[IMG]http://************************/wp-content/uploads/2012/05/TVChannels.jpg[/IMG]http://************************/media-...ional-assembly
اسلام آباد (مریم حیسن ) قومی اسمبلی میں جمعرات کو یہ انکشاف کیا گیا کہ پاکستان الیکڑانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے عوام سے 1662 شکایتیں ملنے کے بعد 23 پاکستانی ٹی وی چینلز کو نہ صرف 80 نوٹسز جاری کیے بلکہ ان پر بھاری جرمانے بھی کیے گئے جو عدالتوں نے وصول نہیں ہونے دیے۔ قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے پرائیوٹ میڈیا نے تجارتی فوائد حاصل کرنے کے لیے عریانیت اور فحاشی کو فروغ دیا ہے ۔
قومی اسمبلی میں پیش کی گئی سرکاری دستاویزات سے انکشاف ہوتا ہے کہ پیمرا کے ٹی وی چینلز کو ریگولیٹ کرنے کے اختیارات تقریباً ختم ہو کر رہ گئے ہیں کیونکہ جس بھی چینل کے خلاف انہیں عوام سے شکایت ملی اور تفتیش کرنے پر درست پائی گئی اور اس پر جرمانہ کیا گیا، انہوں نے جا کر عدالت سے اس کے خلاف حکم امتناعی لے لیا۔ یوں عوام کی طرف سے سرکاری ریگولیڑری ادارے کی طرف سے ان ٹی وی چینلز کے مندرجات کو بہتر کرنے کے حوالے سے عوامی شکایتوں کا ازالہ نہ کیا جا سکا۔
اس سے قبل قومی اسمبلی کے ایک رکن شیخ محمد طارق رشید نے ایک سوال پوچھا تھا کہ انہیں بتایا جائے کہ ٹی وی پر دن بدن عریانی اور فحاشی میں اضافہ ہو رہا ہے اور حکومت نے ایسے پروگراموں کی حوصلہ شکنی کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں، اور ان اقدامات کے نتیجے میں مذکورہ چینلز کے پروگرامز میں کیا بہتری آئی اور خلاف ورزی کرنے والے چینلز کے خلاف کیا
کارروائی کی گئی۔
اس پر وزیراطلاعات قمرالزمان کائرہ نے ایک رپورٹ ایوان میں پیش کی جس میں پاکستان ٹیلی ویژن کا دفاع کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی وی حقیقی معنوں میں ایک فمیلی چینل سمجھا جاتا ہے ۔ اس لیے یہ پروگرام بناتے وقت ہمارے معاشرے کے رائج سماجی، مذہبی اقدار کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور سینئر اور پروفیشنل افراد اس کی سنسر کمیٹی میں شامل ہے جو ہر پروگرام کو نشر ہونے سے پہلے کلیر کرتے ہیں۔ اس لے پی ٹی وی کوئی بھی قابل اعتراض پروگرام نہیں چلنے دیتا۔
تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر نوے کی دہائی یا اس سے قبل سے موازنہ کیا جائے تو یہ پتہ ا ہے کہ مقابلتاً عریانیت اور فحاشی میں اضافہ ہوا ہے۔ منتخب کردہ نفس مضمون اور عنوانات مغربی معاشروں سے زیادہ متلعق ہوتے ہیں اور بسا اوقات یہ نامناسب بھی لگتے ہیں اگر ان کو پاکستانی روایات اور ثقافت کے تناطر مین دیکھا جائے۔
رپورٹ کا کہنا ہے کہ یہ رحجان بین الاقوامی میڈٖیا کے ہمارے میڈٖیا اؤٹ لیٹس پر اثر انداز ہوئے ہیں اور تجارتی فوائد حاصل کرنے کی کوششوں کی وجہ سے بڑھا ہے۔ پمیرا ضابطہ اخلاق کے تحت نشر ہونے والے پروگراموں کو ضابطے میں لانے کی کوشش کر رہا ہے، جس کے لیے ’کنٹنٹ ریگولیشنز‘ کا ایک مسودہ تیار کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پمیر ا نے ایک نگرانی کا نظام قائم کیا ہے تاکہ نجی سٹیلائٹ ٹی وی چینلز کی نشریات کی نگرانی کی جاسکے اور کسی بھی پروگرام سے نالاں کوئی بھی شخص اپنی شکایت قریبی ترین کونسل کو درج کرا سکتا ہے جس پر مناسب کارروائی یعنی سرزنش، جرمانہ یا لائسنس کی تنسیخ کی کاروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ عوام کی طرف سے شکایات ملنے کے بعدcontent violation ملوث ٹی وی چینلز پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
جیو ٹی وی کو بارہ نوٹس جاری کیے گئے، آج ٹی دو، سی این بی سی دو، ایکسپریشن انٹرٹینمنٹ دو، ہم ٹی وی آٹھ، اے آر وائی نو، کوہ نور ٹی وی سولہ، بزنس پلس ایک، اے پلس دو۔ اس طرح عروج ٹی وی، سٹارلائٹ ، رائل ٹی، سلور سکرین، راوی ٹی وی، این ویب، اے لائٹ، بزنس پلس، سٹار لائٹ، مہران ٹی وی، روہی ٹی وی، اور دھرتی ٹی وی کو بھی صحت کے حوالے سے ایک متنازعہ اشتہار دکھانے پر نوٹسز جاری ہوئے۔
تاہم پمیرا کا کہنا ہے کہ جن ٹی وی چینلز پر انہوں نے جرمانے عائد کیے ان پر انہوں نے عدالت سے جا کر سٹے لے لیا اور یوں ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور وہ ابھی بھی قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔









