لاہور کی صورتحال کے بارے میں میں نے کافی کوشش کی کہ تحریک انصاف کے لوگ صحیح بات بتائیں لیکن ہر ایک کا یہ دعوٰی ہے کہ تحریک انصاف لاہور میں کلین سویپ کرے گی لیکن پھر بھی کچھ معلومات ہیں جس کی تفصیل پیش خدمت ہے۔
تحریک انصاف لاہور کی اہم سیاسی شخصیات میاں محمودالرشید، ڈاکٹریاسمین راشد، عبدالعلیم خان، جمشید اقبال چیمہ، میاں اظہر، ظہیرعباس کھوکھر ہیں۔ اس وقت لاہور میں زیادہ محنت عبدالعلیم خان، جمشیداقبال چیمہ، ڈاکٹریاسمین راشد ، ظہیر عباس کھوکھر کرتے نظر آرہے ہیں لیکن یہ اپنے حلقوں تک محدود ہیں۔
لاہور کے کل 13 قومی اسمبلی اور 25 صوبائی اسمبلی کے حلقے ہیں۔
لاہور کے حلقہ 118 میں میاں اظہر نمایاں ہیں۔ میاں اظہر گزشتہ دو الیکشن ہار چکے ہیں۔ 2002 کے الیکشن میں ایم ایم اے اور جماعت اسلامی کا گٹھ جوڑ تھا جبکہ 2008 میں میاں اظہر تیسرے نمبر پر رہے۔ ملک ریاض نے 55900 ووٹ لئے جبکہ پی پی کے آصف ہاشمی نے 24712ووٹ لئے اور میاں اظہر 11075 ووٹ لے سکے لیکن آصف ہاشمی اور ملک ریاض کا ووٹ بنک کارکردگی کی وجہ سے بری طرح*متاثر ہوا ہے اور میاں اظہر کی پوزیشن اگرچہ اتنی مضبوط نہیں لیکن پہلے کی نسبت کافی مضبوط ہورہی ہے۔ اسی حلقے سے ن لیگ، پیپلزپارٹی کے کچھ دھڑے توڑنے میں کامیاب رہے ہیں۔ میاں اظہر کے بیٹے حماد اظہر بھی اسی حلقے میں اپنے والد کی نسبت کافی متحرک ہیں اور اطلاعات یہی مل رہی ہے کہ شاید میاں اظہر کی بجائے حماد اظہر الیکشن لڑیں اور پی پی 137 میں یاسر گیلانی کافی متحرک ہیں اور وہ صوبائی الیکشن لڑنا چاہتے ہیں۔
دوسرا حلقہ این اے 119 ہے۔ یہ حلقہ خواجہ سعد رفیق کا آبائی حلقہ ہے جبکہ ماضی میں اس حلقے سے نواز شریف الیکشن لڑتےرہے ہیں۔2002 میں*خواجہ سعد اس حلقے سے منتخب ہوئے لیکن 2008 میں خواجہ سعد کا حلقہ تبدیل کرکے ٹکٹ حمزہ شہباز کو دیا گیا۔ اس حلقے میں 2008 میں ق لیگ کے رکن طارق بانڈے کی وفات کے باعث الیکشن نہ ہوسکا لیکن حمزہ شہباز اس حلقے سے بلامقابلہ منتخب ہوئے۔ اس حلقے میں ولیداقبال اور میاں محمودالرشید نظر آرہے ہیں۔ ولید اقبال جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے بیٹے اور علامہ اقبال کے پوتے ہیں۔ یوسف صلاح الدین جو اس حلقے سے ماضی میں پیپلزپارٹی کی طرف سے الیکشن لڑچکے ہیں، جسٹس جاوید اقبال کے بھانجے اور اور عمران خان کے قریبی دوست ہیں۔
این اے 120 میں ن لیگ کے بلال یاسین ایم این اے ہیں۔ اس حلقے میں تحریک انصاف کی طرف سے چوہدری اصغر گجر متوقع امیدوار ہوسکتے ہیں۔ یہاں تحریک انصاف نے دفتر کھول رکھے ہیں اور آئے دن بلال یاسین اور خواجہ عمران نذیر کی طرف سے تحریک انصاف کے کارکنوں کو دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ اس حلقے میں جماعت اسلامی کی طرف سے حافظ سلمان بٹ یا امیرالعظیم ہوسکتے ہیں۔
این اے 121 سے ن لیگ کے میاں مرغوب احمد ایم این اے ہیں جبکہ تحریک انصاف کے پاس اس میاں*حارث سلیم اور میاں محمود الرشید ہیں۔ اس حلقے میں*آرائیں فیملی بڑی تعداد میں آباد ہے۔ جماعت اسلامی کی طرف سے فرید احمد پراچہ ایم این اے رہ چکے ہیں۔ جماعت اسلامی سے اتحاد کی صورت میں فرید پراچہ امیدوار ہوسکتے ہیں۔
این اے 122 میں ن لیگ کے سردار ایاز صادق ایم این اے ہیں اور یہی حلقہ عمران خان کا آبائی حلقہ ہے۔ 2002 کے الیکشن میں سردار ایاز صادق ن لیگ اور ایم ایم اے کے اتحاد کی مدد سے 37000 سے زائد ووٹ حاصل کئے جبکہ عمران خان 18638 ووٹ حاصل کئے اور دوسرے نمبر پر رہے۔ اس وقت تحریک انصاف کی پوزیشن اس حلقے میں کافی مضبوط ہے۔ اس حلقے میں ن لیگ نے مسلم ٹاؤن فلائی اوور بنایا ہے جس کے ن لیگ پر اچھے اور برے اثرات مرتب ہوں گے۔ فلائی اوور کی وجہ سے بہت سے دکانداروں کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے اور ن لیگ کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ آئندہ بھی اس حلقے سے ایازصادق امیدوار ہوسکتے ہیں۔
این اے 123 سے 2008 میں جاوید ہاشمی کامیاب ہوئے اور سیٹ چھوڑنے کے بعد ڈیڑھ سال تک اس حلقے میں الیکشن نہ ہوسکے۔ اس حلقے میں*آرائیں برادری کی اکثریت ہے۔ پرویز ملک کو آرائیں ہونے کی مناسبت سے ضمنی الیکشن کا ٹکٹ دیا گیا جبکہ تحریک انصاف نے میاں حامد معراج کو ٹکٹ دیا۔ اس حلقے سے حامد معراج دس ہزار کے قریب ووٹ لینے میں کامیاب ہوئے لیکن اس وقت اس حلقے کی پوزیشن یہ ہے کہ جاوید ہاشمی تحریک انصاف میں شامل ہوچکے ہیں۔ ن لیگ کا دعوٰی ہے کہ جاوید ہاشمی کا اس حلقے میں کوئی ووٹ بنک نہیں لیکن جاوید ہاشمی 2002 اور 2008 کا الیکشن جیت چکے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس حلقے میں اس کا اپنا اثرورسوخ بھی قائم ہوگیا ہے۔ جاوید ہاشمی کی تحریک انصاف میں شمولیت کے بعد اس حلقے سے ن لیگ کے کچھ کارکن ٹوٹ کر جاوید ہاشمی سے آملے اور دوسری بات یہ کہ حامد معراج کا بھی ووٹ بنک ہے۔ یہ حلقہ انتہائی پسماندہ حلقہ ہے۔
این اے 124 میں شیخ روحیل اصغر ایم این اے ہیں جبکہ یہ حلقہ اعتزاز احسن کا حلقہ بھی ہے۔ اعتزاز احسن کی پیپلزپارٹی کا ساتھ دینے کی وجہ سے ساکھ کافی متاثرہوئی ہے اور پیپلزپارٹی کا ووٹ بری طرح متاثر ہوگا جبکہ دوسری طرف ن لیگ کا بھی یہی حال ہے۔ اس حلقے سے جمشید اقبال چیمہ تاجر برادری میں کافی مقبول سمجھے جاتے ہیں اور اس حلقے میں کافی محنت کررہے ہیں۔ اس حلقے میں حامد خان کا بھی
این اے 126 میں تحریک انصاف کی پوزیشن بہت مضبوط ہے۔ اس حلقے سے عمر سہیل ضیاء بٹ ایم این اے ہیں جبکہ ماضی میں لیاقت بلوچ ایم ایم اے کی سیٹ سے یہاں سے منتخب ہوتے رہے ہیں۔ عمر سہیل ضیاء*بٹ نے کچھ ماہ قبل ایک پلاٹ پر قبضہ کیا اور ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے دباؤ پر اس پر مقدمہ درج ہوگیا اور حکومت پنجاب بھی کچھ نہیں کرسکی اور سننے میں یہ آرہا ہے کہ عمر سہیل ضیاء بٹ اور اس کے والد حمزہ شہباز سے ناراض دکھائی دے رہے ہیں۔ اس حلقے سے ن لیگ کے پاس ڈاکٹر سعید الٰہی ایم پی اے ہیں جبکہ رانا اعجاز بھی ایم پی اے ہیں، رانا اعجاز کی ساکھ کافی بری ہے۔ اس حلقے سے تحریک انصاف کی طرف سے ڈاکٹر شاہد صدیق خان مضبوط امیدوار سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے 2002 کے الیکشن میں 12000 سے زائد ووٹ حاصل کئے ۔سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ عمران خان بھی اس حلقے سے الیکشن لڑنا چاہتے ہیں۔ اس صورت میں ڈاکٹر شاہد صدیق ایم پی اے کا الیکشن لڑسکتے ہیں جبکہ ن لیگ مریم نواز کو اس حلقے سے لڑانا چاہتی ہے۔ اگر جماعت اسلامی سے تحریک انصاف کا اتحاد ہوتا ہے تو لیاقت بلوچ بھی مضبوط امیدوار ہوسکتے ہیں۔
این اے 127 سے عبدالعلیم خان، فاروق امجد میر الیکشن لڑنے کے خواہشمند ہیں۔ 2002 کے الیکشن میں عبدالعلیم خان طاہرالقادری سے چھوٹے مارجن سے ہارگئے لیکن طاہرالقادری کے سیٹ چھوڑنے کے بعد فاروق امجد میر ضمنی الیکشن میں منتخب ہوئے۔ 2008 میں الیکشن سے ایک دن پہلے ن لیگ کا ایک صوبائی اسمبلی کا امیدوار آصف اشرف قتل ہوگیا جس کا مدا عبدالعلیم خان پر لگایا گیا اور دوسرے دن عبدالعلیم خان بری طرح ہار گئے لیکن یہ قتل خاندانی دشمنی کا شاخسانہ نکلا اور علیم خان اس الزام سے بری ہوگیا لیکن اس وقت نواز لیگ نے پہلے اعلان کیا کہ ٹکٹ مقتول امیدوار کے بھائی یا بیوی کو دیا جائے گا لیکن کچھ دن بعد یوٹرن لے لیا اور ٹکٹ زعیم قادری کو دیدیا گیا جس کا اس حلقے سے دور دور تک واسطہ نہیں تھا۔ اس حلقے سے عبدالعلیم خان کے علاوہ عبدالکریم کلواڑ، ڈاکٹر یاسمین راشد بھی بہت متحرک ہیں۔ عبدالکریم کلوڑا تحریک انصاف کے پرانے رکن ہیں اور وہ صرف صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 153 کے امیدوار ہوسکتے ہیں جبکہ ڈاکٹر یاسمین راشد پی پی 154 کی امیدوار ہوسکتی ہیں۔ جماعت اسلامی سے اتحاد کی صورت میں سید احسان اللہ وقاص امیدوار ہوسکتے ہیں۔ اس حلقے سے بھی تحریک انصاف مضبوط ہوتی جارہی ہے۔
این اے 128 میں ن لیگ کے افضل کھوکھر ایم این اے ہیں جبکہ تحریک انصاف یہاں بہت مضبوط ہے۔ تحریک انصاف کی طرف سے ظہیر عباس کھوکھر، ان کے سسر ملک کرامت کھوکھر، عبدالرشید بھٹی، سردار عاقل عمر، سردار کامل عمر نمایاں شخصیات ہیں۔ 2008 کے الیکشن میں سردار عاقل عمر نے ق لیگ کی طرف سے 18000 سے زائد ووٹ حاصل کئے جبکہ ملک کرامت کھوکھر نے 37500 سے زائد ووٹ لئے۔ اس حلقے میں آئندہ ظہیر عباس امیدوار ہوسکتے ہیں جبکہ ملک کرامت کھوکھر اور سردار عاقل عمر صوبائی اسمبلی کے۔ سابق ٹاؤن ناظم سردار کامل عمر کا تعلق اگرچہ اسی حلقے سے ہے لیکن وہ اس حلقے سے الیکشن نہیں لڑتے۔ یہاں تحریک انصاف کافی مضبوط ہے۔
این اے 129 سے پیپلزپارٹی کے طارق شبیر ایڈوکیٹ ایم این اے ہیں۔ تحریک انصاف کے سردار کامل عمر، سردار عارف رشید نمایاں ہیں۔ سردار عارف رشید ن لیگ کی طرف سے 2002 کے الیکشن میں حصہ لیا اور بیس ہزار سے زائد ووٹ*حاصل کئے۔
این اے 130 سے ثمینہ خالد گھرکی پی پی کی ایم این اے ہیں۔ اس حلقے میں مقابلہ زیادہ تر ڈیال فیملی اور گھرکی فیملی کے درمیان ہوتا ہے۔ ڈیال فیملی تحریک انصاف سے مذاکرات کررہی ہے اور ان کے آنے کی*صورت میں اس حلقے میں ڈیال فیملی کا کوئی بندہ مضبوط امیدوار ہوگا، فی الحال اس حلقے میں چوہدری طالب حسین، ملک قدیر اعوان ہی نظر آرہے ہیں۔
حاصل بحث:
تحریک انصاف لاہور میں اگرچہ کافی مقبول ہے لیکن ن لیگ کی پوزیشن اگرچہ کافی متاثر ہوئی لیکن پھر بھی بہتر ہے۔کچھ حلقوں میں ن لیگ انتہائی مضبوط ہے اور کچھ حلقوں میں تحریک انصاف۔ اگر تحریک انصاف جماعت اسلامی سے اتحاد کرتی ہے تو تحریک انصاف کی پوزیشن مزید بہترہوجائے گی۔ آئندہ الیکشن کا انحصار لاہور میں امیدوار، پارٹی منشور، الیکشن مہم، ن لیگ کی موجودہ کارکردگی اور عمران خان کے تبدیلی کے نعرے پر ہوگا۔ لاہور میں جہاں ن لیگ کا ووٹ ٹوٹے گا وہیں پیپلزپارٹی کا بھی ٹوٹے گا۔ آئندہ الیکشن میں پیپلزپارٹی کی لاہور میں پوزیشن انتہائی کمزور ہوگی۔ اس لئے اصل جوڑ تحریک انصاف اور ن لیگ کے درمیان پڑے گا۔ لاہور میں اگر برادریوں کا جائزہ لیا جائے تو آرائیں برادری اور کشمیری برادری بڑی برادریاں شمار کی جاتی ہیں۔ آرائیں برادری کی ایک بڑی تعداد تحریک انصاف کے ساتھ ہے جبکہ کشمیری برادری ن لیگ، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف میں منقسم ہے۔ اس کے علاوہ گجر برادری، کھوکھر برادری، راجپوت برادری ن لیگ اور تحریک انصاف میں منقسم نظر آتی ہے۔ تاجر برادری سب سے زیادہ تحریک انصاف کے ساتھ ہے جبکہ ن لیگ تاجربرادری کے تحریک انصاف کے ساتھ شامل ہونے پر پریشان دکھائی دیتی ہے لیکن اگر تحریک انصاف کے تبدیلی کے نعرے کو تقویت مل جاتی ہے تو برادری اور دھڑوں کی کوئی وقعت نہیں رہتی۔