Siasat.pk Forums
Results 1 to 8 of 8
  1. #1
    Intermediate
    Join Date
    Nov 2011
    Location
    Jeddah, Saudi Arabia
    Posts
    587
    Age
    55
    Post Thanks / Like

    Today's Columns - 23rd April 2012




    Last edited by Waseem; 23-Apr-2012 at 02:41 PM.


  2. #2
    Intermediate
    Join Date
    Nov 2011
    Location
    Jeddah, Saudi Arabia
    Posts
    587
    Age
    55
    Post Thanks / Like

    Musa Gillani and Intrigues against the prime minister....


    Last edited by Waseem; 23-Apr-2012 at 02:40 PM.


  3. #3
    Expert
    Join Date
    Apr 2011
    Location
    New York
    Posts
    7,462
    Age
    N/A
    Post Thanks / Like

    Re: Accident, judicial commission, motorway and prime minister.

    i hate him , thats why i did not read it,, he is a traitor


  4. #4
    Intermediate
    Join Date
    Feb 2011
    Posts
    375
    Post Thanks / Like

    Re: Accident, judicial commission, motorway and prime minister.

    He works on an agenda,I changed Daily Jang just because of him,hate him.


  5. #5
    Professional Za Chaudhry's Avatar
    Join Date
    Jun 2011
    Location
    آفاقی
    Posts
    4,331
    Age
    ---
    Post Thanks / Like

    اتنی ناراضی کیوں؟


    مشتاق احمد خان

    اجمیر شریف سے فارغ ہونے کے کئی دن بعد صدر آصف علی زرداری کو بالآخر سیاچن کے گیاری سیکٹر کا دورہ کرنے کا وقت مل گیا۔ میں یہ تو ہرگز نہیں کہوںگا کہ دیر آید درست آید۔ اس لیے کہ بعض معاملات میں اصل اہمیت ٹائمنگ کی ہوتی ہے۔ محبت، ہمدردی اور افسوس کا اظہار ہو، یا ڈھارس اور تسلی دینے کا عمل ان سب کے لیے ایک لمحۂ خاص متعین ہوتا ہے جو آتا ہے اور گزر جاتا ہے، پھر اس کے بعد ہر جملہ کھوکھلا ہوجاتا ہے، ہر اظہار رسم بن جاتا ہے۔ رسم پوری کرنے اور تعلق نبھانے میں کیا فرق ہے، یہ آصف علی زرداری خوب جانتے ہیں۔ اپنے تمام فیصلوں میں پرفیکٹ ٹائمنگ کا مظاہرہ کرنے والے آصف علی زرداری منیر نیازی کی طرح یہ عذر بھی نہیں کرسکتے کہ ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں۔ ادھر شہبازشریف بھی بھارت سے تجارت کا گیٹ وے کھولنے میں ضرورت سے کچھ زیادہ ہی منہمک تھے۔ خادمِ اعلیٰ پنجاب کے برادرِ بزرگ نوازشریف، اپنے برادرِ خورد کا بھارت سے تجارت میں انہماک دیکھنے میں منہمک تھے۔ یہ مصروفیت ختم ہوئی تو انہیں بھی سیاچن کا گیاری سیکٹر یاد آیا۔ انہوں نے گلگت کے گائوں شگر کا دورہ کیا اور ان 65 فوجیوں کے خاندانوں سے ملاقاتیں کیں جو گیاری سیکٹر میں برفانی تودے کے نیچے دبے ہوئے ہیں اور جن کی تلاش کا کام ہنوز جاری ہے۔ اپنے اس دورے کے موقع پر نوازشریف نے پاک فوج کو مشورہ دیا کہ وہ بھارت کے فوجیں ہٹانے کا انتظار کیے بغیر یک طرفہ طور پر سیاچن سے نیچے اتر آئیں۔ جنرل پرویزکیانی نے نوازشریف کے بیان پر تبصرہ کیے بغیر یہ کہا کہ ہم دفاع وطن کے تقاضوں کے مطابق سیاچن پر موجود ہیں۔ اب یہ تو نوازشریف ہی جانیں کہ انہوں نے بن مانگے فوج کو مشورہ کیوں دیا اور وہ بھی پسپائی کا؟ کیا انہیں اندازہ نہیں کہ ان کا بیان دراصل اُن لوگوں کو تقویت پہنچانے کا باعث بنے گا جو پہلے تو فوج پر یہ پھبتی کستے رہے کہ وہ سیاچن کا دفاع نہں کرسکی، اور اب روزانہ عوام الناس کو یہ سمجھانے میں مصروف ہیں کہ سیاچن دنیا کا مہنگا ترین محاذِ جنگ ہے، پاکستان اتنی مہنگی جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ یقینا پاکستان کے مہنگائی کے مارے عوام اس معاملے میں انہی لوگوں کے ہم زبان ہوں گے جو پاکستانی فوجوں کو سیاچن سے یکطرفہ پسپائی کا مشورہ دے رہے ہیں۔ لیکن اگر کسی حکومتی فیصلے کے نتیجے میں بھی پاکستانی فوج یکطرفہ طور پر سیاچن سے پسپا ہوتی ہے تو یہی عناصر یک دم پلٹا کھاکر اس فیصلے کو فوج کی بزدلی قرار دیں گے۔ کیا نوازشریف کو اندازہ ہے کہ یہ طعنہ پاک فوج کے مورال کو کس حد تک تباہ کرنے کا سبب بنے گا! ویسے نوازشریف سے پوچھا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں یہ فیصلہ کیوں نہیں کیا کہ افواج پاکستان یکطرفہ طور پر سیاچن سے واپس آجائیں؟ کیا محض اس لیے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں تب انہیں اپنی مقبولیت متاثر ہونے کا خدشہ تھا؟ یا اب خاص حالات میں وہ افواج پاکستان کو ایسے فیصلوں کی طرف لے جانا چاہتے ہیں جن کے نتیجے میں اپنی فوج سے پاکستانیوں کا تعلق کمزور سے کمزور تر ہوتا چلا جائے! ہمارے نصیب میں بھی کیسے کیسے سیاست دان لکھے ہیں! صدرِ مملکت آئینی طریقہ اختیار کرنے کے بجائے ملتان میں کھڑے ہوکر سرائیکی صوبہ بنانے اور سرائیکی بینک قائم کرنے کا اعلان کرتے ہیں، اور سابق وزیراعظم اُن لوگوں کے درمیان کھڑے ہوکر، جن کے گھروں کے چراغ دفاعِ وطن کے لیے سیاچن کے برفانی گلیشئر پر منفی درجہ حرارت میں نگرانی کا فریضہ ادا کرتے ہوئے برف کے تودے تلے دب گئے ہیں، اس محاذ سے یکطرفہ طور پر پیچھے ہٹنے کا مشورہ دے کر در حقیقت ان قربانیوں کو لایعنی قرار دے رہے ہیں جو افواجِ پاکستان نے دفاعِ وطن کے لیے مختلف اوقات میں دی ہیں۔ میری نوازشریف سے درخواست ہے کہ اللہ کے واسطے اس قوم کو جو پہلے ہی سیاست دانوں کی حماقتوں کا سارا غصہ افواجِ پاکستان پر نکالنے پر تلی بیٹھی ہے، مزید مشتعل نہ کریں۔ مجھے یہ سب کچھ لکھنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ گزشتہ دنوں میں نے سیاچن کے شہیدوں کے نام ایک کالم لکھا، تو جہاں ایک طرف مجھے تحسین کے جذبات اور پیغامات موصول ہوئے، وہیں کچھ دل جلوں نے اپنے پھپھولے بھی پھوڑے۔ ایک پیغام جو کئی نمبروں سے موصول ہوا، یہ تھا کہ جماعتیو! کب تک فوج کے جوتے چاٹو گے۔ اس کا جواب تو میں نے یہ دے دیا کہ بھائی آپ امریکی فوج کے جوتے چاٹ لو۔ لیکن اس پیغام کا کیا کیا جائے: لُوٹ کے کھا گیا جی ایچ کیو۔ بھوکے رہ گئے مَیں اور تُو۔ کیا واقعی؟ آصف علی زرداری، یوسف رضا گیلانی کی اربوں کی کرپشن، اور شریفوں کی اقتدار کے ذریعے کمائی گئی اس دولت کا جو غیر ملکی بینکوں میں محفوظ ہے یا سرمایہ کاری کے لیے استعمال ہورہی ہے، اس ملک کے عوام کی بھوک اور ننگ سے کوئی واسطہ نہیں ہے؟ کیا یہ ساری مہنگائی محض فوج کی وجہ سے ہے؟ سول حکمرانوں کے اللوں تللوں کی وجہ سے نہیں ہے؟ ایک صاحب نے لکھا: گزشتہ 8 برسوں میں سیاچن پر ایک گولی بھی فائر نہیں ہوئی۔ وہاں اندھی گولی کے نشانے پرکون ہے۔ اندھی گولی کا نشانہ کون بنتا ہے۔ کراچی آکر دیکھ لو۔ تو میرے بھائی کراچی کے یہ حالات کس کے پیدا کردہ ہیں؟ کراچی 1986ء سے آتش فشاں بنا ہوا ہے۔ لیکن 2001ء سے 2005ء تک جب کراچی کی نظامت جماعت اسلامی کے پاس تھی، کیا تب امن وامان کی صورت حال آج سے کہیں زیادہ بہتر نہیں تھی؟ حالانکہ تب ملک پر ایک فوجی حکمران تھا۔ آج ملک میں جمہوری حکومت اور فرینڈلی اپوزیشن ہے، پھر بھی کراچی میں روز لوگ مررہے ہیں سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود۔ کون نہیں جانتا کہ کراچی میں ایک دوسرے کو ٹارگٹ کرنے والی تینوں جماعتیں اقتدار میں شریک ہیں۔ ایک صاحب نے پوچھا: 12مئی 2007ء کو فوج کہاں مرگئی تھی؟ میرے بھائی سوال یہ بھی تو ہے کہ 12مئی 2007ء کو جن لوگوں نے کراچی کو اسلحہ کی زد پر لے رکھا تھا، جن لوگوں نے چیف جسٹس کو کراچی ایئرپورٹ سے باہر آنے نہیں دیا تھا، اور جن کے چہرے دن بھر ٹی وی اسکرین پر دکھائے گئے تھے، جن لوگوں نے سانحہ 12مئی کے تحقیقاتی کمیشن کے اجلاس کا گھیرائو کرکے اسے کام سے روک دیا تھا، 2008ء میں کراچی کے لوگوں نے کیا انہی لوگوں کو اپنا نمائندہ منتخب نہیں کرلیا؟ وہ اے این پی اور پی پی پی جو 12مئی کو اپنے لوگوں کی لاشیں اٹھائے پھررہی تھیں، سندھ کی حکمرانی کے لیے ان لوگوں کو ساتھ ملانے پر کیوں آمادہ ہوئیں جن کو وہ 12مئی 2007ء کو اپنے لوگوں کے قتل کا ذمہ دار قرار دے رہی تھیں؟ ایک صاحب نے لکھا کہ آپ نے ہمیشہ ملکی حالات کا درست تجزیہ کیا ہے۔کیا آپ نہیں جانتے کہ ہماہلِ کراچی جس عذاب میں مبتلا ہیں اس کا سب سے زیادہ ذمہ دار کون ہے؟ جی ہاں، میں جانتا ہوں اس کی ذمہ دار بے نظیر تھیں جنہوں نے کراچی کے دہشت گردوں کی سیاسی حیثیت کو تسلیم کیا۔ نوازشریف ہیں جنہوں نے ان کے مقابلے میں کراچی سے آئی جے آئی کا امیدوار کھڑا نہ کرنے کا اعلان کیا۔ اور عمران خان ہوں گے اگر وہ مرکز میں حکومت سازی کے امکانات دیکھ کر کراچی کے بارے میں چپ کا روزہ جاری رکھیں گے جو انہوں نے گزشتہ چند ماہ پہلے رکھا ہے۔ میں شاید یہ سب کچھ نہ لکھتا اگر مجھے یہ احساس نہ ہوتا کہ اگر کسی سانحہ کے موقع پر بھی ہم اپنے قومی ادارے کے ساتھ کھڑے نہیں ہوسکتے تو پھر شاید ہم اپنا وجود بھی برقرار نہ رکھ سکیں۔ اگر ہمارے رہنما بے نظیر بھٹو کی تعزیت کے لیے لاڑکانہ جاسکتے ہیں، شریف خاندان سے اظہارِ ہمدردی کرسکتے ہیں، لندن میں قتل ہونے والے عمران فاروق ہی نہیں، گلی محلّوں میں مارے جانے والے لوگوں کے سوگ کے لیے ہڑتال کرسکتے ہیں تو آخر دشمن کے مقابل کھڑے فوجیوں سے ان کے رفقاء کی شہادت پر اظہارِ ہمدردی کیوں نہیں؟

    http://www.jasarat.com/epaper/index.php?page=03&date=2012-04-23



  6. Than/ks sajoo thanked for this post
    Likes Rana.Sarfraz liked this post

  7. #6
    Professional Za Chaudhry's Avatar
    Join Date
    Jun 2011
    Location
    آفاقی
    Posts
    4,331
    Age
    ---
    Post Thanks / Like

    بنئے سے بیوپار

    نواز میرانی

    بھارت کے ساتھ تجارت کرنے کے حق میں دلائل دینے والے اس ضمن میں رسول پاکﷺ کی مثال دیتے ہیں۔ حالانکہ وہ سیاق و سباق سے ہٹ کر بات کرتے ہیں۔ اس وقت وہاں کی صورت حال ایسی تھی جیسے برصغیر کی تقسیم سے قبل کافر اور مسلمان اکٹھے رہتے تھے اور ان کی معاشرتی مجبوری کی وجہ تجارتی سرگرمیاں جاری تھیں۔ مگر انہوں نے پورے ہندوستان میں کسی مسلمان تاجر کو پنپنے نہیں دیا اور کوئی ایسا قابل ذکر تاجر نہیں جس کا ذکر کیا جا سکے۔ مسلمانوں کی اکثریت کو ہندوﺅں نے سود کی لعنت میں اس بری طرح جکڑا ہوا تھا کہ ان کی نسلیں مقروض ہو کر مر جاتی تھیں۔ گھر بار بک جاتے مگر وہ ان کے سودی شکنجے سے چھٹکارا حاصل نہیں کر پاتے تھے۔ تقسیم سے قبل چولستان جیسے صحرائی علاقے میں ایک ہندو کی کریانے کی دکان تھی۔ ہندو ہر وقت دکان پر آنکھیں بند کئے بیٹھا رہتا۔ ایک دن اس کے کسی بے تکلف دوست نے پوچھا یار تم آنکھیں کیوں بند کر کے بیٹھے رہتے ۔ وہ بولا گاہک تو شاذ و نادر ہی آتا ہے، میں سوچتا ہوں میں اپنی دید (آنکھوں) کا زیاں کیوں کروں۔ سیاچن میں ہمارے ملک سے کہیں زیادہ بھارت کا خرچہ ہو رہا ہے۔ مگر وہ اپنے ناجائز قبضے کو اس لئے نہیں چھوڑتا کہ اس کی ذہنیت ہی ایسی ہے۔ گرمیوں کی تپتی دھوپ اور لو میں کسی ہندو کو مسلمان نے کہا کہ میرے پاس چھاﺅں میں آ جاﺅ، تو ہندو نے جواب دیا تھا کہ کتنے پیسے دو گے، میں ابھی آ جاتا ہوں۔ بظاہر یہ باتیں لطیفے لگتی ہیں مگر یہ حقائق ہیں جو ہندو بنئے کی ذہنیت اور نفسیاتی کجی کا اظہار کرتے ہیں۔ تجارت کا بنیادی اصول تو بے وقوف بھی جانتے ہیں اگر پڑھے لکھے جاہل، دانستہ اس سے پہلو تہی کریں تو سوائے ماتم کرنے کے قوم کیا کر سکتی ہے۔ بنیادی اصول تو یہ ہے کہ تجارت میں آپ کو فائدہ ہو تو پھر سودا بازی کرنی چاہئے۔ مگر یہاں حساب الٹ ہے۔ یہاں تو پہلے مہینے ہی کروڑوں کا خسارہ ہماری قسمت میں لکھ دیا گیا۔ سوائے سیمنٹ کی برآمد کے اور کس چیز کا فائدہ ہوا۔ بھارت نے اس پہ بھی یہ پابندی لگائی کہ پاکستان سے کنٹینر کی بجائے صرف ٹرک میں سیمنٹ بھیجا جائے اور اس طرح سے اس نے اپنی سڑکوں کی توڑ پھوڑ بچا لی۔ حیرت ہے کہ ہمارے ملک میں وافر مقدار میں سیمنٹ پیدا ہونے کے باوجود اس کی قیمت طلب اور رسد کے اصول کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنے عوام کی دسترس سے دور رکھنے کیلیئے ہر بجٹ میں قیمت بڑھا کر دگنا کر دی جاتی ہے۔ بھارت سے تجارت میں حدیث مبارکہ کی بھی نفی کی گئی ہے جس کا مفہوم کچھ اس طرح سے ہے کہ کوئی چیز خریدتے وقت ایک سے زائد جگہ سے پتہ کرنا چاہئے، اور جہاں سے سستی ملے وہاں سے خریدنی چاہئے۔ اس کے علاوہ بھاﺅ تاﺅ کرتے وقت اس قدر بحث و مباحثہ کیا جائے کہ بیچنے والے کو پسینہ آ جائے۔ اگر ہم نے اس پہ اندرون و بیرون ملک عمل کیا ہوتا تو نہ تو ملک میں اشیاءکی قیمتیں بڑھتیں اور نہ ہی ہمیں بھارت سے تجارت میں خسارہ ہوتا۔ مگر جہاں دانستہ امریکہ کے کہنے بلکہ حکم پہ بھارت جیسے ازلی دشمن کو فائدہ پہنچانا مقصود ہو وہاں عقل و دانش اور شعور گھاس چرنے چلا جاتا ہے۔ پاکستان نصف صدی سے زائد عرصے میں اس لئے ترقی نہیں کر سکا کہ یہاں ماہرین کی بجائے عام لوگوں کو مسلط کر کے ہر منصوبے کا بیڑہ غرق کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ یہاں ایک سے بڑھ کر ایک ماہر موجود ہے، زراعت سے لے کر جوہری و ایٹمی سائنسدان تک ہمارے ماہرین کا نام دنیا کے صف اول کے ماہرین میں شمار ہوتا ہے۔ ہمارے ماہرین خصوصاً ابراہیم مغل کے مشورے کے مطابق ڈیزل پاکستان میں 104، بھارت میں 41روپے لٹر ہے، پاکستان میں یوریا کی بوری 1700روپے جبکہ بھارت میں صرف 270روپے میں بن رہی ہے جبکہ بجلی یہاں 12روپے، بھارت میں صرف چار روپے ہے۔ شوگر کے مریض کے لئے انسولین بنگلہ دیش اور بھارت میں دو سو روپے جبکہ یہاں پانچ سو سے زائد ہے۔ اس طرح ہماری دوائیاں سو سے لے کر تین سو گنا دنیا کے ممالک سے زائد ہیں مگر ان بنیادی چیزوں سے آگہی کے باوجود ہر ضابطے اور قانون کو نظرانداز کر کے واہگہ کے دروازے کھول دیے گئے۔ حتیٰ پانچ دریاﺅں کی سرزمین والے صوبے میں بھی سبزیاں مہنگی قیمت کے باوجود بھارت سے منگوا کر اپنی نااہلی پر مہر ثبت کی جا رہی ہے۔ حالانکہ کسانوں کو بھارت کی طرح مراعات دے کر یہاں بھی خوشحالی لائی جا سکتی ہے۔
    اگر کسی بھی حکومت نے ماہرین سے رہنمائی نہ لینی ہو۔ اور کروڑوں عوام کی امیدوں امنگوں، خواہشوں کا اندازہ لگانا ہو تو وہ ہر روز جناب مجید نظامی کی صدارت میں ادارتی کارکنوں کے ساتھ مشاورت سے جو نوائے وقت میں اداریہ چھپتا ہے وہ دیکھ کر عمل کر لیں تو دو قومی نظریے، اسلامی کی سربلندی، ملک و قوم کا عزت و وقار اور نظریہ پاکستان کا تحفظ اس طرح سے ممکن ہے کہ نہ تو حکومتیں اپنے عوام کے ہاتھوں ذلیل ہوں گی نہ ہی بیرون ملک آج کی طرح رسوا ہوں گی۔ جناب مجید نظامی تو چین اور ایران سے بجلی لینے کے حق میں ہیں مگر قومی غیرت اور خودداری کی وجہ سے بھارت سے بجلی لینا گناہ سمجھتے ہیں۔ ان کے بقول بنئے سے بیوپار کر کے حکمران خوار ہو جائیں گے۔

    http://www.nawaiwaqt.com.pk/pakistan-news-newspaper-daily-urdu-online/Opinions/Columns/23-Apr-2012/27169




  8. #7
    Professional Za Chaudhry's Avatar
    Join Date
    Jun 2011
    Location
    آفاقی
    Posts
    4,331
    Age
    ---
    Post Thanks / Like

    Shaitan Ka Mission Fahashi Phelana Hai:Jammiat Itehad ul Ulama

    جمعیت اتحاد العلما ءپاکستان کے ناظم اعلی شیخ القرآن والحدیث مولانا عبدالمالک نے کہا ہے کہ باطل طاقتیں اسلام کے خلاف متحد ہو کر مختلف طریقوں سے حملہ آور ہیں‘ان سے مقابلے کے لئے امت مسلمہ کا اتحاد ناگزیر ہے۔معاشرے میں فحاشی و عریانی مغرب کی تہذیبی یلغار ہے جو امت مسلمہ کو روحانی طور پرقتل کرنے کی چال ہے،دجالی تہذیب کا خاتمہ اورمصطفوی تہذیب کی سربلندی ہماری ذمہ داری ہے،اسلامی معاشرے کو بے حیائی سے آلودہ نہیں ہونے دینگے،قوم فحاشی و عریانی کے ذریعے تشہیر کرنے والی مصنوعات کا بائیکاٹ کرے‘حکومت اسلامی اقدار ‘آئین پاکستان اور پیمرا قوانین کے خلاف مواد دکھانے اور آویزاں کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کرے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی کراچی کی اصلاح معاشرہ اور انسداد منکرات مہم کے سلسلے میں ادارہ نور حق میں جماعت اسلامی اور جمعیت اتحادلعلما کے تحت منعقدہ علماءکنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کنونشن سے جماعت اسلامی سندھ کے نائب امیر ڈاکٹر معراج الہدی صدیقی ‘امیر کراچی محمد حسین محنتی‘جمعیت علمائے اسلام (س) کے مولاناقاری عبدالمنان‘مرکزی جمعیت اہل حدیث کے علامہ یوسف قصوری‘جمعیت غربا اہل حدیث کے ڈاکٹر عامر عبداللہ‘جمعیت علمائے پاکستان کے ڈاکٹر صدیق راٹھور‘جمعیت اتحادلعلما ءپاکستان کے نائب ناظم اعلی قاری ضمیراختر منصوری‘ناظم کراچی مولانا ابراہیم حنیف‘مفتی علی زمان کشمیری‘مولانا ضیاءالرحمن فاروقی اور دےگر نے خطاب کیا۔اس موقع پر جمعیت اتحادالعلما ءسندھ کے صدر مولانا عبدالروف ‘جماعت اسلامی کے نصراللہ شجیع‘سید اقبال کے علاوہ شہر بھر کی مساجد کے آئمہ و خطبائ‘مدارس کے اساتذہ کرام و مشائخ عظام کی بڑی تعداد موجود تھی۔کنونشن میں جماعت اسلامی کراچی کے جنرل سیکرٹری نسیم صدیقی نے قرارداد پیش کی جس میں مطالبہ کیا گےاکہ حکومت پاکستانی معاشرے میں پھیلائی جانے والی عریانی‘فحاشی اور بے حیائی جو اسلام اور خود آئین پاکستان کے بھی منافی ہے کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات کرے ‘آزادی رائے کی آڑ میں بے حیائی کے پھیلاو کو روکا جائے‘پیمرا کے ضابطہ اخلاق پر عملدارآمد کو ہر صورت میں ممکن بنائے اورجو چینلز اور اخبارات اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں ان کے خلاف کاروائی کرے‘PTA انٹرنےٹ کی فحش سائٹس بلاک کرے ‘شاہراہوں کو فحش عرےاں سائن بورڈز سے پاک کیا جائے اورحکومت اچھائی کو پھیلانے اور برائےوں کو روکنے میں اپنا موثر کردار ادا کرے تاکہ پاکستانی معاشرے کو تباہی سے بچاےا جا سکے اور ہماری دنیا و آخرت بھی محفوظ ہو۔قرارداد کو حاضرین مجلس نے ہاتھ اٹھاکر منظور کیا۔مولانا عبدالمالک نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام دشمن قوتیں مغرب کی طرح پاکستانی معاشرے کو اخلاقی اور خاندانی طور پر انحطاط پذیر کرنا چاہتی ہیں‘پاکستان کو اسلامی فلاحی ریا ست بنانا ہمارے ایمان کا تقاضا ہے‘ملک میں اسلامی حکومت کے قیام کے بغیر ہم کسی بھی محاذ پر کفار کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ڈاکٹر معراج الہدی نے کہا حیا اور حجاب کے اثاثے کو ہم سے چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے‘چند سکوں اور ٹکوں کی خاطر حوا کی بیٹی کو ننگا کیا جارہا ہے‘آئین و قانون اس کی اجازت نہیں دیتا مگر پھر بھی شاہراہوں اور ذرائع ابلاغ پر یہ گندا کھیل جاری ہے۔عریانی ہمارے معاشرے کی نمائندگی نہیں کرتی‘2فیصد لوگ ہمارے سروں پر اپنی مرضی مسلط کرناچاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام آج بھی ممبر محراب کی آواز پر لبیک کہتے ہیں‘علمائے کرام عوام الناس کی ذہنی آبیاری کریں تاکہ رائے کی تبدیلی اورشعور کے ساتھ منظر نامہ تبدیل کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ جو کمپنیز یا ادارے تشہیر کےلئے عریانی کا سہارہ لیتے ہیں قوم انکی مصنوعات اورنشریات کا بائیکات کردے‘ ذرائع ابلاغ اور اشتہاری کمپنیز کو اپنا رویہ تبدیل کر نا ہوگا۔مولاناقاری عبدالمنان نے کہا کہ فحاشی پھیلانے والے چند پیسوں میں اپنا ایمان بیچ رہے ہیں اور دنیا کمانے کے لئے آخرت تباہ کر رہے ہیں‘یہ کپڑے نہیں عزت بیچ رہے ہیں۔ڈاکٹر صدیق راٹھور نے کہا کہ جب بھی علما ءنے عملی طور پر کوئی کام کیا ہے تو عوام نے ساتھ دیا ہے۔اب تقریر اور تبلیغ سے کام نہیں چلے گا‘لوگ غربت ‘مہنگائی لوڈ شیڈنگ برداشت کر سکتے ہیں مگر اسلام کا مذاق برداشت نہیں کر سکتے۔علامہ یوسف قصوری نے کہا کہ ایک منظم سازش کے تحت فحاشی کے ذریعے بہن ‘بیوی ‘بیٹی کے امتیاز کو ختم کیا جا رہا ہے‘عورت کے عزت سے ہی معاشرے کی عزت ہے ‘اسلامی تعلیمات کو پس پشت ڈالنے کی وجہ سے آج ہم عذابوں میں گھرے ہوئے ہیں۔محمد حسین محنتی نے کہا کہ شیطان کا مشن عریانی ‘ فحاشی و منکرات پھیلانا ہے جب کہ ہمارا مشن معروف کو عام کرنا اور منکرات کو روکنا ہے۔ہورڈنگز‘بورڈز ‘اورذرائع ابلاغ نے امت کو گمراہ کرنے کا بیڑا اٹھا لیاہے‘وقت آگیا ہے کہ ہم اجتماعی قوت کے ذریعے برائی کے طوفان اور فحاشی کے سیلاب کو روکیں۔اصلاح معاشرہ اورانسداد منکرات کےلئے ہر قسم کے اختلافات سے بالاتر ہو کر اٹھ کھڑا ہونا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہم تمام جماعتوں کو ساتھ ملا کر اس برائی کے خلاف ایکشن کمیٹی بنائیں گے اور میڈیا مالکان اور اشتہاری کمپنیز سے ملاقاتیں کریں گے اور شہر میں آویزاں فحش اشتہارات کو تبدیل کرائیں گے۔قاری ضمیر اختر منصوری نے کہا کہ پاکیزہ قیادت کی تیاری کےلئے علماء‘آئمہ ‘ خطبا‘اور اساتذہ کردار ادا کرسکتے ہیں‘یہ سال قیادت کی تبدیلی کے ذریعے اسلامی انقلاب کاسال ہے۔ڈاکٹر عامر عبداللہ نے کہا کہ اصلاح معاشرہ بقائے معاشرہ ہے،دیندار طبقے کو متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔مفتی علی زمان کشمیری نے کہا کہ علما نے ہر دور میں باطل سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے‘آج بھی ہم متحد ہو کر فحاشی پھیلانے والوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔
    http://urdu.jamaat.org/site/general_detail/news/3542
    Last edited by Za Chaudhry; 24-Apr-2012 at 08:21 PM.


  9. #8
    Banned
    Join Date
    Apr 2012
    Location
    in this world
    Posts
    267
    Age
    57
    Post Thanks / Like

    Re: شیطان کا مشن فحاشی وعریانی اور منکرات پھی&

    ok fine lets remove all sign boards , advertisement, movies, songs of "Fahashi" , what about Porn traffic from Pakistan ? no body force them to watch Porn yet they willingly go to these sites..


Similar Threads

  1. Today's Columns - 22nd April 2012
    By Kahlown in forum Siasi Discussion
    Replies: 15
    Last Post: 23-Apr-2012, 01:17 AM
  2. Replies: 45
    Last Post: 04-Jan-2012, 01:33 AM
  3. Dunya Today 23rd April 2009 with IMRAN KHAN - MUST
    By lahori in forum Siasi Videos
    Replies: 2
    Last Post: 24-Apr-2009, 10:41 PM

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •