شیطان سے جب کسی نے پوچھا کہ تم نے اللہ کے حکم پرآدم کو سجدہ کیوں نہیں کیا تو اس نے جواب دیا کہ
تم ہی بتاوکے جس نے ساری زندگی اپنی پیشانی کو خدا کے آگے جھکایا وہ کسی اور کے آگے کیسے جھکے گی؟
اورشیطان یہ بات بتانے سے گول کرگیا کہ حکم تواللہ نے دیاتھا اور اس کی حکم عدولی ہی تو سب سے بڑا گناہ ہے۔
اور کچھ اس طرح کی پیروی شیطان کے چیلے انسانوں کے بھیس میں کرتے ہیں اور جھوٹ وململ کاسہارا لیتے ہوئے، مکروفریب اوریاکاری کرتے ہوئے اوریہ سچ نہ بولنے کی قسم کھاتے ہوئے اپنے ہرعیب اورگناہ پرپردہ ڈالتے ہوئے کچھ اس طرح کے مناظرنظرآتے ہیں جب نواز شریف زردار ی اور اس کے حواری اپنی صفائیاں دیتے ہیں ٹاک شوز میں اور اصل بات گول کرجاتے ہیں اور دوسروں کی بات کو ایک دوسرے ہی نظریہ سے پیش کرنا شروع کرجاتے ہیں توسمجھ آتی ہے کہ شیطان بھی کس طرح بھڑکاتا انسان کو گناہ پر۔
خود توجھوٹے کاغذوں کے پلندے لے آتے ہیں مگریہ بتانے سے گریز کرتے ہیں کہ باہررقم کسے گئی اور اورگئی ہے توآپ وہاں جاکرایساکرے پھرایساکرے آپ کوپتا چل جائے گا۔۔۔ اوہ بھائی اگرتم سچے ہوتو تم ہی کاغذات پیش کردوں۔
دوستو! میں عمران خان کوسلام پیش کرتا ہوں جس کے اندورواقعی حوصلہ ہمت اورایمان ہے جس نے ان جیسے لوگوں کولکارا ہے اور ان کاسامنا کررہاہے۔ جب انسان اپنے کردار اور اخلاق سے وہ مقام حاصل کرلے تو یہ سیاسی مسخرے اس طرح کی غیراخلاقی حرکات پراترکراپنے باطن کوظاہرکردیتے ہیں کہ وہ کیسے ہیں۔
میاں صاحب اورعمران خان کی سیاست میں فرق یہ ہے کہ میاں صاحب اس وقت بھی ماشا اللہ کروڑوں پتی تھے اور جب اقتدار کے ایوانوں میں آئے اور اب کھرب پتی ہے لیکن ملک ڈب رہا ہے اورعمران خان نے عوام کی سماجی خدمات کے کام شروع کرکے اپنی سیاست کو شروع کیا۔
میں سوچتاہوں کہ آج عمران خان لوگوں کے دلوں میں کیوں اترگیا ہے توایک ہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ اس نے جورفاعی کام کیے ہیں اورجوجولوگ مستفیدہوئے ہیں اورجنہوں نے اس کے لیے دعائیں کی ہیں ان کے صدقے اللہ نے لوگوں کے دلوں کو اس کے لیے موڑدیا ہے اوراگرمیرے رب کایہی فیصلہ ہے تو پھرکوئی کیا کرسکتا ہے۔













