی کہ آخر پاکستانی عوام عدالتوں کی طرف سے سنائی گئی سزاوں پر کیوں یقین نہیں کرتے اور پھر بھی ان لیڈروں کو اپنے کندھوں پر بٹھا لیتے ہیں جنہیں عدالتیں قاتل سے لے کر دہشت گرد اور قانون شکن تک ٹھہر چکی ہوتی ہیں۔
پاکستان میں سیاسی حکومتوں کو توڑنے کے لیے اکثر کہا جاتارہا ہے کہ سیاستدان کرپشن بہت کرتے ہیں لہذا انہیں گھر بھیجا جانا ضروری ہوتا ہے۔ بے نظیر بھٹو کی دو حکومتوں کو انہی الزامات پر توڑا گیا جب کہ نواز شریف پر الزامات اداروں سے لڑائی کے زیادہ تھے۔ تاہم اگر تاریخ دیکھی جائے تو پتہ چلے گا کہ ضروری نہیں ہے کہ کسی سیاستدان کو گھر اس لیے بھیجا جائے کہ وہ کرپٹ ہے۔ اس کے لیے کوئی بھی بہانہ ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ بھٹو کرپٹ نہیں تھے تو انہیں قاتل بنا دیا گیا۔ نواز شریف پر اگر کرپشن کے الزامات نہیں تھے تو انہیں دہشت گرد اور ہائی جیکر بنایا گیا۔ محمد خان جونیجو کے بارے میں سب کہتے ہیں کہ وہ شریف اور کرپشن فری وزیراعظم تھے تو انہیں بھی اسلام نافذ نہ کرنے کی سزا دی گئی جب وہ جنرل ضیاء کے قریبی جنرنیلوں پر اوجھڑی کمیپ پر لاپرواہی برتنے پر کارروائی کرنے والے تھے۔
اب گیلانی پر سپریم کورٹ کا حکم نہ ماننے کا الزام لگا کر اسے گھر بھیج دیا گیا ہے۔ یوں ملک میں سیاسی وزراء اعظم کو عدالتوں کے ذریعے پھانسی گھاٹ، جدہ یا برطرف کر کے گھر بھیجنا کا سلسلہ بند نہیں ہوا۔ اگر پاکستانی عدالتیں آزاد بھی ہوئی ہیں تو بھی ان کی آ زادی کی قمیت سیاستدانوں کو ہی ادا کرنی پڑی ہے۔
قانون کے نام پر قربانی کا بکرا پھر بھی ایک سیاستدان ہی بنا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا گیلانی کو پانچ سال کے لیے نااہل قرار دے کر سپریم کورٹ اور اس کے حامی مطمئن ہیں کہ ملک میں قانون کی بالادستی ہو گئی ہے اور اب ملک درست ڈگر پر چل نکلے گا؟
کیا جب بھٹو کو پھانسی دی گئی تھی تو اس وقت اس طرح کے ادارے اخبارات میں نہیں چھپوائے گئے تھے اور لمبی لمبی تقریریں نہیں کرائی گئی تھیں کہ ملک میں قانون کا بول بالا ہو گیا تھا کہ ایک وزیراعظم کو بھی موت کے گھاٹ اتارا دیا گیا تھا ؟
کیا جونیجو کی برطرفی کو جس سپریم کورٹ نے جائز قرار دیا تھا اس کے بارے میں بھی یہی کہا گیا کہ اس نے آئین کی بالادستی کوقائم کر دیا تھا ؟
اس طرح بے نظیر بھٹو کی دو حکومتوں کو توڑنے کے فیصلے کو عدالتوں نے برقرار رکھ کر بھی اپنے تئیں آئین اور قانون کی بالادستی کا نعرہ مارا تھا۔ نواز شریف کو جنرل مشرف کے کہنے پر دہشت گرد قرار دینے والی عدالت کے ججوں کو بھی داد و تحسین ملی تھی کہ آئین اور قانون کا جھنڈا اونچا ہو گیا تھا۔
تو کیا واقعی ان سیاسی وزراء اعظم کو عدالتوں سے سزا ملنے کے بعد پاکستان میں قانون کی حکمرانی ہو گئی تھی اورجمہوریت صیح معنوں میں ملک میں نافذ ہو گئی تھی ؟
کیا پاکستان میں ہر دفعہ ایک سیاسی وزیراعظم کو عدالت سے سزا ملنے کے بعد جمہوریت مضبوط ہوئی یا اس سے صرف جنرل ضیاء اور جنرل مشرف جیسے ظالم آمروں کا راستہ ہموار کیا گیا۔
یہ بات سب جانتے ہیں کہ اس ملک میں سیاستدانوں نے ہی اپنے سر کٹوائے ہیں یا جلاوطنی بھگتی ہے یا نااہلی کا سامنا کیا ہے اور جس قانون کی حکمرانی کا نعرہ مار کر سیاست اور جمہوریت کا راستہ روکا گیا اس نے اس ملک کو اندھیروں کے سوا کچھ نہیں دیا۔
یہ بات پتہ نہیں قانون کے رکھوالوں کو کب سمجھ آئے گی کہ بھٹو عدالت سے قاتل ٹھہر کر بھی آج تک نہیں مرا، نواز شریف دہشت گرد کا ٹائٹل گلے میں لٹکا کر نو برس باہر رہا لیکن آج وہ پھر ملک کے سب سے بڑے صوبے کا حکمران ہے۔ پاکستان کے ہر سیاستدان کو عدالتوں نے جیل میں بھیجا اور عجیب سے بات ہے کہ گیلانی وزیراعظم بننے سے پہلے سات سال کی سزا عدالت سے بھگت چکے تھے اور صدر زرداری دس سال تک جیل میں رہے اور پھر بھی لوگوں نے انہیں صدر بنا دیا۔
عدالتوں کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ سیاسی لیڈرشپ ان کے سزا دینے سے ختم نہیں ہوگئی۔سزا دینے سے جمہوریت مضبوط نہیں ہو گئی جیسے ماضی میں نہیں ہوئی۔ سیاستدانوں کو عوام ہی سر پر بٹھاتے ہیں اور وہی انہیں سر سے نیچے ہٹا سکتے ہیں۔ لوگوں کی رائے کا مذاق اگر قانون کے نام پر اڑایا جاتا ہے تو لوگ بھی قانون کا مذاق ان سزا یافتہ لیڈروں کو دوبارہ وزیراعظم بنا کر ان عدالتوں سے بدلہ لیتے ہیں۔ ہماری تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے لیکن ہم ہیں کہ پھر بھی اس کمزور جمہوری عمل کو چلنے دینے کی بجائے ابھی بھی قانونی کی حکمرانی کے نام پر سیاستدانوں کو نااہل کرنے کا کام جاری کیے ہوئے ہیں حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ تاریخ اور عوام کا ووٹ کبھی متنازعہ عدالتی فیصلوں کے حق میں نہیں رہا !!
بشکریہ اخبار جہاں،کراچی









