Siasat.pk Forums
   
Results 1 to 8 of 8
  1. #1
    Intermediate insaan's Avatar
    Join Date
    Nov 2011
    Location
    karachi
    Posts
    524
    Age
    25+
    Post Thanks / Like

    قانونی عدالت بمقابلہ عوامی عدالت


    اور سیاسی وزیراعظم عدالت کے ہاتھوں سزا کا حقدار ٹھہرا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ قانون کی نگاہ میں واقعی مجرم ہو اور درست سزا ملی ہو۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تاریخ بھی اسے مجرم سمجھے گی یا اس سے بڑھ کر کیا عوام کی عدالت میں بھی وہ مجرم ٹھہریں گے ؟
    اگر پاکستان میں تاریخی طور پر دیکھا جائے تو عدالتوں نے جن سیاسی وزراء اعظم کو سزا دی ہے، انہیں وقت نے بری کر دیا تھا اور عوام نے عدالتوں کے فیصلوں کے برعکس اپنے فیصلے سنائے اور آج تک پاکستان میں اس پر کوئی بحث نہیں ہوئی کہ آخر پاکستانی عوام عدالتوں کی طرف سے سنائی گئی سزاوں پر کیوں یقین نہیں کرتے اور پھر بھی ان لیڈروں کو اپنے کندھوں پر بٹھا لیتے ہیں جنہیں عدالتیں قاتل سے لے کر دہشت گرد اور قانون شکن تک ٹھہر چکی ہوتی ہیں۔
    پاکستان میں سیاسی حکومتوں کو توڑنے کے لیے اکثر کہا جاتارہا ہے کہ سیاستدان کرپشن بہت کرتے ہیں لہذا انہیں گھر بھیجا جانا ضروری ہوتا ہے۔ بے نظیر بھٹو کی دو حکومتوں کو انہی الزامات پر توڑا گیا جب کہ نواز شریف پر الزامات اداروں سے لڑائی کے زیادہ تھے۔ تاہم اگر تاریخ دیکھی جائے تو پتہ چلے گا کہ ضروری نہیں ہے کہ کسی سیاستدان کو گھر اس لیے بھیجا جائے کہ وہ کرپٹ ہے۔ اس کے لیے کوئی بھی بہانہ ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ بھٹو کرپٹ نہیں تھے تو انہیں قاتل بنا دیا گیا۔ نواز شریف پر اگر کرپشن کے الزامات نہیں تھے تو انہیں دہشت گرد اور ہائی جیکر بنایا گیا۔ محمد خان جونیجو کے بارے میں سب کہتے ہیں کہ وہ شریف اور کرپشن فری وزیراعظم تھے تو انہیں بھی اسلام نافذ نہ کرنے کی سزا دی گئی جب وہ جنرل ضیاء کے قریبی جنرنیلوں پر اوجھڑی کمیپ پر لاپرواہی برتنے پر کارروائی کرنے والے تھے۔
    اب گیلانی پر سپریم کورٹ کا حکم نہ ماننے کا الزام لگا کر اسے گھر بھیج دیا گیا ہے۔ یوں ملک میں سیاسی وزراء اعظم کو عدالتوں کے ذریعے پھانسی گھاٹ، جدہ یا برطرف کر کے گھر بھیجنا کا سلسلہ بند نہیں ہوا۔ اگر پاکستانی عدالتیں آزاد بھی ہوئی ہیں تو بھی ان کی آ زادی کی قمیت سیاستدانوں کو ہی ادا کرنی پڑی ہے۔
    قانون کے نام پر قربانی کا بکرا پھر بھی ایک سیاستدان ہی بنا ہے۔
    سوال یہ ہے کہ کیا گیلانی کو پانچ سال کے لیے نااہل قرار دے کر سپریم کورٹ اور اس کے حامی مطمئن ہیں کہ ملک میں قانون کی بالادستی ہو گئی ہے اور اب ملک درست ڈگر پر چل نکلے گا؟
    کیا جب بھٹو کو پھانسی دی گئی تھی تو اس وقت اس طرح کے ادارے اخبارات میں نہیں چھپوائے گئے تھے اور لمبی لمبی تقریریں نہیں کرائی گئی تھیں کہ ملک میں قانون کا بول بالا ہو گیا تھا کہ ایک وزیراعظم کو بھی موت کے گھاٹ اتارا دیا گیا تھا ؟
    کیا جونیجو کی برطرفی کو جس سپریم کورٹ نے جائز قرار دیا تھا اس کے بارے میں بھی یہی کہا گیا کہ اس نے آئین کی بالادستی کوقائم کر دیا تھا ؟
    اس طرح بے نظیر بھٹو کی دو حکومتوں کو توڑنے کے فیصلے کو عدالتوں نے برقرار رکھ کر بھی اپنے تئیں آئین اور قانون کی بالادستی کا نعرہ مارا تھا۔ نواز شریف کو جنرل مشرف کے کہنے پر دہشت گرد قرار دینے والی عدالت کے ججوں کو بھی داد و تحسین ملی تھی کہ آئین اور قانون کا جھنڈا اونچا ہو گیا تھا۔
    تو کیا واقعی ان سیاسی وزراء اعظم کو عدالتوں سے سزا ملنے کے بعد پاکستان میں قانون کی حکمرانی ہو گئی تھی اورجمہوریت صیح معنوں میں ملک میں نافذ ہو گئی تھی ؟
    کیا پاکستان میں ہر دفعہ ایک سیاسی وزیراعظم کو عدالت سے سزا ملنے کے بعد جمہوریت مضبوط ہوئی یا اس سے صرف جنرل ضیاء اور جنرل مشرف جیسے ظالم آمروں کا راستہ ہموار کیا گیا۔
    یہ بات سب جانتے ہیں کہ اس ملک میں سیاستدانوں نے ہی اپنے سر کٹوائے ہیں یا جلاوطنی بھگتی ہے یا نااہلی کا سامنا کیا ہے اور جس قانون کی حکمرانی کا نعرہ مار کر سیاست اور جمہوریت کا راستہ روکا گیا اس نے اس ملک کو اندھیروں کے سوا کچھ نہیں دیا۔
    یہ بات پتہ نہیں قانون کے رکھوالوں کو کب سمجھ آئے گی کہ بھٹو عدالت سے قاتل ٹھہر کر بھی آج تک نہیں مرا، نواز شریف دہشت گرد کا ٹائٹل گلے میں لٹکا کر نو برس باہر رہا لیکن آج وہ پھر ملک کے سب سے بڑے صوبے کا حکمران ہے۔ پاکستان کے ہر سیاستدان کو عدالتوں نے جیل میں بھیجا اور عجیب سے بات ہے کہ گیلانی وزیراعظم بننے سے پہلے سات سال کی سزا عدالت سے بھگت چکے تھے اور صدر زرداری دس سال تک جیل میں رہے اور پھر بھی لوگوں نے انہیں صدر بنا دیا۔

    عدالتوں کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ سیاسی لیڈرشپ ان کے سزا دینے سے ختم نہیں ہوگئی۔سزا دینے سے جمہوریت مضبوط نہیں ہو گئی جیسے ماضی میں نہیں ہوئی۔ سیاستدانوں کو عوام ہی سر پر بٹھاتے ہیں اور وہی انہیں سر سے نیچے ہٹا سکتے ہیں۔ لوگوں کی رائے کا مذاق اگر قانون کے نام پر اڑایا جاتا ہے تو لوگ بھی قانون کا مذاق ان سزا یافتہ لیڈروں کو دوبارہ وزیراعظم بنا کر ان عدالتوں سے بدلہ لیتے ہیں۔ ہماری تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے لیکن ہم ہیں کہ پھر بھی اس کمزور جمہوری عمل کو چلنے دینے کی بجائے ابھی بھی قانونی کی حکمرانی کے نام پر سیاستدانوں کو نااہل کرنے کا کام جاری کیے ہوئے ہیں حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ تاریخ اور عوام کا ووٹ کبھی متنازعہ عدالتی فیصلوں کے حق میں نہیں رہا !!
    بشکریہ اخبار جہاں،کراچی
    [IMG]http://************************/wp-content/uploads/2012/06/deadwood.jpg[/IMG]

    ADVERTISING




  2. #2
    Intermediate
    Join Date
    Dec 2011
    Location
    Pakistan
    Posts
    589
    Age
    45
    Post Thanks / Like

    Re: قانونی عدالت بمقابلہ عوامی عدالت

    PM wanted to a political martyr but failed. PPP needed a political martyr badly at this time. We all know that he sacrificed his job to serve Zardari as a servant not as a PM. If Zardari is clean, why doesn’t he declare his assets and tell whole Pakistan how much wealth he has. If he is so clean, he should order by himself to PM to write letter to Swiss courts so that his name will be cleared in the history. Doesn't it show that he had robbed the country's wealth and hide in Swiss banks. Why did he prefer to confront Supreme Court decisions? History will label Yousaf Raza Gillani as the most incompetent and corrupt PM of Pakistan history who has broken all the previous corruption records.
    You can't compare ZA Bhutto case with this donkey PM. At the time of ZA Bhutto death, we all know that it’s a bad decision by SC, that's why we condemn that decision till today but this is not the case with donkey PM. You will see in the history. This term will be remembered for mega corruption, incompetency and MEMO gate in which Zardari is main actor who wanted to give this country in the official custody of USA by handing over nuclear security to US but he failed. History will tell that Zardari was a main traitor against Pakistan. This bloody dog can sell his daughters for the sake of money.

  3. Likes Usman Ahmad liked this post

  4. #3
    Intermediate mh.saghir's Avatar
    Join Date
    Jun 2011
    Location
    Gteborg
    Posts
    869
    Age
    24
    Post Thanks / Like

    Re: قانونی عدالت بمقابلہ عوامی عدالت

    @insan
    I didn't read your whole post but I want to share something from constitution of Pakistan, the recent one;

    Artcle 63 (1-g): "he has been convicted by a court of competent jurisdiction for propagating any opinion, or acting in any manner, prejudicial to the ideology of Pakistan, or the sovereignty, integrity or security of Pakistan, or morality, or the maintenance of public order, or the integrity or independence of the judiciary of Pakistan, or which defames or brings into ridicule the judiciary or the Armed Forces of Pakistan, unless a period of five years has elapsed since his release".

    I think people need to know what is written in the constitution...




  5. #4
    Intermediate mh.saghir's Avatar
    Join Date
    Jun 2011
    Location
    Gteborg
    Posts
    869
    Age
    24
    Post Thanks / Like

    Re: قانونی عدالت بمقابلہ عوامی عدالت

    this is for disqualification of a member of Majlis-e-Shoora...


  6. #5
    Expert
    Join Date
    Mar 2009
    Posts
    7,259
    Post Thanks / Like

    Re: قانونی عدالت بمقابلہ عوامی عدالت

    کس جمہوریت کی بات کر رہے ہو جس کا پتہ ہی نہیں چلتا صدارتی ہے یا پارلیمانی
    آمر کا رونا رویا جاتا نے اور آمر کے بنائے قوانین کر دھڑلے سے استعمال کیا جاتا ہے. گویا شوربہ حرام ہے اور بوٹی حلال ہے
    باپ، بیٹی، داماد، نواسہ - اسے جمہوریت نہیں آمریت کہتے ہیں
    پارلیمانی جمہوریت میں صدر غیر سیاسی، غیر جانبدار شو پیس ہوتا ہے. یہاں کیا ہو رہا، ایوان صدر سیاسی سازشوں کا اڈا بنا ہوا ہے
    عدالت نے علامتی سزا دے کر اشارہ کردیا تھا، جیسے جمہوری آمروں نے عدالت کی کمزوری سمجھا. فیملی گیٹ کا ڈرامہ رچا جو الٹا گلے پر گیا
    جمہوریت اور جمہوریہ نام نہاد جمہوری چیپمینوں کے غیر جمہوری رویے کی وجہ سے کمزور ہوئی، وڈیرے نے اکثریتی جماعت کو حکومت نہیں بنانے دی
    جمہوریت کے قتل پر جمہور نے ہمیشہ لڈیاں ڈالی اور مٹھائیاں بانٹھی
    عدالت یا آمر کو گالیاں دینے کی بجائے. سیاسی شہید بننے کے خواہش مند اپنا رویہ درست کریں

  7. Likes Za Chaudhry, brilTek, rehman1978 liked this post

  8. #6
    Advanced
    Join Date
    Sep 2011
    Location
    Peshawar
    Posts
    1,062
    Age
    48
    Post Thanks / Like

    Re: قانونی عدالت بمقابلہ عوامی عدالت

    Quote Originally Posted by mh.saghir View Post
    this is for disqualification of a member of Majlis-e-Shoora...

    مجلس شوریٰ یا پارلیمنٹ کاممبر ہی وزیر آعظم بنتاہے، اگرممبر ہی نہ ہو تو وزیر آعظم کیسے بنے گا۔



  9. #7
    Intermediate mh.saghir's Avatar
    Join Date
    Jun 2011
    Location
    Gteborg
    Posts
    869
    Age
    24
    Post Thanks / Like

    Re: قانونی عدالت بمقابلہ عوامی عدالت

    Quote Originally Posted by gorgias View Post

    مجلس شوریٰ یا پارلیمنٹ کاممبر ہی وزیر آعظم بنتاہے، اگرممبر ہی نہ ہو تو وزیر آعظم کیسے بنے گا۔

    that was my point... means when he is disqualified as a member of Parliament then he can't be a PM or anyother minister...

  10. Likes gorgias liked this post

  11. #8
    Advanced
    Join Date
    Sep 2011
    Location
    Peshawar
    Posts
    1,062
    Age
    48
    Post Thanks / Like

    Re: قانونی عدالت بمقابلہ عوامی عدالت

    یہ سیاست دانو ں کے اپنے کرتوت ہیں جن کی بنا پر وہ ایک ایک کرکے رخصت ہو جاتے ہیں۔ان ہی کی آپس کی چپقلشیں ہیں اور یہ خود ہی فوج کو دعوت دیتے پھرتے ہیں۔ضیا الحق کے مارشل لا کو اس وقت کے سب سیاستدانوں نے ویلکم کیا تھا۔ مشرف کے مارشل لا پر سیاست دان مشرف کو اپنی حمایت کا یقین دلاتے رہے۔
    سیاست دان کو ملک چلانا اور حکومت کرنا ہوتا ہے اس لیے اسے سب کے لیے رول ماڈل ہونا چاہیے۔سعدی کی ایک حکایت ہے ؛
    ایک مرتبہ نوشیروان بادشاہ اپنے لشکر سمیت شکار کے لیے نکلا ، اتفاقاً وہ نمک لینا بھول گئے، بادشاہ نے ایک دو درباریوں کو قریب کے ایک گاﺅ ں نمک لانے کے لیے بھیجا اور ساتھ ہی تاکید کی کہ نمک کی قیمت ادا کرنا، مفت ہر گز نہ لانا۔ یہ وہ دور تھا جب بازار میں سودا سلف کے ساتھ نمک کی ڈلی مفت ملتی تھی۔ درباری نے کہا حضور نمک کو بازار میں مفت ملتا ہے تو پھر قیمت کی اتنی تاکید کیوں؟بادشاہ نے جواب دیا ،اگر بادشاہ کسی گاﺅں سے مفت نمک لے گا تو اس کے ہرکارے سارے گاﺅں کی مرغیاں مفت ہڑپ کر جائیں گے۔

    ہمارے ہاں سیاستدان ہی بادشاہ ہوتے ہیں اگر وہ مثالی زندگی اختیار کریں گے، تو باقی لوگ بھی راہ راست پر آجائیں گے۔اس لیے ان سیاست دانوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ لیکن ان کو کرسی کرسی کھیلنے سے فرصت نہیں ملتی ،یہ اپنی ذمہ داریاں کیسے پوری کریں گے۔اس لیے ان کے ساتھ یہی کچھ ہوگا جس کا ذکر اس آرٹیکل میں ہے۔اور یہی قانونِ قدرت اور انصاف کا تقاضا ہے۔


  12. Likes MYCOUNTRY liked this post

Thread Information

Users Browsing this Thread

There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)

Similar Threads

  1. Replies: 3
    Last Post: 12-Feb-2012, 12:44 AM
  2. Replies: 1
    Last Post: 02-Feb-2012, 02:54 AM
  3. Replies: 5
    Last Post: 24-Jan-2012, 07:33 PM

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •  
Siasat.pk Forums