resign pmln
Raouf Kalsara ppp ka tato hy woh har aisi koshosh karay ga jaiss say ppp ka faida ho
barca liked this post
slowly but surly people are recognizing the wisdom and foresightedness of ik,,, time is not far when sold out anchors are going to talk in ik favor otherwise they will be loosing their ratings and jobs,,,, well done ik , you are the hero,,,
Hopefully, some emotional PTI supporters will start realizing the importance of JH, SMQ and other oldies. Wah rey Fazlur Rehman, tu ho jis ka dost, usey dushman ki hajat nahin!
BuTurabi liked this post
PAINDO liked this post
[QUOTE=BuTurabi;801232][nahi yar I m very serious, pls try to write in newspaper as well.....
آپ مذاق تو نہیں کر رہے نا !!۔
BuTurabi thanked for this post
اسے مذاق سمجھیے یا عقید ت ثبوت پیش خدمت ہے
یہ کوئی لچھے دار مضمون، طویل بلاگ یا کوئی تجزیاتی تحریر نہیں بلکہ پِچھلے کُچھ دِنوں سے ذہن میں اُبھرنے والے سوالات اور اُنکے ردِ عمل میں پیدا شُدہ خیالات کا ایک مُختصر سا ڈھیر ہے۔ آپ بھی اِن سوالات کو پڑھیں، کُچھ کے جوابات بِجلی کی سی تیزی سے پردہِ ذہن پر نموُدار ہوتے چلے جائیں گے، کُچھ کے نِسبتاً کم رفتار سے ۔ ۔ ۔ رفتار کے اِس فرق کی وجہ ذہانت سے زیادہ دراصل ہماری تاریخ اور سیاست کی اُفقی عمُودی ...سُوجھ بُوجھ کا فرق ہے جِسمیں غلط، صحیح کُچھ نہیں۔
تیسویں اکتوبر سے پہلے عمران خان اور اُسکی تحریک کی ’’حرکتیں‘‘ کِسی توجہ کا رُخ موڑ سکیں نہ کِسی مضمون کا سنجیدہ موضوع بن سکیں لیکن مینارِ پاکستان پر گرنے والے شہابئے (سکائی لیب) نے زمینِ سیاست پر وہی برپا کیا جو شہابئے کرتے ہیں، ہلچل، افراتفری، بے یقینی اور تباہی۔ دُنیائے سیاست کے باسیوں کو سنبھلنے میں کُچھ وقت لگا ۔ ۔ ۔ لیکن گُزرے چند ہفتوں میں اُنہوں نے نہ صِرف اپنے سنبھلنے کا احساس دِلایا بلکہ مُنظم اور مُتحرک ہونے کا بھی۔ دُشنام وا اِلزام کا کونسا تیر ہے جو خان صاحب کو زیر کرنے کی غرض سے چلایا نہیں گیا اور یہ سلسلہ روز برز تیز ہوتا چلا جا رہا ہے۔ لیکن ایک ’’تیر‘‘ جو بڑی سُرعت اور تسلسل کیساتھ داغا جا رہا ہے وہ یہ کہ اُنہی بوسیدہ چہروں کیساتھ نِظام کی تبدیلی کیسے مُمکن ہے؟
جو لوگ (سیاستدان، مُبصرین) عمران خان کو پُرانے چہروں کو پارٹی میں لینے پر طعنہ زن ہیں اُنکا اصل مُحرک کیا ہے؟
وطن اور گراوٹ کا نشانہ بنی اِس بد نصیب قوم سے بے لوث مُحبت اور اِس دھرتی کے درماندہ باسیوں کا بھلا؟ یعنی وہ واقعی خالص نیت سے چاہتے ہیں کہ سیاست کے اِن ’’امریش پوریوں‘‘ سے جان چھوٹے اور کوئی چاکلیٹی ہیرو پردہ سیمیں پر اُبھرے اور اِس مُتعفن نِظام کو چہار سُو پھیلے چمن سے بدل ڈالے؟
کیا وہ واقعی سٹیٹس کو سے بیزار تھے اور برسہا برس سے عمران خان کو ایک اُمید کے طور پر دیکھتے تھے، روشنی کی حقیقی کِرن مانتے تھے اور ایک مُتبادل کے طور پر قوم کے سامنے پیش کرتے رہے لیکن اچانک عمران خان کے اِس پینترہ بدلنے پر دِلگرفتہ ہو گئے اور با آوازِ بلند لگے کلمہِ حق کہنے؟
یا
در حقیقت یہ اُن کا برسہا برس کا الیکشنز کا تجربہ اور عوامی رُجحان کو جانچنے کی صلاحیت سے لِپٹا خوف بول رہا ہے جِسکے بل پر وہ جانتے ہیں عوام بہت مُشکل سے نئے لوگوں کو موقع دیتے ہیں، دھڑوں، ذاتوں، زبانوں اور فِرقوں میں بٹی اِس قوم کو ایک نُکتے پر، فقط ایک شخصیت کے اِرتکاز میں لا کر تبدیلی لانا آسان نہیں؟
نواز لیگ اور پیپلز پارٹی ایسی ہزار سالہ پُرانی سیاسی جماعتیں جو ہر جنم میں مُختلف نام مگر ایک ہی کردار سے ہماری گردن کا بوجھ بنی رہی بخوبی آگاہ ہیں کہ الیکشنز کیسے لڑے جاتے ہیں ووٹ کِن بُنیادوں پر پڑتے ہیں؟
لیکن درپیش مسئلہ یہ ہے کہ سولہ سالوں کی تپسیا کیبعد اب عمران خان نے بھی اِس راز کو پا لیا ہے اور وہ اِنتخابات اور اُسکے تقاضوں کو جان چُکا ہے۔ وہ سمجھ چُکا کہ اگر تبدیلی لانی ہے تو یکسر نہیں بتدریج آئیگی، فروغ تعلیم سے، معاشی آسودگی اور عوام کو اُنکے حقوق فراہم کرنے سے آئیگی۔ آپکو اپنی بات پہچانے کیلئے شائد ایک عرصہ وہی بولی بولنا ہوگی جو یہاں سمجھی جاتی ہے۔
لہذا ایک باقاعدہ مُنظم مُہم چلی اور اُنکی طرف سے چلی جِن کی پارٹیاں ٹوٹ رہی تھیں بِکھر رہی تھیں، کُچھ جا چُکے تھے اور بہت سے تسمے باندھ رہے تھے۔
یکا یک اِتنے سارے کالم نویسوں اور ٹاک شو ہوسٹس کو ایک ہی خیال، ایک ہی وقت میں، ایک جیسی شدت اور ایک ہی آھنگ سے کیسے آگیا؟ یک بیک نواز لیگ کے بیانات کی تڑتراہت اخباری کالموں اور ٹاک شوز کی گڑگڑاہٹ میں کیسے بدل گئی؟ اور پھر مُبصرین، دانشوروں، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پرسنز نے، یکدم ایک کے بعد دوسرے اور اُسکے ساتھ تیسرے نے چند ہفتوں میں یہ شور برپا کیا کہ پھِر وہی پُرانے سیاستدان لائے جا رہے ہیں، تبدیلی کا نعرہ ڈھونگ ہے ۔ ۔ ۔ ۔
کیا پاکستان کا اِس وقت کا سب سے بڑا مسئلہ عمران خان اور اُسکا تبدیلی کا نعرہ ہے؟
کُچھ کے ہاں اِسکا جواب ’’ہاں‘‘ ہے اور کیوں نہ ہو؟ ۔ ۔ ۔ در اصل جنبشِ لب (لِپس موومنٹ) اِنکی اور صدا کار کوئی اور ہے،۔
منصور کے پردے میں خُدا بول رہا ہے
یہ صحافی جو روز شام سات بجے سے رات گئے تک شامِ مظالم مناتے ہیں۔ ججوں سے لیکر جرنیلوں تک، افسر شاہی سے لیکر سیاستدانوں تک کِسی کی شلوار اُدھیڑتے ہیں تو کِسی کا گریبان چاک کرتے ہیں۔ مُعاشرے میں جڑوں تک پھیلی بدعنوانی کا اعلان بھی روز کا معمول ہے۔ کیا اِن سے پوچھا جا سکتا ہے کہ وہ اِسی معاشرے کا حصہ ہوتے ہوئے قلندرانہ صفات کے حامل کیسے ہیں؟ جِنکے دامن پہ کوئی چھینٹ نہ کردار پہ کوئی داغ؟
خود تو ہر جماعت اور اُسکے رہنُماؤں کی دستار خاک آلود کرنے کا خود ودیعتی اختیار رکھتے ہیں لیکن اگر کوئی قاری یا ناظر جواباً اپنا ’’بھر پور جمہوری حق‘‘ ارسال کر دے تو اِنکی بِلبلاہٹ بھری چیخیں سُن کر سات کوس دوُر سہمے ہوئے بچوں کے حواس مائیں یہ کہہ کر بحال کرواتی ہیں، ’’بچہ، ڈرو مت ۔ ۔ ۔ یہ کِسی بھوت یا چپڑیل کی آواز نہیں بلکہ یہ تو عطاء الحق قاسمی اور ثنا بُچہ کے با جماعت رونے کی آوازیں ہیں جو اُنکے کالموں اور ٹاک شوز سے آ رہی ہیں‘‘
BuTurabi thanked for this post
There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)