Siasat.pk Forums
Page 2 of 2 FirstFirst 12
Results 21 to 39 of 39
  1. #21
    Expert xiaahmad's Avatar
    Join Date
    Aug 2010
    Posts
    7,717
    Post Thanks / Like

    Re: دانتوں پسینہ - Must Read

    resign pmln




  2. #22
    Intermediate
    Join Date
    Feb 2010
    Posts
    300
    Post Thanks / Like

    Re: دانتوں پسینہ - Must Read

    Raouf Kalsara ppp ka tato hy woh har aisi koshosh karay ga jaiss say ppp ka faida ho


  3. #23
    Advanced
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    NA-170 Mailsi
    Posts
    1,195
    Age
    28
    Post Thanks / Like

    Re: دانتوں پسینہ - Must Read

    Quote Originally Posted by PAINDO View Post
    پاہی بو ترابی قسم خدا دی توہاڈے ہتھ چمن نوں دل کر دا اے
    تے چم لے روکا کس نے اے؟

  4. Likes barca liked this post

  5. #24
    Advanced
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    NA-170 Mailsi
    Posts
    1,195
    Age
    28
    Post Thanks / Like

    Re: دانتوں پسینہ - Must Read

    Quote Originally Posted by BuTurabi View Post




    لانگ مارچ سیاست: عمران نے نواز کو کلین بولڈ کر دیا؟


    اسلام آباد ( رؤف کلاسرا) عمران خان اور ان کی پارٹی نے منگل کو اسلام آباد میں اپنی پارٹی کے اجلاس کے بعد نواز شریف کی طرف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انتخابات کے لیے اپنی مرضی کے نئے نگران حکومت کے وزیراعظم کا نام فائنل کر رہے ہوں !!!
    ۔

    ذریعہ



    بجٹ میں ووٹوں کے لئیے بندر بانٹ سے پہلے یہ استعفوں کا سوچ بھی نہیں سکتے

  6. Likes BuTurabi, barca, InsafianPTI liked this post

  7. #25
    Intermediate
    Join Date
    Jan 2012
    Location
    Pakistan
    Posts
    555
    Age
    39
    Post Thanks / Like

    Is Imran joining Nawaz to...

    ...remove the government or not?


  8. #26
    Expert PAINDO's Avatar
    Join Date
    Aug 2010
    Posts
    5,742
    Post Thanks / Like

    Re: دانتوں پسینہ - Must Read

    Quote Originally Posted by d'invincible View Post
    تے چم لے روکا کس نے اے؟


    حضور یہاں بات آپ کے ہاتھوں کی نہیں ہو رہی

    :p
    May Allah SWT guide us all towards right and help us follow the right

  9. Likes barca, D'Invincible liked this post

  10. #27
    Expert
    Join Date
    Apr 2011
    Location
    New York
    Posts
    8,243
    Age
    N/A
    Post Thanks / Like

    Re: دانتوں پسینہ - Must Read

    slowly but surly people are recognizing the wisdom and foresightedness of ik,,, time is not far when sold out anchors are going to talk in ik favor otherwise they will be loosing their ratings and jobs,,,, well done ik , you are the hero,,,


  11. #28
    Advanced
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    NA-170 Mailsi
    Posts
    1,195
    Age
    28
    Post Thanks / Like

    Re: دانتوں پسینہ - Must Read

    Quote Originally Posted by PAINDO View Post
    حضور یہاں بات آپ کے ہاتھوں کی نہیں ہو رہی

    :p
    آپ کے جزبات کی قدر کرتا ہوں آپ اپنے پیر و مرشد کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں
    Last edited by D'Invincible; 03-May-2012 at 12:01 AM.


  12. #29
    Expert barca's Avatar
    Join Date
    Dec 2011
    Location
    home
    Posts
    20,537
    Age
    18
    Post Thanks / Like

    Re: دانتوں پسینہ - Must Read

    Quote Originally Posted by BuTurabi View Post

    قومی ترانے کے خالق ابوالآثر حفیظ جالندھری کی جُملہ
    خامیوں کے باوصف اُنکے محکم شاعر ہونے میں کوئی کلام نہیں۔
    پنجابی ہونے کے باعث اور اپنے ہمعصروں میں شاعرانہ چشمک کیوجہ سے کافی رگیدے بھی جاتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔
    جب اُنکا لِکھا گیا ترانہ دوسرے بہت سے نامی گرامی شعرا کے ترانوں میں سے
    بطور قومی ترانہ منتخب ہوا تو غالباّ اُنہوں نے تب کہا تھا:۔
    حفیظ اہل زباں کب مانتے تھے
    بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں

    یہ بات مُجھے رؤف کلاسرہ کا یہ کالم پڑھتے یاد آ گئی ۔ ۔ ۔ ۔ بس یونہی۔

    استاد جی دا کھڑاک


  13. #30
    Advanced ConcernedPaki's Avatar
    Join Date
    Apr 2012
    Location
    US
    Posts
    1,433
    Age
    29
    Post Thanks / Like

    Re: دانتوں پسینہ - Must Read

    Hopefully, some emotional PTI supporters will start realizing the importance of JH, SMQ and other oldies. Wah rey Fazlur Rehman, tu ho jis ka dost, usey dushman ki hajat nahin!

  14. Likes BuTurabi liked this post

  15. #31
    Regular Member
    Join Date
    Apr 2010
    Posts
    102
    Post Thanks / Like

    Re: دانتوں پسینہ - Must Read

    Quote Originally Posted by BuTurabi View Post

    قومی ترانے کے خالق ابوالآثر حفیظ جالندھری کی جُملہ
    خامیوں کے باوصف اُنکے محکم شاعر ہونے میں کوئی کلام نہیں۔
    پنجابی ہونے کے باعث اور اپنے ہمعصروں میں شاعرانہ چشمک کیوجہ سے کافی رگیدے بھی جاتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔
    جب اُنکا لِکھا گیا ترانہ دوسرے بہت سے نامی گرامی شعرا کے ترانوں میں سے
    بطور قومی ترانہ منتخب ہوا تو غالباّ اُنہوں نے تب کہا تھا:۔
    حفیظ اہل زباں کب مانتے تھے
    بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں

    یہ بات مُجھے رؤف کلاسرہ کا یہ کالم پڑھتے یاد آ گئی ۔ ۔ ۔ ۔ بس یونہی۔

    yaar why don't u try to write an article in newspaper as Allah has gifted u xclnt skill of writing....

  16. Likes PAINDO liked this post

  17. #32
    Expert BuTurabi's Avatar
    Join Date
    Nov 2011
    Location
    مُلکوں مُلکوں
    Posts
    5,160
    Age
    900
    Post Thanks / Like

    Re: دانتوں پسینہ - Must Read

    Quote Originally Posted by Farooq Khan London View Post
    yaar why don't u try to write an article in newspaper as Allah has gifted u xclnt skill of writing....

    آپ مذاق تو نہیں کر رہے نا !!۔






  18. #33
    Regular Member
    Join Date
    Apr 2010
    Posts
    102
    Post Thanks / Like

    Re: دانتوں پسینہ - Must Read

    [QUOTE=BuTurabi;801232]

    آپ مذاق تو نہیں کر رہے نا !!۔




    [nahi yar I m very serious, pls try to write in newspaper as well.....

  19. Thanks BuTurabi thanked for this post

  20. #34
    Expert PAINDO's Avatar
    Join Date
    Aug 2010
    Posts
    5,742
    Post Thanks / Like

    Re: دانتوں پسینہ - Must Read

    Quote Originally Posted by BuTurabi View Post

    آپ مذاق تو نہیں کر رہے نا !!۔





    اسے مذاق سمجھیے یا عقید ت ثبوت پیش خدمت ہے



    یہ کوئی لچھے دار مضمون، طویل بلاگ یا کوئی تجزیاتی تحریر نہیں بلکہ پِچھلے کُچھ دِنوں سے ذہن میں اُبھرنے والے سوالات اور اُنکے ردِ عمل میں پیدا شُدہ خیالات کا ایک مُختصر سا ڈھیر ہے۔ آپ بھی اِن سوالات کو پڑھیں، کُچھ کے جوابات بِجلی کی سی تیزی سے پردہِ ذہن پر نموُدار ہوتے چلے جائیں گے، کُچھ کے نِسبتاً کم رفتار سے ۔ ۔ ۔ رفتار کے اِس فرق کی وجہ ذہانت سے زیادہ دراصل ہماری تاریخ اور سیاست کی اُفقی عمُودی ...سُوجھ بُوجھ کا فرق ہے جِسمیں غلط، صحیح کُچھ نہیں۔
    تیسویں اکتوبر سے پہلے عمران خان اور اُسکی تحریک کی ’’حرکتیں‘‘ کِسی توجہ کا رُخ موڑ سکیں نہ کِسی مضمون کا سنجیدہ موضوع بن سکیں لیکن مینارِ پاکستان پر گرنے والے شہابئے (سکائی لیب) نے زمینِ سیاست پر وہی برپا کیا جو شہابئے کرتے ہیں، ہلچل، افراتفری، بے یقینی اور تباہی۔ دُنیائے سیاست کے باسیوں کو سنبھلنے میں کُچھ وقت لگا ۔ ۔ ۔ لیکن گُزرے چند ہفتوں میں اُنہوں نے نہ صِرف اپنے سنبھلنے کا احساس دِلایا بلکہ مُنظم اور مُتحرک ہونے کا بھی۔ دُشنام وا اِلزام کا کونسا تیر ہے جو خان صاحب کو زیر کرنے کی غرض سے چلایا نہیں گیا اور یہ سلسلہ روز برز تیز ہوتا چلا جا رہا ہے۔ لیکن ایک ’’تیر‘‘ جو بڑی سُرعت اور تسلسل کیساتھ داغا جا رہا ہے وہ یہ کہ اُنہی بوسیدہ چہروں کیساتھ نِظام کی تبدیلی کیسے مُمکن ہے؟

    جو لوگ (سیاستدان، مُبصرین) عمران خان کو پُرانے چہروں کو پارٹی میں لینے پر طعنہ زن ہیں اُنکا اصل مُحرک کیا ہے؟

    وطن اور گراوٹ کا نشانہ بنی اِس بد نصیب قوم سے بے لوث مُحبت اور اِس دھرتی کے درماندہ باسیوں کا بھلا؟ یعنی وہ واقعی خالص نیت سے چاہتے ہیں کہ سیاست کے اِن ’’امریش پوریوں‘‘ سے جان چھوٹے اور کوئی چاکلیٹی ہیرو پردہ سیمیں پر اُبھرے اور اِس مُتعفن نِظام کو چہار سُو پھیلے چمن سے بدل ڈالے؟
    کیا وہ واقعی سٹیٹس کو سے بیزار تھے اور برسہا برس سے عمران خان کو ایک اُمید کے طور پر دیکھتے تھے، روشنی کی حقیقی کِرن مانتے تھے اور ایک مُتبادل کے طور پر قوم کے سامنے پیش کرتے رہے لیکن اچانک عمران خان کے اِس پینترہ بدلنے پر دِلگرفتہ ہو گئے اور با آوازِ بلند لگے کلمہِ حق کہنے؟
    یا
    در حقیقت یہ اُن کا برسہا برس کا الیکشنز کا تجربہ اور عوامی رُجحان کو جانچنے کی صلاحیت سے لِپٹا خوف بول رہا ہے جِسکے بل پر وہ جانتے ہیں عوام بہت مُشکل سے نئے لوگوں کو موقع دیتے ہیں، دھڑوں، ذاتوں، زبانوں اور فِرقوں میں بٹی اِس قوم کو ایک نُکتے پر، فقط ایک شخصیت کے اِرتکاز میں لا کر تبدیلی لانا آسان نہیں؟
    نواز لیگ اور پیپلز پارٹی ایسی ہزار سالہ پُرانی سیاسی جماعتیں جو ہر جنم میں مُختلف نام مگر ایک ہی کردار سے ہماری گردن کا بوجھ بنی رہی بخوبی آگاہ ہیں کہ الیکشنز کیسے لڑے جاتے ہیں ووٹ کِن بُنیادوں پر پڑتے ہیں؟
    لیکن درپیش مسئلہ یہ ہے کہ سولہ سالوں کی تپسیا کیبعد اب عمران خان نے بھی اِس راز کو پا لیا ہے اور وہ اِنتخابات اور اُسکے تقاضوں کو جان چُکا ہے۔ وہ سمجھ چُکا کہ اگر تبدیلی لانی ہے تو یکسر نہیں بتدریج آئیگی، فروغ تعلیم سے، معاشی آسودگی اور عوام کو اُنکے حقوق فراہم کرنے سے آئیگی۔ آپکو اپنی بات پہچانے کیلئے شائد ایک عرصہ وہی بولی بولنا ہوگی جو یہاں سمجھی جاتی ہے۔
    لہذا ایک باقاعدہ مُنظم مُہم چلی اور اُنکی طرف سے چلی جِن کی پارٹیاں ٹوٹ رہی تھیں بِکھر رہی تھیں، کُچھ جا چُکے تھے اور بہت سے تسمے باندھ رہے تھے۔
    یکا یک اِتنے سارے کالم نویسوں اور ٹاک شو ہوسٹس کو ایک ہی خیال، ایک ہی وقت میں، ایک جیسی شدت اور ایک ہی آھنگ سے کیسے آگیا؟ یک بیک نواز لیگ کے بیانات کی تڑتراہت اخباری کالموں اور ٹاک شوز کی گڑگڑاہٹ میں کیسے بدل گئی؟ اور پھر مُبصرین، دانشوروں، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پرسنز نے، یکدم ایک کے بعد دوسرے اور اُسکے ساتھ تیسرے نے چند ہفتوں میں یہ شور برپا کیا کہ پھِر وہی پُرانے سیاستدان لائے جا رہے ہیں، تبدیلی کا نعرہ ڈھونگ ہے ۔ ۔ ۔ ۔
    کیا پاکستان کا اِس وقت کا سب سے بڑا مسئلہ عمران خان اور اُسکا تبدیلی کا نعرہ ہے؟
    کُچھ کے ہاں اِسکا جواب ’’ہاں‘‘ ہے اور کیوں نہ ہو؟ ۔ ۔ ۔ در اصل جنبشِ لب (لِپس موومنٹ) اِنکی اور صدا کار کوئی اور ہے،۔

    منصور کے پردے میں خُدا بول رہا ہے

    یہ صحافی جو روز شام سات بجے سے رات گئے تک شامِ مظالم مناتے ہیں۔ ججوں سے لیکر جرنیلوں تک، افسر شاہی سے لیکر سیاستدانوں تک کِسی کی شلوار اُدھیڑتے ہیں تو کِسی کا گریبان چاک کرتے ہیں۔ مُعاشرے میں جڑوں تک پھیلی بدعنوانی کا اعلان بھی روز کا معمول ہے۔ کیا اِن سے پوچھا جا سکتا ہے کہ وہ اِسی معاشرے کا حصہ ہوتے ہوئے قلندرانہ صفات کے حامل کیسے ہیں؟ جِنکے دامن پہ کوئی چھینٹ نہ کردار پہ کوئی داغ؟
    خود تو ہر جماعت اور اُسکے رہنُماؤں کی دستار خاک آلود کرنے کا خود ودیعتی اختیار رکھتے ہیں لیکن اگر کوئی قاری یا ناظر جواباً اپنا ’’بھر پور جمہوری حق‘‘ ارسال کر دے تو اِنکی بِلبلاہٹ بھری چیخیں سُن کر سات کوس دوُر سہمے ہوئے بچوں کے حواس مائیں یہ کہہ کر بحال کرواتی ہیں، ’’بچہ، ڈرو مت ۔ ۔ ۔ یہ کِسی بھوت یا چپڑیل کی آواز نہیں بلکہ یہ تو عطاء الحق قاسمی اور ثنا بُچہ کے با جماعت رونے کی آوازیں ہیں جو اُنکے کالموں اور ٹاک شوز سے آ رہی ہیں‘‘
    May Allah SWT guide us all towards right and help us follow the right

  21. Likes Farooq Khan London, InsafianPTI liked this post

  22. #35
    Expert BuTurabi's Avatar
    Join Date
    Nov 2011
    Location
    مُلکوں مُلکوں
    Posts
    5,160
    Age
    900
    Post Thanks / Like

    Re: دانتوں پسینہ - Must Read

    Quote Originally Posted by PAINDO View Post
    اسے مذاق سمجھیے یا عقید ت ثبوت پیش خدمت ہے

    آپ کہتے ہیں تو ’’صبر‘‘ کر لیتا ہوں کیونکہ اب غیر ضروری عاجزی و اِنکساری کا اِظہار بھی تکبر شُمار ہوگا۔


    ویسے یہ مضمون کہاں سے مِلا آپکو؟ ایسا بہت سا دوسرا مواد تو ویب سائٹ پر حملے مین تلف ہو گیا تھا ۔ ۔ ۔ ؟؟





  23. #36
    Expert PAINDO's Avatar
    Join Date
    Aug 2010
    Posts
    5,742
    Post Thanks / Like

    Re: دانتوں پسینہ - Must Read

    Quote Originally Posted by BuTurabi View Post


    آپ کہتے ہیں تو ’’صبر‘‘ کر لیتا ہوں کیونکہ اب غیر ضروری عاجزی و اِنکساری کا اِظہار بھی تکبر شُمار ہوگا۔


    ویسے یہ مضمون کہاں سے مِلا آپکو؟ ایسا بہت سا دوسرا مواد تو ویب سائٹ پر حملے مین تلف ہو گیا تھا ۔ ۔ ۔ ؟؟



    حضور یہ میں نے سنبھال کر رکھا ہوا تھا اور حملے کے دوسرے ہی دن ایڈمن کو آپ کی یہ امانت واپس کر دی تھی
    May Allah SWT guide us all towards right and help us follow the right

  24. Thanks BuTurabi thanked for this post

  25. #37
    Professional
    Join Date
    May 2011
    Posts
    3,843
    Post Thanks / Like

    Re: دانتوں پسینہ - Must Read

    wah wah wah kia baat hai bhai aap ki, good one, you should write columns too, u will do better job than so many other so called columnists e.g. javid chaudhy
    welldone!

    Quote Originally Posted by rashidahmed View Post
    اگر کسی دوست نے ہندی فلم نائیک دیکھی ہے تو اس فلم میں انیل کپور اور امریش پوری کا اٹ کھڑکا لگا رہتا ہے۔ فلم کے آخر میں انیل کپور امریش پوری کو اپنے دفتر میں*بلاتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ وہ اسے زیادہ تنگ نہ کرے اور اسے اپنا کام کرنے دے اسی دوران وہ ایک پستول نکال لیتا ہے۔ امریش پوری پستول دیکھ کر ہنستا ہے اور کہتا ہے کہ میرا سیاست میں تیس سال کا تجربہ ہے۔ جس پر انیل کپور کہتا ہے کہ اگر تمہارا تیس سال کا تجربہ ہے تو پچھلے ایک سال سے تمہارے ساتھ لڑ لڑ کر میرا تجربہ اکتیس سال کا ہوگیا ہے۔ 1996 میں عمران خان نے سیاست میں قدم رکھا تو سیاسی ناتجربہ کاری کی وجہ سے نواز شریف نے اس پر یہودی لابی، جمائما خان، سیتا وائٹ، گولڈ سمتھ جیسے الزامات لگا کر اس کی سیاست کا جنازہ نکال دیا اور عمران خان اس سے لڑتا رہا پھر کچھ عرصہ عمران خان کو نواز شریف کی قربت میں بیٹھنے کا اتفاق ہوا تو نواز شریف کو سمجھنے کا موقع ملا اور آج اگر نواز شریف کا تجربہ 30 سال ہے تو پچھلے 16 سال سے عمران خان نے اس کے ساتھ سیاست کرکرکے اپنا تجربہ 46 سال کا کرلیا ہے۔ ن لیگ آئندہ بھی وہی سیتاوائٹ، یہودی لابی، جمائما خان سکینڈل اچھالے گی اور یہ بات عمران خان کو بھی معلوم ہے۔

    ن لیگ کو سب سے زیادہ کنفیوژ عمران خان نے ہی کررکھا ہے۔ پہلے عمران*خان نے گوزرداری گو مہم چلوائی اور جلد ہی اس کو بند کروادیا، پھر لیپ ٹاپ سکیم شروع کروائی جو سکینڈلز کی زد میں* آگئی۔ پھر اپنے خوف سے بار بار نورا کشتیاں کروائیں اور مشرف کے مخصوص دوستوں کو اس کی پارٹی میں شامل کروایا۔
    ن لیگ میں لانگ مارچ کی سکت نہیں، لانگ مارچ کا اعلان ہوتے ہی چوہدری نثار پولیس کو فون کرکے اپنے آپ کو نظربندکروالے گا۔ حنیف عباسی اپنی منشیات ساز فیکٹری کے گودام میں چھپ جائے گا۔ رانا ثناء اللہ نازک اندام شخص ہے اس میں بھی لانگ مارچ کی سکت نہیں۔ ن لیگ کا المیہ ہی یہ ہے کہ اس کے پاس لیڈر زیادہ ہیں اور کارکن بہت کم۔ خواجہ آصف، احسن اقبال، چوہدری نثار، شہباز شریف، حمزہ شہباز جیسے لوگ چوری کھانے والے مجنوں ہیں۔ میں جب ماضی کو جھانکتا ہوں تو ن لیگ نے بے نظیر دور میں تحریک نجات کا اعلان کیا۔ تحریک نجات کا اعلان ہوتے ہی نواز شریف اور شہباز شریف لندن تشریف لے گئے اور حیرت کی بات یہ تھی کہ جیل میں وہ لوگ گئے جو کبھی مشرف کا حصہ تھے۔ چوہدری پرویز الہی، چوہدری شجاعت، کامل علی آغا جیل کی ہوا کھارہے تھے اور یوں جب یہ تحریک ختم ہوئی تو میاں*برادران وطن واپس آگئے اور جب انہیں دوسری بار اقتدار ملا تو ایک بھائی وزیراعظم اور دوسرا بھائی وزیراعلی بن گیا اور جیل کی ہوا کھانے چوہدری پرویزالہی کو یقین دلایا گیا تھا کہ آئندہ وزیراعلی پنجاب وہی ہوں گے لیکن یہ وعدہ وفا نہ ہوسکااور چوہدری برادران بھی وفا نہ کرسکے اور مشرف کے دور میں جب یہ ملک سے بھاگے تو یہ بیوفائی کرکے مشرف کے ساتھ مل گئے۔


  26. #38
    Professional
    Join Date
    May 2011
    Posts
    3,843
    Post Thanks / Like

    Re: دانتوں پسینہ - Must Read

    hey who wrote this???
    This is brilliant.

    you should make saperate thread so that more people read it.
    the last part was hilarious.
    Thank you. this just made my day.
    Quote Originally Posted by PAINDO View Post
    اسے مذاق سمجھیے یا عقید ت ثبوت پیش خدمت ہے



    یہ کوئی لچھے دار مضمون، طویل بلاگ یا کوئی تجزیاتی تحریر نہیں بلکہ پِچھلے کُچھ دِنوں سے ذہن میں اُبھرنے والے سوالات اور اُنکے ردِ عمل میں پیدا شُدہ خیالات کا ایک مُختصر سا ڈھیر ہے۔ آپ بھی اِن سوالات کو پڑھیں، کُچھ کے جوابات بِجلی کی سی تیزی سے پردہِ ذہن پر نموُدار ہوتے چلے جائیں گے، کُچھ کے نِسبتاً کم رفتار سے ۔ ۔ ۔ رفتار کے اِس فرق کی وجہ ذہانت سے زیادہ دراصل ہماری تاریخ اور سیاست کی اُفقی عمُودی ...سُوجھ بُوجھ کا فرق ہے جِسمیں غلط، صحیح کُچھ نہیں۔
    تیسویں اکتوبر سے پہلے عمران خان اور اُسکی تحریک کی ’’حرکتیں‘‘ کِسی توجہ کا رُخ موڑ سکیں نہ کِسی مضمون کا سنجیدہ موضوع بن سکیں لیکن مینارِ پاکستان پر گرنے والے شہابئے (سکائی لیب) نے زمینِ سیاست پر وہی برپا کیا جو شہابئے کرتے ہیں، ہلچل، افراتفری، بے یقینی اور تباہی۔ دُنیائے سیاست کے باسیوں کو سنبھلنے میں کُچھ وقت لگا ۔ ۔ ۔ لیکن گُزرے چند ہفتوں میں اُنہوں نے نہ صِرف اپنے سنبھلنے کا احساس دِلایا بلکہ مُنظم اور مُتحرک ہونے کا بھی۔ دُشنام وا اِلزام کا کونسا تیر ہے جو خان صاحب کو زیر کرنے کی غرض سے چلایا نہیں گیا اور یہ سلسلہ روز برز تیز ہوتا چلا جا رہا ہے۔ لیکن ایک ’’تیر‘‘ جو بڑی سُرعت اور تسلسل کیساتھ داغا جا رہا ہے وہ یہ کہ اُنہی بوسیدہ چہروں کیساتھ نِظام کی تبدیلی کیسے مُمکن ہے؟

    جو لوگ (سیاستدان، مُبصرین) عمران خان کو پُرانے چہروں کو پارٹی میں لینے پر طعنہ زن ہیں اُنکا اصل مُحرک کیا ہے؟

    وطن اور گراوٹ کا نشانہ بنی اِس بد نصیب قوم سے بے لوث مُحبت اور اِس دھرتی کے درماندہ باسیوں کا بھلا؟ یعنی وہ واقعی خالص نیت سے چاہتے ہیں کہ سیاست کے اِن ’’امریش پوریوں‘‘ سے جان چھوٹے اور کوئی چاکلیٹی ہیرو پردہ سیمیں پر اُبھرے اور اِس مُتعفن نِظام کو چہار سُو پھیلے چمن سے بدل ڈالے؟
    کیا وہ واقعی سٹیٹس کو سے بیزار تھے اور برسہا برس سے عمران خان کو ایک اُمید کے طور پر دیکھتے تھے، روشنی کی حقیقی کِرن مانتے تھے اور ایک مُتبادل کے طور پر قوم کے سامنے پیش کرتے رہے لیکن اچانک عمران خان کے اِس پینترہ بدلنے پر دِلگرفتہ ہو گئے اور با آوازِ بلند لگے کلمہِ حق کہنے؟
    یا
    در حقیقت یہ اُن کا برسہا برس کا الیکشنز کا تجربہ اور عوامی رُجحان کو جانچنے کی صلاحیت سے لِپٹا خوف بول رہا ہے جِسکے بل پر وہ جانتے ہیں عوام بہت مُشکل سے نئے لوگوں کو موقع دیتے ہیں، دھڑوں، ذاتوں، زبانوں اور فِرقوں میں بٹی اِس قوم کو ایک نُکتے پر، فقط ایک شخصیت کے اِرتکاز میں لا کر تبدیلی لانا آسان نہیں؟
    نواز لیگ اور پیپلز پارٹی ایسی ہزار سالہ پُرانی سیاسی جماعتیں جو ہر جنم میں مُختلف نام مگر ایک ہی کردار سے ہماری گردن کا بوجھ بنی رہی بخوبی آگاہ ہیں کہ الیکشنز کیسے لڑے جاتے ہیں ووٹ کِن بُنیادوں پر پڑتے ہیں؟
    لیکن درپیش مسئلہ یہ ہے کہ سولہ سالوں کی تپسیا کیبعد اب عمران خان نے بھی اِس راز کو پا لیا ہے اور وہ اِنتخابات اور اُسکے تقاضوں کو جان چُکا ہے۔ وہ سمجھ چُکا کہ اگر تبدیلی لانی ہے تو یکسر نہیں بتدریج آئیگی، فروغ تعلیم سے، معاشی آسودگی اور عوام کو اُنکے حقوق فراہم کرنے سے آئیگی۔ آپکو اپنی بات پہچانے کیلئے شائد ایک عرصہ وہی بولی بولنا ہوگی جو یہاں سمجھی جاتی ہے۔
    لہذا ایک باقاعدہ مُنظم مُہم چلی اور اُنکی طرف سے چلی جِن کی پارٹیاں ٹوٹ رہی تھیں بِکھر رہی تھیں، کُچھ جا چُکے تھے اور بہت سے تسمے باندھ رہے تھے۔
    یکا یک اِتنے سارے کالم نویسوں اور ٹاک شو ہوسٹس کو ایک ہی خیال، ایک ہی وقت میں، ایک جیسی شدت اور ایک ہی آھنگ سے کیسے آگیا؟ یک بیک نواز لیگ کے بیانات کی تڑتراہت اخباری کالموں اور ٹاک شوز کی گڑگڑاہٹ میں کیسے بدل گئی؟ اور پھر مُبصرین، دانشوروں، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پرسنز نے، یکدم ایک کے بعد دوسرے اور اُسکے ساتھ تیسرے نے چند ہفتوں میں یہ شور برپا کیا کہ پھِر وہی پُرانے سیاستدان لائے جا رہے ہیں، تبدیلی کا نعرہ ڈھونگ ہے ۔ ۔ ۔ ۔
    کیا پاکستان کا اِس وقت کا سب سے بڑا مسئلہ عمران خان اور اُسکا تبدیلی کا نعرہ ہے؟
    کُچھ کے ہاں اِسکا جواب ’’ہاں‘‘ ہے اور کیوں نہ ہو؟ ۔ ۔ ۔ در اصل جنبشِ لب (لِپس موومنٹ) اِنکی اور صدا کار کوئی اور ہے،۔

    منصور کے پردے میں خُدا بول رہا ہے

    یہ صحافی جو روز شام سات بجے سے رات گئے تک شامِ مظالم مناتے ہیں۔ ججوں سے لیکر جرنیلوں تک، افسر شاہی سے لیکر سیاستدانوں تک کِسی کی شلوار اُدھیڑتے ہیں تو کِسی کا گریبان چاک کرتے ہیں۔ مُعاشرے میں جڑوں تک پھیلی بدعنوانی کا اعلان بھی روز کا معمول ہے۔ کیا اِن سے پوچھا جا سکتا ہے کہ وہ اِسی معاشرے کا حصہ ہوتے ہوئے قلندرانہ صفات کے حامل کیسے ہیں؟ جِنکے دامن پہ کوئی چھینٹ نہ کردار پہ کوئی داغ؟
    خود تو ہر جماعت اور اُسکے رہنُماؤں کی دستار خاک آلود کرنے کا خود ودیعتی اختیار رکھتے ہیں لیکن اگر کوئی قاری یا ناظر جواباً اپنا ’’بھر پور جمہوری حق‘‘ ارسال کر دے تو اِنکی بِلبلاہٹ بھری چیخیں سُن کر سات کوس دوُر سہمے ہوئے بچوں کے حواس مائیں یہ کہہ کر بحال کرواتی ہیں، ’’بچہ، ڈرو مت ۔ ۔ ۔ یہ کِسی بھوت یا چپڑیل کی آواز نہیں بلکہ یہ تو عطاء الحق قاسمی اور ثنا بُچہ کے با جماعت رونے کی آوازیں ہیں جو اُنکے کالموں اور ٹاک شوز سے آ رہی ہیں‘‘
    Last edited by InsafianPTI; 03-May-2012 at 06:57 AM.


  27. #39
    Advanced
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    NA-170 Mailsi
    Posts
    1,195
    Age
    28
    Post Thanks / Like

    Re: دانتوں پسینہ - Must Read

    Quote Originally Posted by Tutor View Post
    hey who wrote this???
    This is brilliant.

    you should make saperate thread so that more people read it.
    the last part was hilarious.
    Thank you. this just made my day.

    It is buturabi's blog right here on siasat.pk


Page 2 of 2 FirstFirst 12

Similar Threads

  1. Replies: 20
    Last Post: 08-Dec-2011, 08:55 PM
  2. Replies: 75
    Last Post: 27-Aug-2011, 06:22 PM
  3. Replies: 6
    Last Post: 17-Aug-2011, 10:39 PM
  4. پاکستانی سائنسدان بھارت میں قیدہے
    By MrImranKhan in forum Siasi Discussion
    Replies: 4
    Last Post: 24-Apr-2011, 05:00 AM
  5. Replies: 4
    Last Post: 02-Oct-2010, 07:46 PM

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •