Siasat.pk Forums
Results 1 to 8 of 8
  1. #1
    Intermediate MuslimPak's Avatar
    Join Date
    Nov 2011
    Location
    زمیں
    Posts
    997
    Age
    25
    Post Thanks / Like

    Talking Shariah soon to be in complete Yemen InshaAllah

    Latest video by France24 in Yemen where Ansar-al-Shariah have taken control and implemented Shariah. You can see even the western media tried its best but ended up showing the good things being seen under Shariah.

    Another point to note is that Yemeni army is in tatters MashaAllah because it does not know why to fight, the fake stories of nationalism are being given to the yemeni army but to no avail

    I think Yemen will soon see a much larger part of its land under the Shariah rule Insha Allah.

    Anyway good video in total.




  2. Thanks muslim01, onlykami thanked for this post

  3. #2
    Advanced JusticeLover's Avatar
    Join Date
    Jan 2012
    Location
    Pakistan
    Posts
    1,333
    Age
    99
    Post Thanks / Like

    Re: Shariah soon to be in complete Yemen InshaAllah

    Good Luck for yemen but we have wait and see it doesn't become Afghanistan part 2.

  4. Likes indigo liked this post

  5. #3
    Professional
    Join Date
    Apr 2010
    Posts
    2,704
    Post Thanks / Like

    Re: Shariah soon to be in complete Yemen InshaAllah

    Killing innocents people and they will implement shariah.
    I have read on this website and news papers how people
    like them in Pakistan killed innocents people in the markets
    and even in the mosques.What they want from the ordinary
    people who can barely finds any work to feed thier families is this shariah
    shame on you calling it shariah.In shariah there must be peace,ordinary people
    property and life is protected and those who are not involved in a conflict
    will also be protected.You cant bring shariah untill you obey the basic of Islam.

  6. Likes indigo liked this post

  7. #4
    Banned
    Join Date
    Apr 2012
    Location
    Karachi, Pakistan, Pakistan
    Posts
    90
    Age
    34
    Post Thanks / Like

    Re: Shariah soon to be in complete Yemen InshaAllah

    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    کیا ان حالات میں یمن سے خوشخبریاں آسکتی ہیں؟



    تحریر: شیخ انور العولقیؒ (2009-10-20)



    ترجمہ: انصاراللہ اردو ٹیم

    عالمی تحریک جہاد کے غیر معمولی بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا گزشتہ برسوں میں مشاہدہ کیا گیا ہے۔ گیارہ ستمبر کی مبارک کاروئی کے بعد امریکہ عالمی اتحاد کو اپنے ساتھ مجاہدین کے خلاف لڑنے کے لئے امادہ کر چکا ہے۔ اس نے افغانستان اور عراق پر قبضہ کیا، پھر دنیا بھر کی حکومتوں پر زور ڈالا کہ جس کا بھی جہاد سے تعلق ہو اسے عقوبت خانوں میں ڈال دیا جائے اور جہاد کی تحریک میں جہاں سے بھی پیسہ آرہا ہو اسے روکا جائے۔ امریکہ کی قیادت میں جہاد کو روکنے کی عالمی جد و جہد کا مجاہدین کو سامنا کرنا پڑا۔ مگر آٹھ سال بعد مجاہدین ہر محاذ پر فتحیاب ہو رہے ہیں اور جہاد پھیلتا جا رہا ہے اور نئے نئے محاذ بنتے جا رہے ہیں۔ اس وقت، صرف ۱۱ ستمبر کے آٹھ سال بعد، آج کی صورت حال کا تصور کرنا بہت مشکل تھا۔

    یہ اس لئے ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”میری امت کا ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑتا رہے گا اور مذمت کرنے والے ان کا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے“۔

    امریکی عوام نے مجاہدین کے خلاف لڑنے کے لئے بش کی بھر پور حمایت کی اور اُس کو اِس مقصد کے حصول کے لئے غیر محدود مال خرچ کرنے کی اجازت دی۔ نتیجہ کیا نکلا؟ وہ ناکام ہوئے، اور بہت بری طرح ناکام ہوئے۔ تاہم اگر امریکہ مجاہدین کو اُس وقت ہرانے میں ناکام رہا جب وہ اپنے صدر کی لا محدود حمایت کر رہا تھا، تو وہ اب کیسے جیت سکتا ہے کہ جب اوبامہ کوناکامی کی مار پڑرہی ہے؟ اگر امریکہ اُس وقت نہیں جیت سکا جب اس کی معاشی قوت اپنے عروج پر تھی تو وہ آج اس، ڈپریشن میں نہیں تو، بحران میں کیسے جیت سکتا ہے ؟

    اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ امریکہ نہیں جیت سکتا۔ اب حالات بدل چکے ہیں اور عالمی جہادی تحریک اب رک نہیں سکتی۔ جہاد کا نظریہ دنیا بھر میں مقبول ہو رہا ہے، مجاہدین مضبوط ہوتے جا رہے ہیں اور جیسے جیسے مجاہدین نئے نئے محاذ کھول رہے ہیں،میدانِ جنگ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔

    افغانستان میں دیہاتی علاقے زیادہ تر طالبان کے ہاتھوں میں ہیں اور مجاہدین کی قوتِ موجودگی میں دن بدن استحکام آرہاہے ۔ عراق میں امریکہ دعویٰ کرتا ہے کہ سیکیورٹی بحال ہو گئی ہے مگر یہ سوال نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ یہ کس قیمت پر ایسا ہوا ہے؟معاشی بحران کے ساتھ عراق پر لگائے گئے امریکی اخراجات کا بھی کوئی حساب کتاب نہیں ہے۔

    اس دور میں جہاد سب سے پہلے فلسطین میں شروع ہوا، پھر افغانستان میں، پھر چیچنیا میں، پھر عراق میں، پھرصومالیہ میں، پھر مغرب میں اور شاید بہت جلد یمن بھی ایک نئے محاذ کی حیثیت سے ابھرے۔

    اور جب یمن میں نیا محاذ کھلے گا تو شاید یہ دنیا کا واحد اہم محاذ ہوگا۔

    کیوں؟ اولاً، جزیرۃ العرب ہمیشہ سے مجاہدین کی زمین کے طور پر رہا ہے اگر چہ اس کی مٹی پر کوئی جنگ نہیں ہوئی۔ افغانستان، بوسنیا، چیچنیا اور عراق میں بیرونی ممالک سے آئے ہوئے مجاہدین کی سب سے بڑی تعداد جزیرۃ العرب سے تعلق رکھتی ہے۔ جب جہاد جزیرۃ العرب میں شروع ہوگا تو جہاد اپنے سرچشمہ کی جانب لوٹے گا۔

    ثانیاً، مکہ اور مدینہ جزیرۃ العرب میں ہیں۔ ان مقدس مقامات کو مرتد حکومت اور ظلم و ستم سے چھڑانا، اسلام کے قلب کو آزاد کرنے کے مترادف ہے۔

    ثالثاً، جزیرۃ العرب کے حکمران اسلام کے خلاف اس جنگ میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں، خصوصاًسعود خاندان۔ آج کے سعود، کل کے عبداللہ بن ابیٔ ہیں۔ انہوں نے منافقت کے فن میں مہارت حاصل کی ہوئی ہے۔ وہ اسلام کے نام پر اسلام سے لڑتے ہیں۔ انہوں نے اپنے بھیڑیوں والے دلوں پر بھیڑوں والے کپڑے چڑھائے ہوئے ہیں۔ اس وقت تک اسلامی نظام اور خلافت کا قیام نہیں ہو سکتا جب تک ان کے وجود کو ختم نہ کیا جائے اور یہ جزیرۃ العرب کے مجاہدین کی ذمہ داری ہے۔
    امریکہ اور اس کے اتحادی اس علاقے میں مجاہدین کے خلاف چالیں چل رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف وہ دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں۔ اے اللہ مومنوں کو فتح نصیب کر اور ان کو اپنے راستے میں استقامت نصیب کر۔

    يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ (سورۃ الصف ۸)

    یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو منہ سے بجھا دیں۔ حالانکہ اللہ اپنی روشنی کو پورا کرکے رہے گا خواہ کافر ناخوش ہی ہوں.


  8. Likes onlykami liked this post

  9. #5
    Banned
    Join Date
    Apr 2012
    Location
    Karachi, Pakistan, Pakistan
    Posts
    90
    Age
    34
    Post Thanks / Like

    کالے جھنڈوں کی سرزمین


    جنوبی یمن میں القاعدہ کی امارت اسلامیہوقار کا سفر




    یہ پہلا وہ غیر ملکی صحافی تھا، جسے مجاہدین نے امارت اسلامیہ کادورہ بغیر کسی رکاوٹ کےکرنے کی اجازت دی تاکہ مجاہدین اور عوام الناس کے مابین تعلقات اور اس امارت اسلامیہ کی حقیقت امریکی صحافی کے زبانی ساری دنیا کومعلوم ہوسکے۔

    تحریر: کاسی کومبز کی زبانی

    ترجمہ: انصار اللہ اردو ٹیم




    جعار، یمن: القاعدہ کا کوئی ملک نہیں ہے۔ یہ بات مجھ سے میرے یمنی سیکیورٹی گارڈ نے اُس وقت کہی جب ہم نے جنوبی یمن میں القاعدہ کے نئے گڑھجعار کی جانب جاتی ناہموار اور کھڈوں سے بھری روڈ پر تیرویں اور آخری ملٹری چیک پوائنٹ کو پار کیا۔ اُس نے کہا: جب اس علاقے کو ہٹ حرام حکومت سے خالی ویران میں دیکھتے ہیں تو یہ چلے جاتے ہیں۔

    انصار الشریعہ (یعنی اسلامی شریعت کے مددگار) کے نام سے القاعدہ نے مارچ ۲۰۱۱ میں جعار کو بڑے مناسب انداز میں اپنے کنٹرول میں لیا۔ انہوں نے فوراً اس پُرسکون علاقے کا نام بدل کر وقار رکھ دیا، جس کا مطلب ہے عزت، وقار، بلندی، اور یہاں پر اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی۔

    اس قصبے کا حصول ، جسے یہاں کے نئے مقتدران مجھے میرے یہاں کے پورے سفر میں وقار کہنے پر اصرار کرتے رہے، انصار الشریعہ کی فتوحات کے تسلسل میں یہ سب سے حالیہ فتح تھی۔ اس گروہ نے پچھلے سال میں جنوبی یمن کے صوبے ابین کے بیشتر حصوں کا کنٹرول حاصل کرنے کیلئے یمن میں افراتفری کو فروغ دیا۔

    گارڈ نے کہا: یہ ویسا ہی ہے جیسا افغانستان میں طالبان کے ساتھ ہوا ۔

    بے شک، جنوبی یمن کے ان سب حالات نے واشنگٹن کے اندیشے کی دوبارہ تائید ہی کی ہے کہ تنظیم القاعدہ برائے جزیرۂ عرب ، جو کہ ۲۰۰۹ میں القاعدہ کی سعودی اور یمنی شاخوں کے ادغام سے وجود میں آئی، کی وہاں پر ایک نئے اہم مرکز کی بنیاد ڈالنے کی نیت تھی۔ اپنی پہلی [congressional testimony] میں سی آئی اے ڈائریکٹر ، ڈیوڈ پٹریاس نے کہا کہ تنظیم القاعدہ برائے جزیرہ عرب عالمی جہاد میں ایک خطرناک ترین علاقائی عنصر کے طور پر ابھری ہے۔ اُس کا یہ بیان عین ان لیک ہونے والی رپورٹوں کے ساتھ ہی آیا ہے کہ جس میں کہا گیاہے کہ سی آئی اے کا ڈرون پروگرام اُن القاعدہ کے جنگجوؤں کی فہرست تیار کر رہا ہے جنہیں جنوبی یمن میں نشانہ بنانا ہے ۔

    یمن کی نئی نازک حکومت اب القاعدہ اور امریکی کاروائیوں کے درمیان پھنس گئی ہے۔ میرے جعار کو سفر سے ماقبل، یمن کے نئے صدر، عبد الرحمن منصور الہادی، نے ایک بڑا ملٹری آپریشن شروع کیا تاکہ ابین کا دارالخلافہ زنجبار واپس لیا جا سکے، اور ایک بظاہر غیر حکومتی علاقے میں حکومت کی رٹ قائم کرنے کی جانب قدم بڑھانے کا آغاز کیا جا سکے۔ تاہم یہ حملہ ایک ذلت آمیز شکست ثابت ہوا۔ لڑائی میں کوئی ۱۸۵ کے قریب یمنی فوجی مارے گئے اور ۷۳ قیدی بنے، جو کہ القاعدہ کے قید ساتھیوں کی رہائی کا ذریعہ بنے۔

    میرے القاعدہ کے میزبانوں کے مطابق، اُن کے صوبے میں داخل ہونے والا میں پہلا غیر یمنی صحافی تھا۔ میں نے اُنہیں ویسا ہی مہمان دار پایا جیسا کہ ملک کے باقی یمنیوں، جن سے میں ملا، کو پایا تھا۔ کیا یہ اس لیئے تھا کیونکہ میں ایک رپورٹر تھا اور وہ ایک اچھا تاثر دینے کی کوشش کر رہے تھے؟ یا پھر وہ حقیقتاً سمجھتے تھے کہ امریکی ،جہادیوں کے ساتھ اکٹھے رہ سکتے ہیں۔

    اوپر کی تصویرمیں: شیخ اسامہ بن لادن (رحمہ اللہ) کی فریم کی ہوئی فوٹو، جعار پٹرول پمپ کے اشتہار کے نیچے لٹک رہی ہے۔ پٹرول کلرک کی کرسی کے سامنے پانچ گیلن پیٹرول کے کین قطاروں میں بے یار و مددگار پڑے ہیں۔ انصار الشریعہ کے ایک رکن کے مطابق، یہ جعار میں امن و امان کا ثبوت ہے۔اُس نے بتایا: ہمیں پٹرول کی چوکیداری کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ یہ چوروں سے محفوظ ہے۔



    اونٹوں کا قافلہ
    یمنی حکومت کے مطابق، تقریباً ایک لاکھ افراد ابین میں اپنے گھروں سے کوچ کر گئے ہیں کیونکہ القاعدہ اور حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی مئی میں شروع ہو گئی تھی۔ جیسے ہی ہم جعار کے نزدیک پہنچے، ابین کے رہنے والے مہاجرین ، جن میں سے بیشتر بازو بھر سامان اُٹھائے ہوئے تھے، ان مہاجرین سے بھری وینیں ہماری الٹی سمت میں جاتے ہوئے ہمارے ساتھ سے گزریں۔ ریوڑ آتی گاڑیوں کے رستے میں حائل ہوا۔



    یقینِ مستحکم
    القاعدہ کا کالے اور سفید رنگ کا جھنڈا، جسے پہنچانے میں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں، زنگ آلود لوہے کے ڈرم سے اٹکایا ہوا ہے۔ جھنڈے پر عربی زبان میں معروف کلمہ شہادت چھپاہوا ہے: لا الہ الااللہ محمد الرسول اللہ۔ یہ علامتی نشان پورے جعار میں جگہ جگہ موجود ہے۔



    نئے ذمہ داران
    جہادی جنگجو، جن میں کچھ بڑے مرد، کچھ لڑکے شامل ہیں، سب کے سب کلاشنکوف،ہینڈ گرنیڈ اور خنجر باندھے، گرد آلود روڈوں پر موٹر سائیکلوں پر گشت کرتے ہیں جو انہیں انصار الشریعہ نے دیئے ہیں۔



    جنگ سے تباہی
    انصار الشریعہ کے اراکین یمنی ملٹری ٹرک پر جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں، یہ ٹرک انہوں نے گزشتہ دن زنجبار کے باہر ہونے والی لڑائی میں حاصل کیا تھا، اس لڑائی میں ۱۸۵ یمنی فوجی کی ہلاکت اور ۷۳ کا قید ہونا رپورٹ ہوا ہے۔ ان افراد کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہتھیاروں سے بھرے دو اس سے بڑے ٹرک بھی حاصل کیئے ہیں۔ تنظیم القاعدہ برائے جزیرۂ عرب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک ٹینک اور دو ایمبولینس بھی راکٹ لانچروں، مارٹر توپ خانے اور طیارہ شکن گنوں کے ساتھ قبضے میں لی گئی ہیں۔



    القاعدہ کے ساتھ کھانا
    جعار میں میری آمد کے کئی پُر تناؤ اور غیر یقینی لمحات کے بعد، جب سپاہی میرے دورے کے مقصد کی تصدیق کر رہے تھے، ایک بڑی عمر کے انصاراشریعہ کے رکن نے میری طرف دیکھ کر کہا: کوئی مسئلہ نہیں کوئی پریشانی کی بات نہیں۔ انہوں نے اور ان کے ساتھ اُن کے ساتھیوں نے واضح کر دیا کہ میں اس دن کیلئے اُن کا مہمان ہوں، اور انہوں نے اصرار کیا کہ ہم اکٹھے کھاناکھائیں۔ ٹھوس فرش، جسے چاروں جانب سے باقی عمارت نے گھیر رکھا تھا، پر چوکڑی ڈال کر بیٹھے ہم مٹھی بھر کر چاول اور بھُنا ہوا گوشت کھا رہے تھے، اور پھر بعد میں تازہ کٹے ہوئے سیب، مالٹے اور کیلے بھی۔

    گفتگو، القاعدہ اور امریکی حکومت کے درمیان نا ختم ہونے والی جنگ کی طرف چلی گئی۔ایک انصار الشریعہ کے ممبر نے کہا: جب تک امریکہ اپنی جمہوریت ہم پر ٹھونستا رہے گا، ہم (اس سے) لڑائی جاری رکھیں گے۔ اُس نے کہا: ہمیں جمہوریت نہیں چاہیئے، ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں ہم پر چھوڑ دیا جائے۔



    شرعی جیل
    لکیرِ ممنوعہ، اور ان کو پار کرنے کے نتائج، امارت اسلامیہ وقار میں بالکل واضح ہیں۔انصار الشریعہ کے ایک رکن نے کہا: اگر آپ بازار سے خوراک چُراتے ہیں کیونکہ آپ بھوکے ہیں، تو ہم ہاتھ نہیں کاٹیں گے۔ لیکن یقیناً ہم اس کا پسِ منظر (سیاق و سباق) دیکھیں گے۔ مثال کے طور پر اگر آپ نماز کے وقت میں چوری کرتے ہیں، یا اگر آپ جیسے ۶۵ ڈالر سے زیادہ کی چوری کرتے ہیں تو پھر ہم کاٹتے ہیں۔



    اخلاقی خرابی
    انصار الشریعہ کے سپاہیوں نے مجھے مشورہ دیا کہ میں جعار کے دو افراد سے سگریٹ پینے اور مقامی نسوار چبانے کے بارے میں پوچھوں کہ کیا نئے مقتدران ان کی ان اخلاقی خرابیوں پر نرم ہیں (چھوٹ دے رکھی ہے)؟ ان افراد نے کہا: ہم جب چاہیں یہ کھا سکتے ہیں اور سگریٹ پی سکتے ہیں۔ ایک سپاہی نے کہا: ہم مانتے ہیں کہ سگریٹ اور مقامی تمباکو یا نسوار غلط ہیں۔ یہ معاشرے کیلئے برے ہیں مگر ممنوع نہیں ہیں۔ ہم انہیں غلط کام چھوڑ دینے پر راغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ہم انہیں مجبور نہیں کرتے۔

    سپاہی نے مزید کہا کہ: فی الحقیقت جب انصار الشریعہ نے جعار پر گرفت حاصل کی تو تمباکو کے بازار کو شہر کے کونے میں منتقل کر دیا، مگر انہوں نے اسے مکمل ختم نہیں کیا۔ یمن میں کچھ کا کہنا ہے کہ اس گروہ نے چھوٹ صرف اراکین اپنی جانب کھینچنے کیلئے دے رکھی ہے، اور مستقبل میں ان منع کرنے والی چیزوں پر یلغاری نوعیت کی کاروائی کریں گے۔



    ایک جہادی کا سفر
    انصار الشریعہ کے ایک افریقی نژاد رکن نے مجھے بتایا کہ اُس نے امریکہ میں پیدا ہونے والے القاعدہ کے سینئر لیڈر شیخ انور العولقی کے ایک متاثر کن بیان کو سنا تو یمن میں نئی زندگی کا آغاز کرنے کیلئے اپنی فیملی چھوڑ آیا۔شیخ انور العولقی رحمہ اللہ ستمبر ۲۰۱۱ میں سی آئی اے ڈرون کی وحشیانہ بمباری میں شہید ہو گئے تھے۔



    میزائیل کسی میں کوئی فرق نہیں کرتے
    جعارکا رہنے والا ایک نوجوان لڑکااس عمارت کے ملبے کے سامنے کھڑا ہے، جسے انصار الشریعہ کے مطابق سعودی میزائیلوں نے تباہ کیا ہے۔ (میں اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا)۔ اس نے کہا: اس کی تباہی کے وقت اس عمارت میں کوئی نہیں تھا، لیکن کچھ زخمی ہوئے تھے۔ اس نے کہا: جبکہ وہ آسمان میں ڈرون کی آواز کو سن سکتا تھا، جعار میں کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا، صرف میزائیل داغے گئے۔



    ملے جلے تاثرات
    مختلف شہریت، رہن سہن اور عمر والے وقاریوں کا ہجوم مرکزی بازار کے قریب ہماری وین کے گرد جمع ہو گیا۔ بہت سے متجسس تھے کہ ہم کون ہیں؟ ہم کیوں آئے ہیں، اور ہم یہاں تک کیسے پہنچ گئے۔ ایک امریکی کو اپنے شہر میں دیکھ کر کچھ لوگ بیزار دکھائی دیئے، جبکہ کچھ نے یمنی مہمان داری کی روایت کا اظہار کرتے ہوئے اصرار کیا کہ ہم رات یہیں رکیں۔ لیکن جیسا کہ انصار الشریعہ سے وعدہ تھا، ہم غروب آفتاب سے پہلے واپس چلے گئے۔



    نشانہ بنے
    دو یمنی باشندے بمباری سے تباہ ہوئی مسجد کے پاس سے گزر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اسے غیرملکی میزائیلوں سے پچھلے سال ہونے والی زنجبار کی لڑائی میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ میں نے پوچھا کہ انہیں کیسے معلوم پڑا کہ یہ میزائیل کہاں سے آئے تھے،تو انصار الشریعہ کے ایک رکن نے بتایا کہ وہ دھماکہ کی نوعیت سے بتا سکتے ہیں۔ یمنی میزائیل کمزور ہوتے ہیں، سعودی درمیانے، اور امریکی میزائیل زیادہ طاقتورہوتے ہیں۔

  10. Thanks onlykami thanked for this post

  11. #6
    Member EjazChaudhry's Avatar
    Join Date
    Apr 2012
    Location
    Karachi, Pakistan
    Posts
    36
    Age
    31
    Post Thanks / Like

    Re: Shariah soon to be in complete Yemen InshaAllah

    Yemen, rip.


  12. #7
    Banned
    Join Date
    Oct 2010
    Posts
    419
    Post Thanks / Like

    Re: Shariah soon to be in complete Yemen InshaAllah

    aab yaman taraqqi kare ga

  13. Likes indigo liked this post

  14. #8
    Regular Member
    Join Date
    Apr 2012
    Posts
    102
    Post Thanks / Like

    Re: Shariah soon to be in complete Yemen InshaAllah

    bye bye yemen



Similar Threads

  1. Replies: 6
    Last Post: 23-Jan-2011, 11:13 PM
  2. Yemen sacks chess team for Israel game (Well done Yemen)
    By digitalzygot in forum Siasi Discussion
    Replies: 2
    Last Post: 23-Sep-2010, 07:11 PM
  3. Islamic Shariah - Imperial afriad of it
    By atensari in forum Non-Siasi
    Replies: 0
    Last Post: 17-Aug-2009, 04:49 AM
  4. why Muslims need Shariah?
    By atensari in forum Non-Siasi
    Replies: 0
    Last Post: 16-Aug-2009, 12:39 PM

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •