یہ زمین خریدوں گا، یہ آسمان خریدوں گا
آسمان کے سینے پر اپنا نام لکھوں* گا
مے کدہ خریدوں گا، گلستان خریدوں گا
گلستان کے چہرے پر اپنا نام لکھوں گا
عزم عالی شان میرا ، ہاتھ آہنی میرا
راگ آہنی میرا، ساز آہنی میرا
اپنے ساز کی دھن پر سب کو میں*نچائوں*گا
عزم عالی شان میرا
کس جہاں*میں*رہتے ہو، خواب دیکھتے ہو تم
ریت کی لکیروں* پر آشیاں بناتے ہو
پائمال راہوں کو راہنما بناتے ہو
کہنہ ضابطوں کو تم پاسبان بناتے ہو
کس جہاں*میں رہتے ہو، خواب دیکھتے ہوتم
ہر اصول کی قیمت میری جیب کے اندر
ہر قماش کے پتے میری جیب کے اندر
چیخنے سے کیا حاصل، رینکنے سے کیا حاصل
اس جہان میں پیارے ، ہر کوئی بکائو ہے
مال و زر کی منڈی میں زندگی بکائو ہے
ضابطے خریدوں*گا، آئینے خریدوں گا
آئینوں*کی دھڑکن کے سلسلے خریدوں گا
کون سی ہے شے جس کے دام لگ نہیں* سکتے
ہر ضمیر بکتا ہے ، ہر خمیر بکتا ہے
میں قلم خریدوں گا ، عدلیہ خریدوں* گا
آدمی خریدوں* گا ، فیصلہ خریدوں گا
یہ زمیں خریدوں*گا، آسماں خریدوں گا
آسماں کے سینے پر اپنا نام لکھوں* گا
پاک سرزمین میری، عزم عالی شاں میرا