صدر آصف زرداری کو اصلاحی خط بھیجنے کے الزام میں 3 افراد کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کر لیا گیا۔ ملزمان نے مدرسہ عربیہ خالد بن ولید نوابشاہ کے لیٹر ہیڈ پر خط لکھا اور ان میں سے ایک ملزم مدرسے کامہتمم ہے۔ خط میں لکھا گیا تھا کہ وہ خدا کے عذاب سے ڈریں اور کچھ مطالبات بھی کئے گئے تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ایوان صدر نے شکایت کی تھی کہ صدر کو دھمکی آمیز خط لکھا گیا ہے جس پر کارروائی کی گئی ہے۔ دو ملزمان سرکاری ملازم بھی ہیں، باخبر ذرائع کے مطابق، نوابشاہ ایئر پورٹ پولیس نے صدر آصف علی زرداری کو دھمکی آمیز خط بھیجنے کے الزام میں 3 افراد مولانا عبدالقدیر ڈیپر، عبدالوہاب بروہی اور عزیز احمد بھٹی کو گرفتار کرکے ان کے خلاف ایف آئی آر نمبر 111/ 2012 زیر دفعہ 124 پی پی سی۔ 501 کے تحت درج کرلی،
پولیس نے بتایا ہے کہ مذکورہ ملزمان نے نوا بشاہ ایئر پورٹ روڈ پر واقع مدرسہ عربیہ خالد بن ولید کے لیٹر پیڈ پر دھمکی آمیز خط بھیجا تھا جو بعد ازاں ایوان صدر سے تحقیقات کیلئے ڈی آئی جی حیدرآباد کے ذریعے نواب شاہ پولیس کو ملا اور پولیس نے تفتیش کے بعد مذکورہ ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق دو ملزمان مولانا عبدالقدیر ڈیپر اور عبدالوہاب بروہی اسکول ٹیچر ہیں جبکہ تیسرا ملزم عزیز احمد بھٹی چھاپہ خانے پر کام کرتا ہے ،
اس سلسلے میں ایس ایچ او ایئر پورٹ تھانہ اشرف میمن نے بتایا کہ خط 20 اپریل کو لکھا گیا تھا ، پولیس نے تفتیش کے بعد ملزمان کو جیل بھیج دیا جبکہ ملزمان اور خط پر لکھی تحریر کی تصدیق کیلئے ماہرین سے بھی مدد لی جارہی ہے۔ گرفتار ملزمان کا کہنا ہے کہ انہوں نے دھمکی آمیز خط نہیںلکھا بلکہ اصلاحی خط لکھا تھا جس میں صدر کو نصیحت کی گئی تھی۔











