اس ویڈیو میں مہر بخاری اس پروگرام میں پیش آنے والے واقعات کی حقیقت بیان کر رہی ہے۔
قطع نظر کہ یہ انٹرویو پلانٹڈ تھا یا نہیں، مگر میں اس معاملے کو بنیادی طور پر ایک مختلف زاویے سے دیکھتی ہوں۔
ہر شخص کی اپنی رائے ہے اور وہ اس میں آزاد ہے.
مجھے میڈیا کے موجودہ طریقہ کار سے اختلاف ہے. میرے نزدیک انٹرویو کا پلانٹڈ ہونا یا نا ہونا سرے سے کوئی ایشو ہی نہیں ہے. بلکہ یہ ہر شہری کا بنیادی حق ہونا چاہیے کہ اگر اس پر کوئی الزام ہے تو وہ کھل کر کسی کی مداخلت کے بغیر اپنا مؤقف بیان کر سکے, اپنی مکمل صفائی پیش کر سکے-
کائنات کی تمام عدالتیں اس شہری حق کو مانتی ہیں کہ دونوں فریقین کو مکمل حق ہے کہ وہ اپنے مؤقف کو بنا روک ٹوک اور مداخلت کے کھل کر بیان کرے اور اپنی مکمل صفائی پیش کرے.
تو پھر میڈیا ایک شہری کا یہ حق کیوں غصب کرتا ہے
ر میرے نزدیک نہ تو یہ انٹرویو پہلے سے پلانٹڈ تھا، نہ یہ کوئی سازش تھی کہ جسکی دہائی عدالت عظمی نے مچائی ہوئی ہے او ر ٹی وی چینل بند کرنے کی دھمکی دے رہی ہے۔
ملک ریاض ہو یا پھر دنیا کا سب سے بڑا کرمنل ۔۔۔ انصاف یہ ہے کہ اسے اپنا مؤقف بیان کرنے کا پورا موقع ملنا چاہیے۔
اللہ تعالی نے ابلیس کو بھی موقع دیا تھا کہ وہ اپنی صفائی پیش کرے کہ اس نے سجدے سے انکار کیوں کیا۔
اگر ہم فریقین کو براہ راست اپنا مؤقف بیان کرنے اور اپنی صفائی پیش کرنے کا حق نہیں دیں گےتو پھر اینکر حضرات بادشاہ بن بیٹھیں گے اور جس طرف چاہیں گے، اس طرف عوام کو موڑ دیں گے۔










