فرزند پاکستان، قیمت چار سو روپے: لاغر بہاولپوری کا کالم
Published on 22. Apr, 2012
[IMG]http://************************/wp-content/uploads/2012/04/sheikh-rasheed.jpg[/IMG]ہر ایک کو اپنی ماں اچھی لگتی ہے،خاص طور پر جب بچہ باپ اور ماں شوہر کے جلالی سائے سے محروم ہو چکی ہو۔وہ بے حد مہذب ،مہمان نواز،خوش اخلاق ہے مگرسول سوسائٹی (رجسٹرڈ) کا حصہ نہیں، کیونکہ سول سوسائٹی کے ایک حصے کی قیادت جنرل حمید گل اور روئیداد خان کے پاس ہے،یہ اور بات کہ سول سوسائٹی کی جن اقدار اور حقوق کو جس دفاعِ پاکستان کونسل سے خطرہ ہے اور جدھر بے نظیر کا خونِ نا حق اشارہ بھی کر رہا ہے،اس کی قیادت بھی جناب حمید گل کے پاس ہے،البتہ اب ممکن ہے کہ یہ قیادت جنرل پاشا کے پاس آ جائے۔
یہ درست ہے کہ ہماری مرکزی اور صوبائی قیادتیں بھی جمہوریت کے لئے جد و جہد کرنے والوں کو باور کرا رہی ہیں کہ جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے،کمزوروں سے،طاقتوروں کاماجرا اسلم رئیسانی کی دبئی معرکہ پڑیا،قائم علی شاہ کی خواب آور گولی،ہوتی کے ایزی لوڈ،خادمِ اعلیٰ کی آغا حشر کے تھیٹر میں کام کرنے کی امنگ،گیلانی اورزرداری کی ہوسِ زر،رحمان ملک کا خوشیا پن(منٹو کو تو آپ نے پڑھا ہی ہو گا)نوید قمر اور راجہ پرویز اشرف کی ڈھٹائی اور دیگر اداکارانِ جمہوریت کی بنڈل پرفارمنس کا ہو،یا مقدس طاقت وروں کی جانب سے اپنے اپنے ادارے کے وقار کا پول کھولنے والوں کا،سب برابر کی چوٹ ہیں۔
__________________________
شیخ کے رنگ پسٹن، عمران کی تانگہ پارٹی اور تیز چوہدری
_________________________
یہ تو آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کے بہت سے نکھٹو دانش وروں کی طرح کام تو میَں کرتا کوئی نہیں،سوائے اخبارچاٹنے اور مخاطب کا سر کھانے کے،بابا کی پنشن ملتی ہے،تھوڑی سی یا پھرمختلف ناموں سے نظم و نثر لکھ کر ہفتہ دو ہفتے بعد اچھی روٹی بھی کھا لیتا ہوں ،لیکن ٹی وی کے ایک دو اینکروں کی گفتگو سنتے ہی لاغری کے باوجود سر چکرا نے لگ جائے تو اپنی ماں کی گود میں سر رکھ دیتا ہوں،وہ گرمی ہو یا سردی ،اپنے دوپٹے سے پہلے میرا ماتھا خشک کرتی ہے۔
اس کا خیال ہے کہ میری روح کے سارے زخم اسے میرے ماتھے پر ہی دکھائی دیتے ہیں،مگر تب،جب وہ اپنے دوپٹے سے اپنے جامِ جم کو اچھی طرح صاف کر لے ، پھر اپنی مہربان انگلیوں سے وہ دوسروں کو نہ دکھائی دینے والے ان زخموں کو سہلاتی جاتی ہے اور میرے ہر سوال کا جواب دیتی جاتی ہے۔ایسے موقع پر میَں حیران ہوتا ہوں اوراکثر پوچھتا ہوں،اماں تمہارا تاریخ کا علم مجھ سے بہتر کیوں ہے؟ تو وہ ہنس کے کہتی ہے کہ ایک تو میَں نے تمہاری طرح نسیم حجازی کے ناول نہیں پڑھے اور نہ ہی میَں نے تمہاری طرح پاکستان سٹڈیز پڑھی ہے جس کی کتابیں ڈکٹیٹروں نے اپنے خوشامدیوں سے لکھوائیں۔
میَں کہتا ہوں تم سیاست کے بارے میں اتنا کیسے جانتی ہو،وہ کہتی ہے کہ جس گھر سے گولیوں سے چھلنی ایک سیاسی جنازہ اٹھا ہو،ان کے سامنے بگڑی نیتّوں والوں کے کھیل،کُھل جاتے ہیں،میَں پوچھتا ہوں،اماں تمہیں کیسے پتا چل جاتا ہے کہ ہماری عدالتیں،کیا فیصلہ کریں گی،وہ کہتی ہے تم باریکی میں جاتے ہو،باریک سوچتے ہو،میَں جس طرح موٹا پیستی ہوں،موٹا پہنتی ہوں،موٹا موٹا سوچتی ہوں،مجھے پتا ہے کہ جو جج بہت بولتا ہو،وہ انصاف نہیں کر سکتا اور جو منصف صرف اپنے آپ کو حق،سچ سمجھ لے،اور باقی مخلوق کو گناہ گار،وہ کبھی حق اور ناحق کے درمیان فرق نہیں کر سکتا۔
میَں کہتا ہوں اماں،یہ سندھ کارڈ،سرائیکی کارڈ،جہاد کارڈ کیا ہے؟ تو وہ ہنس کے کہتی ہے کہ اتنی ساری موبائل ایجنسیاں ہیں، یہ ان کے ٹھگو ہیں،تخت تو دو ہی ہیں،ایک لاہور کا اور ایک پنڈی کا،میَں کہتا ہوں کہ اماں یہ شیخ رشید کس کے کہنے پر گیلانی کے بیٹے کے خلاف کیس میں فریق بن گیا ہے،وہ معصومیت سے پوچھتی ہے کہ یہ وہی شیخ ہے ناں،جو بہاولپور جیل میں رہا تھا اور اس نے ایک کتاب لکھی تھی،جو تُو خود گھر لے آیا تھا ،جس میں بتایا گیا تھا کہ بندے کو دو،تین وکیل نہیں ایک جج کر لینا چاہیئے۔
تب میَں بھی ہنس پڑتا ہوں،مجھے اس کتابفرزندِ پاکستان کا ٹایٹل پیج یاد آجاتا ہے،جس پر شیخ رشید کی بڑی ساری تصویر ہے اور نیچے لکھا ہوا ہے، قیمت چارسو روپے۔
پھر میَں اماں سے کہتا ہوں کہ اماں،ایک فہد چودھری ہے، نعیم بخاری کی طرح بڑے پکے ارادے والاآزاد وکیل،پہلے جنرل مشرف کے ساتھ تھا،اب پیپلز پارٹی میں آ گیا ہے،اب وہ اپنی پارٹی کو مشورہ دے رہا ہے کہ وزیرِ اعظم اڈیالہ جیل جاتے جاتے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے پی سی او جج بحال کر دیں،ایسا ہوا تو تخت لاہور والوں نے سپریم کورٹ پر حملے کے بعد جیسے ججوں کی بغاوت کرائی تھی،ویسی ایک افرا تفری مُلک میں مچ جائے گی۔
ماں میری بڑی معصومیت سے پوچھتی ہے کہ ویسے آپس کی بات ہے،اس وقت مُلک میں جو کچھ ہے ،وہ کیا ہے؟ میَں کہتا ہوں کہ اماں ایک بات سمجھ میں نہیں آتی کہ مشرف جماعت کے سارے لیڈر نواز،زرداری اور عمران کی جماعتوں میں کیوں جا رہے ہیں،وہ بڑی سادگی سے کہتی ہے تاکہ سب جماعتوں کے مطالبے پروہ گوریلا حکمران مُلک میں واپس آ سکے،جس کا سر بلوچ مانگتے ہیں۔
http://************************/laghar...-column-120421









