![]()
پشاور: پشاور کے نوائی شہر میں جمعراتکے روز بس اسٹیشن پر کار بم دھماکہ ہوا، جس میں 13 لوگ اور 2 بچے مارے گئے، حکامکا کہنا ہے۔
حملہ کوہاٹ کے کے قریب ایک قبائلی علاقے کے شہر میں ہوا، جو کہ عسکریت پسندوںکا علاقہ ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے پاکستان اور افغانستان کےقریبی علاقے میں فساد مچا رکھا ہے۔کار بم دھماکے میں ہونے والے جانی نقصان کی تعداد 13 ہوچکی ہے اور 35 سے زائدلوگ زخمی ہوگئے، یہ شہر کے پولیس چیف امتیاز الطاف کا کہنا تھا۔مقامی ہسپتال کے سینئیر ڈاکٹر، رحیم جان نے مرنے والوں کی تعداد ک تصدیق کیاور مزید کہا کہ سات زخمی نازک حالت میں ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ کئی لاشیں اتنی بری طرح جل چکی تھیں کہ ان کی شناخت نہہوسکی۔تقریبا درجنوں پیسنجر بسوں کوکافی بری طرح نقصان پہنچا، اور زمین پر چھیچڑےاور خون لگا ہوا تھا۔پشاور کے مین ہسپتال میں ایک صحافی نے کہا کہ زخمی رو رہے تھے اور مرنے والوںکے رشتہ دار اپنے پیاروں کی لاشوں کو دیکھ کر رو رہے تھے
۔60 سالہ دلاور خان کا الٹا ہاتھ زخمی ہوگيا اور اس نے خبر ایجنسی کوبتایا کہان کا 12 سالہ بیٹا جو اپنے اسکول کی بریک سے آکر اس کا چائے اسٹال چلانے میں مددکررہا تھا، وہ اس حملے میں مارا گیا۔خان نے روتے ہوئے کہا، " میں ڈرائیوروں کے لئے چائے بنا رہا تھا اور میرابیٹا دوسرے ڈرائیوروں کو چائے چائے دے رہا تھا، جب ایک بڑا دھماکہ ہوا"۔خدا ان نظریات کو روکے جن کی وجہ سے یہ حملے ہوتے ہیں اور بے گناہ لوگ اپنیجانیں اس میں کھو دیتے ہیں۔ اس خـبر کو پڑھ کر سب سے زیادہ افسوس مجھے اس بات پرہوتا ہے کہ ایک باپ اپنے سہارے کو کھو بیٹھا۔











