Siasat.pk Forums
   
Results 1 to 10 of 10
  1. #1
    Intermediate
    Join Date
    Nov 2011
    Location
    Islamabad
    Posts
    457
    Age
    29
    Post Thanks / Like

    قابل اعتراض ٹی وی: پیمرا عدالتوں کے ہاتھوں

    [IMG]http://************************/wp-content/uploads/2012/05/TVChannels.jpg[/IMG]

    اسلام آباد (مریم حیسن ) قومی اسمبلی میں جمعرات کو یہ انکشاف کیا گیا کہ پاکستان الیکڑانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے عوام سے 1662 شکایتیں ملنے کے بعد 23 پاکستانی ٹی وی چینلز کو نہ صرف 80 نوٹسز جاری کیے بلکہ ان پر بھاری جرمانے بھی کیے گئے جو عدالتوں نے وصول نہیں ہونے دیے۔ قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے پرائیوٹ میڈیا نے تجارتی فوائد حاصل کرنے کے لیے عریانیت اور فحاشی کو فروغ دیا ہے ۔



    قومی اسمبلی میں پیش کی گئی سرکاری دستاویزات سے انکشاف ہوتا ہے کہ پیمرا کے ٹی وی چینلز کو ریگولیٹ کرنے کے اختیارات تقریباً ختم ہو کر رہ گئے ہیں کیونکہ جس بھی چینل کے خلاف انہیں عوام سے شکایت ملی اور تفتیش کرنے پر درست پائی گئی اور اس پر جرمانہ کیا گیا، انہوں نے جا کر عدالت سے اس کے خلاف حکم امتناعی لے لیا۔ یوں عوام کی طرف سے سرکاری ریگولیڑری ادارے کی طرف سے ان ٹی وی چینلز کے مندرجات کو بہتر کرنے کے حوالے سے عوامی شکایتوں کا ازالہ نہ کیا جا سکا۔


    اس سے قبل قومی اسمبلی کے ایک رکن شیخ محمد طارق رشید نے ایک سوال پوچھا تھا کہ انہیں بتایا جائے کہ ٹی وی پر دن بدن عریانی اور فحاشی میں اضافہ ہو رہا ہے اور حکومت نے ایسے پروگراموں کی حوصلہ شکنی کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں، اور ان اقدامات کے نتیجے میں مذکورہ چینلز کے پروگرامز میں کیا بہتری آئی اور خلاف ورزی کرنے والے چینلز کے خلاف کیا
    کارروائی کی گئی۔


    اس پر وزیراطلاعات قمرالزمان کائرہ نے ایک رپورٹ ایوان میں پیش کی جس میں پاکستان ٹیلی ویژن کا دفاع کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی وی حقیقی معنوں میں ایک فمیلی چینل سمجھا جاتا ہے ۔ اس لیے یہ پروگرام بناتے وقت ہمارے معاشرے کے رائج سماجی، مذہبی اقدار کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور سینئر اور پروفیشنل افراد اس کی سنسر کمیٹی میں شامل ہے جو ہر پروگرام کو نشر ہونے سے پہلے کلیر کرتے ہیں۔ اس لے پی ٹی وی کوئی بھی قابل اعتراض پروگرام نہیں چلنے دیتا۔


    تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر نوے کی دہائی یا اس سے قبل سے موازنہ کیا جائے تو یہ پتہ ا ہے کہ مقابلتاً عریانیت اور فحاشی میں اضافہ ہوا ہے۔ منتخب کردہ نفس مضمون اور عنوانات مغربی معاشروں سے زیادہ متلعق ہوتے ہیں اور بسا اوقات یہ نامناسب بھی لگتے ہیں اگر ان کو پاکستانی روایات اور ثقافت کے تناطر مین دیکھا جائے۔

    رپورٹ کا کہنا ہے کہ یہ رحجان بین الاقوامی میڈٖیا کے ہمارے میڈٖیا اؤٹ لیٹس پر اثر انداز ہوئے ہیں اور تجارتی فوائد حاصل کرنے کی کوششوں کی وجہ سے بڑھا ہے۔ پمیرا ضابطہ اخلاق کے تحت نشر ہونے والے پروگراموں کو ضابطے میں لانے کی کوشش کر رہا ہے، جس کے لیے ’کنٹنٹ ریگولیشنز‘ کا ایک مسودہ تیار کیا گیا ہے۔


    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پمیر ا نے ایک نگرانی کا نظام قائم کیا ہے تاکہ نجی سٹیلائٹ ٹی وی چینلز کی نشریات کی نگرانی کی جاسکے اور کسی بھی پروگرام سے نالاں کوئی بھی شخص اپنی شکایت قریبی ترین کونسل کو درج کرا سکتا ہے جس پر مناسب کارروائی یعنی سرزنش، جرمانہ یا لائسنس کی تنسیخ کی کاروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

    وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ عوام کی طرف سے شکایات ملنے کے بعدcontent violation ملوث ٹی وی چینلز پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔


    جیو ٹی وی کو بارہ نوٹس جاری کیے گئے، آج ٹی دو، سی این بی سی دو، ایکسپریشن انٹرٹینمنٹ دو، ہم ٹی وی آٹھ، اے آر وائی نو، کوہ نور ٹی وی سولہ، بزنس پلس ایک، اے پلس دو۔ اس طرح عروج ٹی وی، سٹارلائٹ ، رائل ٹی، سلور سکرین، راوی ٹی وی، این ویب، اے لائٹ، بزنس پلس، سٹار لائٹ، مہران ٹی وی، روہی ٹی وی، اور دھرتی ٹی وی کو بھی صحت کے حوالے سے ایک متنازعہ اشتہار دکھانے پر نوٹسز جاری ہوئے۔


    تاہم پمیرا کا کہنا ہے کہ جن ٹی وی چینلز پر انہوں نے جرمانے عائد کیے ان پر انہوں نے عدالت سے جا کر سٹے لے لیا اور یوں ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور وہ ابھی بھی قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

    http://************************/media-...ional-assembly

    ADVERTISING


    Last edited by Neelam; 05-May-2012 at 09:18 PM.

  2. Thanks barca thanked for this post
    Likes Za Chaudhry, zubair1234, wadaich, biomat liked this post

  3. #2
    Advanced
    Join Date
    May 2011
    Posts
    1,054
    Post Thanks / Like

    Re: قابل اعتراض ٹی وی: پیمرا عدالتوں کے ہاتھوں

    sab BS..ye adalton ko badnaam kerne ki aik or koshish...Pimra na agr waqee action lena ha to notice bejwane ki kia zaroorat...use jis channel ki shikayat mile use BLOCK ker de...masla hal ho jaye ga....jab 2007 ma musharaf na channels band kiye the to wo kia courts k kehne pa band hoye the???
    Last edited by Waseem; 06-May-2012 at 02:14 AM. Reason: Please dont use large fonts

  4. Likes khurram_id, zubair1234, barca liked this post

  5. #3
    Professional zeshaan's Avatar
    Join Date
    Nov 2010
    Location
    Pakistan
    Posts
    4,041
    Age
    30+
    Post Thanks / Like

    Re: قابل اعتراض ٹی وی: پیمرا عدالتوں کے ہاتھوں

    Qamar z kaira,
    kia baqee tv stations kee zimehdaree koi wadda kair (jhoottaa) lay gaa?

    KIa tumm loog sirf ayashiaan karnay aoor bhoonkanay kay liay baithay huaay hoo?

    kia tumharay zimmay apni ammaan(BBBhootoo) koo shaheed batatay rehnay kay ilaawa koi oor kaan naheen?

    Kia tumm koo siwaay ppp kay aoor koi pakistan main nazar naheen aa raha,wagera,wagera,wagera,LIkhanay too buhat kuch haymmagar inn baygairatoo koo gairat kaisay aay gee,yeh samajh naheen aa rahee.


  6. #4
    Expert barca's Avatar
    Join Date
    Dec 2011
    Location
    home
    Posts
    11,443
    Age
    15
    Post Thanks / Like

    Re: قابل اعتراض ٹی وی: پیمرا عدالتوں کے ہاتھوں

    اس معاملے پر میں پیمرا کے ساتھ ہوں

  7. Likes lotaa liked this post

  8. #5
    Advanced
    Join Date
    Sep 2011
    Location
    Peshawar
    Posts
    1,013
    Age
    48
    Post Thanks / Like

    Re: قابل اعتراض ٹی وی: پیمرا عدالتوں کے ہاتھوں

    Quote Originally Posted by barca View Post
    اس معاملے پر میں پیمرا کے ساتھ ہوں

    میں بھی اس معاملے میں پیمرا کے ساتھ ہوں ،لیکن سوال ی ہے کہ پیمرا نے اتنے نوٹس کیوں دیے، پہلے نوٹس دیا جاتا ہے پھر باقی کارروائی ہوتی ہے، یہ نوٹس پر نوٹس دینے کا کیا مطلب؟ اور نوٹس پر سٹے لینے کا کیا مطلب؟سیدھی بات ہے کہ پیمرا نے نوٹس دیا ہوگا کہ آپ کا فلاں پروگرام غیر اخلاقی ہے اسے بند کر دیں۔متعلقہ ٹی وی اس کے جواب میں وضاحت کرے گا یا معافی مانگ کر دوبارہ ایسا نہ کرنے کا وعدہ کرے گا، کسی نوٹس کے جواب میں عدالت جانے کی تُک نہیں بنتی،اور نہ ہی کسی نوٹس پر کوئی سٹے آرڈر جاری کیا جا سکتا ہے۔


  9. Thanks barca thanked for this post
    Likes jimz84 liked this post

  10. #6
    Professional nuzhatghazali's Avatar
    Join Date
    Dec 2009
    Location
    Canada
    Posts
    3,094
    Post Thanks / Like

    Re: قابل اعتراض ٹی وی: پیمرا عدالتوں کے ہاتھوں

    صرف فحاشی کے ہی خلاف نہیں بلکے قومی سالمیت کے خلاف جہاں پاک فوج ،ائی .ایس .ائی کے خلاف پروپگنڈہ کرنا. اخلاقی قدروں کا احساس نہ کرتے ہووے ایسے ٹوک شو کرنا جس میں ایک دوسرے کو گالیاں دینا اور برا بھلا کہنا ، جو پاکستان کو توڑنا چاہتے ہوں انکے نظریات کو فروغ دینا .کوئی بھی مخالف آ کر کسی پر بھی ہیڈ منی کا علان کرے . اسے نشر کرنا ، مذہبی تعصب ور فرقہ بندی پھیلانا .کیمرہ لے کر ایسی جگہہ پوھنچنا جو کسی کی پریوسی کو مجروح کرتے ہوں ، ریٹنگ کی غرض سے جھوٹ پر مبنی سنسنی خیز فیچر بنانا .ان سب پر پابندی ہو . لوگ پرشان آگیے ہیں کہ کس بات پر یقین کریں اور کس پر نہیں لہذا غیر مصدقہ خبر نشر کرنا ان سب پر بھاری جرمانہ عا ید کیا جایے

  11. Likes coolhaider, jimz84, gorgias, barca liked this post

  12. #7
    Intermediate
    Join Date
    Jul 2010
    Posts
    247
    Post Thanks / Like

    Re: قابل اعتراض ٹی وی: پیمرا عدالتوں کے ہاتھوں

    Quote Originally Posted by nuzhatghazali View Post
    صرف فحاشی کے ہی خلاف نہیں بلکے قومی سالمیت کے خلاف جہاں پاک فوج ،ائی .ایس .ائی کے خلاف پروپگنڈہ کرنا. اخلاقی قدروں کا احساس نہ کرتے ہووے ایسے ٹوک شو کرنا جس میں ایک دوسرے کو گالیاں دینا اور برا بھلا کہنا ، جو پاکستان کو توڑنا چاہتے ہوں انکے نظریات کو فروغ دینا .کوئی بھی مخالف آ کر کسی پر بھی ہیڈ منی کا علان کرے . اسے نشر کرنا ، مذہبی تعصب ور فرقہ بندی پھیلانا .کیمرہ لے کر ایسی جگہہ پوھنچنا جو کسی کی پریوسی کو مجروح کرتے ہوں ، ریٹنگ کی غرض سے جھوٹ پر مبنی سنسنی خیز فیچر بنانا .ان سب پر پابندی ہو . لوگ پرشان آگیے ہیں کہ کس بات پر یقین کریں اور کس پر نہیں لہذا غیر مصدقہ خبر نشر کرنا ان سب پر بھاری جرمانہ عا ید کیا جایے
    The building of Meida is stand upon the base of Lies. The prime goal of media is to hide the truth and broadcast the lies.


  13. #8
    Advanced
    Join Date
    Oct 2010
    Posts
    1,507
    Post Thanks / Like

    Re: قابل اعتراض ٹی وی: پیمرا عدالتوں کے ہاتھوں

    har jaga corruption hai.... jo bhi patthar uthao...neechay se **** hi nikle ga ..


  14. #9
    Banned
    Join Date
    Oct 2009
    Location
    Karachi
    Posts
    321
    Post Thanks / Like

    Re: قابل اعتراض ٹی وی: پیمرا عدالتوں کے ہاتھوں

    جس کو یہ پروگرام نہیں دیکھنے وہ ریموٹ کنٹرول سے یا تو ٹی وی بند کر دے یا چینل تبدیل کر دے۔

    یہ محرب الاخلاق چینل یہودی سازش سے نہیں چلتے، ہماری عوام کی ڈیمانڈ پر چلتے ہیں۔ اگر آج یہ کیبل والے انڈین اور میوزک چینل بند کر دیں تو لوگ ان پیسے دینا بند کر دیں گے۔ ہمارے ملک کی خواتین سٹار پلس کے بغیر رہ ہی نہیں سکتیں۔

    ہماری منافقت کا کوئی ثانی نہیں۔ منی اور شیلا کے دیوانے باتوں کی حد تک مومن ضرور بنتے ہیں۔


  15. #10
    Advanced Za Chaudhry's Avatar
    Join Date
    Jun 2011
    Location
    آفاقی
    Posts
    1,486
    Age
    ---
    Post Thanks / Like

    Re: قابل اعتراض ٹی وی: پیمرا عدالتوں کے ہاتھوں

    Quote Originally Posted by Kahlown View Post
    [IMG]http://************************/wp-content/uploads/2012/05/TVChannels.jpg[/IMG]

    اسلام آباد (مریم حیسن ) قومی اسمبلی میں جمعرات کو یہ انکشاف کیا گیا کہ پاکستان الیکڑانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے عوام سے 1662 شکایتیں ملنے کے بعد 23 پاکستانی ٹی وی چینلز کو نہ صرف 80 نوٹسز جاری کیے بلکہ ان پر بھاری جرمانے بھی کیے گئے جو عدالتوں نے وصول نہیں ہونے دیے۔ قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے پرائیوٹ میڈیا نے تجارتی فوائد حاصل کرنے کے لیے عریانیت اور فحاشی کو فروغ دیا ہے ۔



    قومی اسمبلی میں پیش کی گئی سرکاری دستاویزات سے انکشاف ہوتا ہے کہ پیمرا کے ٹی وی چینلز کو ریگولیٹ کرنے کے اختیارات تقریباً ختم ہو کر رہ گئے ہیں کیونکہ جس بھی چینل کے خلاف انہیں عوام سے شکایت ملی اور تفتیش کرنے پر درست پائی گئی اور اس پر جرمانہ کیا گیا، انہوں نے جا کر عدالت سے اس کے خلاف حکم امتناعی لے لیا۔ یوں عوام کی طرف سے سرکاری ریگولیڑری ادارے کی طرف سے ان ٹی وی چینلز کے مندرجات کو بہتر کرنے کے حوالے سے عوامی شکایتوں کا ازالہ نہ کیا جا سکا۔


    اس سے قبل قومی اسمبلی کے ایک رکن شیخ محمد طارق رشید نے ایک سوال پوچھا تھا کہ انہیں بتایا جائے کہ ٹی وی پر دن بدن عریانی اور فحاشی میں اضافہ ہو رہا ہے اور حکومت نے ایسے پروگراموں کی حوصلہ شکنی کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں، اور ان اقدامات کے نتیجے میں مذکورہ چینلز کے پروگرامز میں کیا بہتری آئی اور خلاف ورزی کرنے والے چینلز کے خلاف کیا
    کارروائی کی گئی۔


    اس پر وزیراطلاعات قمرالزمان کائرہ نے ایک رپورٹ ایوان میں پیش کی جس میں پاکستان ٹیلی ویژن کا دفاع کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی وی حقیقی معنوں میں ایک فمیلی چینل سمجھا جاتا ہے ۔ اس لیے یہ پروگرام بناتے وقت ہمارے معاشرے کے رائج سماجی، مذہبی اقدار کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور سینئر اور پروفیشنل افراد اس کی سنسر کمیٹی میں شامل ہے جو ہر پروگرام کو نشر ہونے سے پہلے کلیر کرتے ہیں۔ اس لے پی ٹی وی کوئی بھی قابل اعتراض پروگرام نہیں چلنے دیتا۔


    تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر نوے کی دہائی یا اس سے قبل سے موازنہ کیا جائے تو یہ پتہ ا ہے کہ مقابلتاً عریانیت اور فحاشی میں اضافہ ہوا ہے۔ منتخب کردہ نفس مضمون اور عنوانات مغربی معاشروں سے زیادہ متلعق ہوتے ہیں اور بسا اوقات یہ نامناسب بھی لگتے ہیں اگر ان کو پاکستانی روایات اور ثقافت کے تناطر مین دیکھا جائے۔

    رپورٹ کا کہنا ہے کہ یہ رحجان بین الاقوامی میڈٖیا کے ہمارے میڈٖیا اؤٹ لیٹس پر اثر انداز ہوئے ہیں اور تجارتی فوائد حاصل کرنے کی کوششوں کی وجہ سے بڑھا ہے۔ پمیرا ضابطہ اخلاق کے تحت نشر ہونے والے پروگراموں کو ضابطے میں لانے کی کوشش کر رہا ہے، جس کے لیے ’کنٹنٹ ریگولیشنز‘ کا ایک مسودہ تیار کیا گیا ہے۔


    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پمیر ا نے ایک نگرانی کا نظام قائم کیا ہے تاکہ نجی سٹیلائٹ ٹی وی چینلز کی نشریات کی نگرانی کی جاسکے اور کسی بھی پروگرام سے نالاں کوئی بھی شخص اپنی شکایت قریبی ترین کونسل کو درج کرا سکتا ہے جس پر مناسب کارروائی یعنی سرزنش، جرمانہ یا لائسنس کی تنسیخ کی کاروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

    وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ عوام کی طرف سے شکایات ملنے کے بعدcontent violation ملوث ٹی وی چینلز پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔


    جیو ٹی وی کو بارہ نوٹس جاری کیے گئے، آج ٹی دو، سی این بی سی دو، ایکسپریشن انٹرٹینمنٹ دو، ہم ٹی وی آٹھ، اے آر وائی نو، کوہ نور ٹی وی سولہ، بزنس پلس ایک، اے پلس دو۔ اس طرح عروج ٹی وی، سٹارلائٹ ، رائل ٹی، سلور سکرین، راوی ٹی وی، این ویب، اے لائٹ، بزنس پلس، سٹار لائٹ، مہران ٹی وی، روہی ٹی وی، اور دھرتی ٹی وی کو بھی صحت کے حوالے سے ایک متنازعہ اشتہار دکھانے پر نوٹسز جاری ہوئے۔


    تاہم پمیرا کا کہنا ہے کہ جن ٹی وی چینلز پر انہوں نے جرمانے عائد کیے ان پر انہوں نے عدالت سے جا کر سٹے لے لیا اور یوں ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور وہ ابھی بھی قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

    http://************************/media-...ional-assembly
    Kia PEMRA sirif licence de sakta hai control nahi ker sakta?

    Asal men in sub ko control en ladeen loogon ke hath men hai yo fashai ko aam kerna chate hain.


Thread Information

Users Browsing this Thread

There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)

Similar Threads

  1. Replies: 16
    Last Post: 15-Dec-2012, 10:38 PM
  2. Replies: 40
    Last Post: 29-Apr-2012, 02:38 PM
  3. Replies: 5
    Last Post: 24-Jan-2012, 07:33 PM
  4. Replies: 4
    Last Post: 18-Aug-2010, 09:54 PM

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •  
Siasat.pk Forums