![]()
آپ اکثر ٹی۔وی پروگرام پر دیکھتے ہیں ایک نام نہاد نیم دانشور جس کو چار لفطوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں آتا ، تخلیق پاکستان ، قائداعظم،علامہ اقبال ، دو قومی نظریہ اور اسلامی فلاحی ریاست کے قیام پر اپنی نفرت کا اظہار کھلے لفظوں میں کرتا رہتا ہے ۔اس کو ایک اور لفظ "مسلم امہ ؐ پر اعتراض ہے۔ جس کی دلیل وہ یہ دیتا ہے کہ ایک گلی میں تو اکھٹے رہ نہیں سکتے اور بات کرتے ہیں مسلم امہ کی۔ میری بڑے ادب سے اس کی اور اس کے چاہنے والوں کی خدمت میں عرض ہے کہ مسلم امہ ایک رشتے کا نام ہے اور یہ رشتہ میرے اللہّ کا بنایا ہوا ہے۔ جو بھی انسان کلمہ اسلام پڑھ لیتا ہے وہ اس رشتے میں شامل ہو جاتا ہے۔ جہاں تک بات ہے لڑنے جھگڑنے کی تو کیا لڑنے سے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں (سواے انسان کے بنائے ہوئے) اور نہ اسلام آپ کو کہتا ہے آپس میں لڑو۔ بلکہ اللہ تو کہتا ہے کہ
اور اللہّ کی رسی کو مضبوظی سے تھام لو اور تفرقہ بازی نہ کرو(القرآن) تو شرم کرنی چاہیے بجائے اس پر عمل کرنے کے اس کی کہی ہوئی باتوں کو جھٹلاتے ہوئے اور لوگوں میں مایوسی پھیلاتے ہوئے











