یہ بابا جی یہ سمجھتے ہیں کہ اِس طریقے سے عمران اور اِس کی پارٹی کو تانگہ پارٹی ثابت کردیں گے جسطرح ماضی میں اِس سے بڑے سیاسی پنڈت ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہیں ہیں۔ تو اِس بڈھے کو کویَی یہ بتاےَ کہ جسطرح تم نے صحافت میں بال سفید کیے ہیں اُسطرح ہارون رشید اور حسن نصار نے بھی کیے ہیں اور ویسے بال سفید تو جھک مارنے میں بھی کیے جا سکتے ہیں۔ عمران نے بات کیا کردی آیَی آر آیَی کے سروے کی تم نے تو اُسکی پارٹی کو پی پی پی اور پی ایم ایل این کے ساتھ کھڑا کردیا۔ او بابا جی ٹھیک ہے آپکی عمر تھوڑی ہے [باقی کی] لیکن کچھ تو صبر کرلیں اور پی ٹی آیَی کو پرفارم تو کرنے دیں اور پی پی پی اور پی ایم ایل این جتنا نہیں تو اُس سے آدھا یا چوتھایَی موقع تو دیں۔ آپ تو لگتا ہے آگ کے تندور پر بیٹھے ہیں یہی پارٹیاں پچیس سالوں سے ملک کی ماں بہن کر رہی ہیں اُس وقت آپکا صحافتی تجربہ کیا گھاس چرنے گیا تھا یا اب بھی گھاس ہی چر رہا ہے کہ آپ پی پی پی اور پی ایم ایل این کو چھوڑ کر جب بھی موقع ملتا ہے پی ٹی آیَی کو بے وجہ نشانہ بنا شروع کر دیتے ہو۔آیَی آر آیَی کے سروے سے اور عمران کا اُس سروے کو سچ ماننے سے اور اخباروں کا اِ س سروے کو چھاپنے سے ملک اور عوام کی حالت، غربت، بے روزگاری، مہنگایَی اور زبوں حالی پر کویَی فرق نہیں پڑا تو پھر تمھارے پیٹ میں اِس سروے کے مروڑ کیوں اُٹھ رہے ہیں میں نے بھی بڑی ایمانداری سے تجزیہ کیا ہے تمھاری طرح اور مجھے یہ ہی سمجھ آیا ہے کہ یا تو تمھیں اوپر سے حکم ہے یا تمھاری جیب کی گرمایَش نے تمھیں مجبور کیا ہے یا پھر تمھیں عمران کی پارٹی سے خاص قسم کی سڑاند ہے ورنہ اب یہ کویَ بات نہیں تھی کہ آپ جیسا "تجربہ کار" اور "گھاگ" صحافی ایسی بات پر اپنے تجزیاتی گھوڑے دوڑاتا رہے ۔ اور اگر تمھارے لیے پی ٹی آیَی کا عوام میں پی پی پی اور پی ایم ایل این سے زیادہ مقبول ہونا انسان کے کتے کو کاٹنے جتنا نا ممکن ہے تو جانے دو تمھیں اِس پر اپنا وقت ضایَع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ لیکن تمھیں ضرورت ہے کیونکہ آجکل کیَی لوگوں کی صحافت کا کاروبار ہی عمران کی مخالفت کی بنیاد پر چل رہا ہے ۔ اور تم دیکھنا اور ما یَک لیکر تیار رہنا کہ اگر پی ٹی آیَ کا مقبول ہونا اِنسان کا کتے کو کاٹنے کے برابر ہے تو یہ انہونی اب تم ضرور ہوتے دیکھو گے اور انسان [عمران خان] کتے [ زرداری اور نواز] کو ضرور کاٹے گا۔










