برادر محترم ہر شخص کو ہر دینی مسئلے کی دلیل کا معلوم نہ ہونا فی زمانہ شاید ممکن ہی نہیں، لیکن یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ لوگ حدیث رسول صلی اللہ وعلیہ وسلم دیکھ کر بھی محظ اپنی رائے سے کام لیتے ہیں۔ بے مقصد بحث کا شوق اس ناچیز کو بھی نہیں۔
آپ نے درست فرمایا ، دلائل کے نے نام پر دنیا کا ہر مذہب و فرقہ کچھ نہ کچھ پیش کرتا ہی ہے جو بتوں کی پوجا کرتے تھے وہ بھی اپنی دانست میں خدا کی عبادت ہی کرتےتھے اور اُن کے پاس بھی کوئی دلیل ہوگی۔ لیکن اگر محض اس بات پر حق بات کہنا اور اس پر عمل کرنا مذموم ٹہرتا تو شاید حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی بتوں کو نہ ڈھاتے کہ یہ بعض حضرات کے بقول حضرات اپنی دینی تعبیر دوسروں پر مسلط کرنا ہے۔
برادا! یہ ٹھیک ہے ایسا کوئی بھی کام کرنے سے پہلے لوگوں میں شعور و آگہی کی پیدا کرنے کی ضرورت ہے لیکن اگر لوگ اس کے بعد بھی ضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آئیں تو وہی طرز عمل مناسب ہے جو حضرت ابراہیم اور ہمارے نبیکا تھا۔
اول تو یہ میں بھی علمی اعتبار سے ایک عام انسان ہی ہوں، کوئی محدث یا عالم نہیں۔ آپ نے سوال پوچھا کہ کیا ہمارے قبریں بھی روضہ رسولکے مشابہ نہ ہونی چاہئے؟ اس کے بارے میں میں وہی کہوں گا جو کوئی بھی مسلمان تعدد ازواج کے بارے میں کسی ایسے سوال پر دے گا۔ یہ نبی اکرم
کی خاصیت تھی۔(صحیح البخاری کے اندر حدیث ہے کتاب الجنائز میں حدیث کا نمبر ہے 1244) المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالی عنہافرماتی ہیں۔۔۔
(وَلَوْلَا ذَلِكَ لَأَبْرَزُوا قَبْرَهُ غَيْرَ أَنِّي أَخْشَى أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا)''اگر اس بات کا خدشہ نہ ہوتا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کو سجدہ گاہ بنالیا جائے گا تو آپ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر بھی کھلے میدان میں ہوتی ،یعنی صحابہ کرام کے ساتھ قبرستان میں ہوتی۔
تاریخ گواہ ہے کہ اس عمارت میں ہر کوئی بغیر اجازت کے قدم نہیں رکھ سکتا تھا۔ نبی اکرمکے بعد سب سے زیادہ صحابہ کرام کی قبور کو سجدہ گاہ بننے کا اندیشہ تھا لیکن اُن کی قبور بھی کھلے میدان میں ہی بنائی گئیں، کیونکہ اس بنیاد پر کسی کی قبر پر عمارت قائم رکھنا ہمارے نبی اکرم
کی ہی خاصیت تھی۔ اور پھر اس بنیاد پر آج بعض لوگ جو قبور پر مزار تعمیر کرتے ہیں دل پر ہاتھ رکھ کر خود ہی بتائیں کیا ایسے مزارات کسی کسی شخص کی قبر تک پہنچ میں مانع ہے ؟؟













