Siasat.pk Forums
   
View RSS Feed

k.a.kiani

توہین رسالت اور مسلمانوں کا طریقہ احتجاج

Rate this Entry
کچھ بھی لکھنے سے پہلے میں یہ بتانا پسند کروں گا کہ میں ایک ادنیٰ سا اور گنہگار مسلمان ہوں جسکو اسلام اور دین کے بارے میں اتنا ہی علم ہے جو ایک عام مسلمان کو ہونا چاہیے۔ میں کو یی عالم نہیں اور نہ ہی مفتی ہوں جسکی راے سے اختلاف کرنے کے لیے کسی کا عالم یا مفتی ہونا ضروری ہو۔ میں اپنی راے حضورصلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اس حدیث کو مدنظر رکھ کر دے رہا ہو جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ ایک دفعہ حضرت وابصہ نے حضورصلی اللہ علیہ والہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم گناہ کیا ہے اور ثواب کیاہے تو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرمایا وابصہ اپنے دل سے پوچھ، اپنے ضمیر سے پوچھ ، اپنے آپ سے پوچھ بس جس کام کو کرکے تمہیں اطمینان ہو وہ ثواب اور جس کام کو کرکے تمہیں ندامت ہو وہ گناہ ہے ۔ اگر انسان کی سوچ مثبت ہو اور وہ اپنی زندگی کو اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اطاعت میں گزارنے کی نیت رکھتا ہو تو ثواب اور گناہ ، نیکی اور بدی کو پرکھنے کے لیے انسان کا دل اور ضمیر ہی کافی ہے۔ اسلیے میں بھی جو کچھ لکھ رہا ہو ں وہ اسی نیت سے لکھ رہا ہو جس سے خیر کا عنصر نکل سکے نہ کہ شر کا۔
پچھلے دنوں ایک ملعون نے ہمارے پیارے نبی، سرورکاینات، رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بارے میں ایسی فلم بنایی جو کہ ایک ادنیٰ سے ادنیٰ اور میرے جیسے کم درجے کے مسلمان کے رونگٹے کھڑے کردینے کے لیے کافی تھی۔ ایک مسلمان جو کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے اتنی شدید محبت رکھتا ہو کہ انہیں اپنے ماں باپ بیوی بچوں سے بھی بڑھ کر چاہتاہو اگر اسکے سامنے اسکے رسول کی توہین کی جاے تو غصہ نہ آے گا تو کیا آیے گا۔ دل یہی چاہے گا کہ اس ملعون اور جو بھی اس فلم کا حصہ ہیں اور جنھوں نے بھی اسکی تشہیر میں کردار ادا کیا ہے ان سب کو ایسی عبرتناک سزا دے کہ رہتی دنیا تک کویی ایسا کرنا تو دور کی بات ایسا کرنے کے بارے میں سوچنے کی مجال بھی نہ کرسکے ۔ یہ ایسا واقعہ تھا کہ کسی عام سے عام مسلمان کو بھی غصے میں پاگل کرنے کے لیے کافی تھا اور کچھ بھی ایسا کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے کافی تھا جو کہ اس نے سوچا بھی نہ ہو۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ پھر میں نے سنا لیبیا میں مسلمانوں نے امریکی سفارتخانے پر حملہ کیا اور ایک امریکی سفیر کو ماردیا۔ ایک اور جگہ سے جلاو گھیراو کی خبر آیی پھر دوسری جگہ سے ، پھر تیسری جگہ سے ۔ کہیں سے آواز آیی یہودیوں کو ختم کردو تو کہیں امریکیوں کو مارنے کا نعرہ لگا، کہیں سے ہٹلر کی تعریفیں شروع ہوییں تو کہیں اسکو دعاییں دیتے لوگ بھی نظر آے اب میرے لیے اپنے مسلمان بھاییو کا یہ رویہ دیکھ کر ایک اور دکھ کا دھچکا لگا اور میں نے ایک لمحے کے لیے سوچا کہ اگر اس پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس دنیا میں ہوتے تو کیا مسلمانوں کے اس رویہ کو دیکھ کر خوش ہو رہے ہوتے جہاں وہ انکی توہین کے نام پر اپنے ہی ملک ، اپنے ہی لوگوں اور اپنی ہی املاک کو جلا رہے ہیں۔ بے گناہ لوگوں کو مارنے کے درپہ ہیں


مجھے میرے سوال کا جواب کیا ملا اسکو بتانے سے پہلے میں کچھ واقعات کو بیان کرنے کی جسارت کرنا چاہوں حضورصلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی سے جو ایک جھماکے سے میرے ذہن میں آے اور مجھے میرے سوال کا جواب مل گیا۔ سب سے پہلے مجھے اس بوڑھی کافر عورت کا خیال آیا جو ہر روز پاک نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر کوڑا پھینکا کرتی تھی جب بھی وہ اسکے گھر کے پاس سے گزرتے تھے لیکن ایک دن جب حضورصلی اللہ علیہ والہ وسلم وہاں سے گزرے تو کسی نے آپ پر کوڑا نہیں پھینکا آپ کو فکر لاحق اور آپ نے اس بڑھیا کے گھرکے دروازے پر دستک دے دی جب آپ گھر کے اندر گیے تو بڑھیا آپکو دیکھ کر حیران رہ گیی ۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کہ روز یہاں سے گزرتا تھا تو آپ مجھ پر کوڑا پھینکتی تھیں لیکن جب آج کسی نے نہیں پھینکا تو مجھے پریشانی ہویی کہ آپ ٹھیک تو ہیں یہ سننا تھا کہ بڑھیا نادم ہویی اور حضور سے معافی مانگی اور بشرف اسلام ہویی۔ پھر مجھے حضورصلی اللہ علیہ والہ وسلم طایف کی گلیوں میں نظر آتے ہیں جہاں تبلیغ اور اسلام کی دعوت دینے کے جرم میں چند شریر بچوں کو آپکے پیچھ لگا دیا جاتا ہے جو آپکو پتھر مار مار کر لہولہان کردیتے ہیں لیکن جب جبراییل علیہ سلام آکر کہتے ہیں کہ اگر آپ حکم کریں تو میں انکو پہاڑوں کے بیچ میں پیس دیں تو آپ فرماتے ہیں کہ مجھے اللہ نے رحمت اللعالمین بنا کر بھیجا ہے نہ کہ زحمت اور پھر حضور نے دعا کی کہ انہی کی اولادوں کو اللہ مشرف بہ اسلام کرے۔ پھر مجھے وہ واقعہ یاد آیا جسمیں ابوجہل نے حضور سے بدتمیزی کی اور اسکا علم حضرت حمزہ کو ہوا تو انہوں نے ابو جہل کو تنبیہہ کرکے جب آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بتایا تو آپ نے خوش ہونے کی بجاے کہا کہ چچا مجھے خوشی تب زیادہ ہو گی جب آپ اسلام قبول کرلیں گے۔ پھر میں ایک عورت کو اسی چچا کو شہید کردیکھتے ہوں اور انکا گلیجہ چباتے دیکھتا ہو اور پھر جب وہ عورت ایک قیدی بنا کر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سامنے فتح مکہ کے موقع پر لایی جاتی ہے تو پاک نبی کو اسے بھی معاف کرتے دیکھتا ہوں۔ میں اپنے نبی کو اس شخص کے گھر کو داالامان کا درجہ دیتے بھی دیکھتا ہوں جسکی ساری زندگی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور اسلام کے خلاف سازشیں کرنے میں گزرتی ہے ۔ میں اپنے اس نبی کی رحمت کو دیکھتا ہو جو صرف انسانیت کے لیے ہی نہیں بلکہ ہر چرند، پرند، نباتات اور جانوروں کے لیے بھی تھی ۔


یہ سب ذہن میں آنے کے بعد میں جب مسلمانوں کے اس طریقہ احتجاج پر غور کرتا ہو ں تو مجھے اس بات میں نہ کو یی شک ہے اور نہ کویی عار اور نہ کویی ڈر کہ میرے پیارے نبی کو اس فلم کا دکھ تو نہ ہوا ہوتا لیکن مسلمانوں کے اس رویہ کو دیکھ کر وہ خون کے آنسو روتے کہ کیا میں نے اپنے امت کو یہ تعلیم دی، کیا انہیں یہ سکھایا، کیا یہ نتیجہ ہے میرے صبر، بردباری ، برداشت اور تحمل کے درس کا۔ ان سب کا خیال آتے ہی میرے اندر کو قرار ملا اور میرا غصہ اتر گیا اور میرے ذہن میں ایک چیز آیی کہ ناین الیون کے بعد جیسے لوگوں نے اسلام کے بارے میں جاننا شروع کیا اور اسلام کو قبول کیا اسی طرح اب بھی لوگ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حیات کے بارے میں ذیادہ سے ذیادہ جاننے کی کوشش کریں گے اور جب وہ ہمارے نبی کی زندگی کو سمجھیں گے تو ان سے محبت اور اس فلم بنانے والے ملعونوں سے نفرت کریں گے ۔ یہ عمل اور بھی تیز ہو سکتا تھا اگر دنیا اسلام میں مثبت طریقے استعمال کیے جاتے احتجاج کے لیے۔ مثال کے طور پر اگر مسلمان مغربی قونصلخانوں کے سامنے جاکر پانچ دفعہ اذان دیتے اور وہاں با جماعت نماز پڑھتے اور زیادہ سے زیادہ باآواز بلند درود شریف کا ورد کرتے۔ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ علما تمام مسلمانوں سے درخواست کرتے کے وہ کم از کم تین دن حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت کے مطابق زندگی بسر کریں گے مجھے یقین ہے کافر مشرک مسلمانوں کی تین دن سے پہلے ہی ڈھیر ہو جاتا کیونکہ اللہ کا وہ قہر آتا ان پر کہ کویی سوچ بھی نہ سکتا ، یہ بھی ہو سکتا تھا اسکے ساتھ ساتھ پرامن طریقے سے ہر اس چیز کا بایکاٹ کیا جاتا جو امریکی حکومت کو مجبور کردیتا کہ ان لوگوں کو پکڑ کر قرارواقع سزا دی جاتی ۔


اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے غصے کو حرام کہا ہے اور اس سے بچنے کی تلقین کی ہے ۔ غصہ شیطان کا ہتھیارہے اور جب بھی وہ کسی انسان سے غلط کام کروانا چاہتا ہے تو وہ غصے کا سہارا لیتا ہے کیونکہ غصے میں عقل و دانش کے تمام دروازے بند ہو جاتے ہیں۔ اگر یہ عالم اسلام کے خلاف سازش تھی تو ہم (مسلمانوں ) نے اپنے اس رویے سے انکی سازش کو خوب عملی جامہ پہنایا ہے وہ یہی تو چاہتے تھے کہ وہ ہماری دکھتی رگ پر ہاتھ رکھیں ہم غصے میں آییں اور ایسی حرکات کریں جس سے انکو یہ کہنے کا موقع ملے کہ ہم نہ کہتے تھے کہ یہ مسلمان دہشت گرد ہیں اور دہشت گردی انکی فطرت میں ہے۔ افسوس کہ ہم نے انکے سازشی منصوبے کو کامیاب کردیا۔ کاش کہ ایسا نہ ہوتا ہم اپنی زندگیاں تو کیا سنت نبوی کے مطابق بناییں گے کاش کہ ہم توہین رسالت جیسے گھناونے عمل کے خلاف احتجاج ہی پیارے نبی کے طریقے سے کر لیتے۔ کیا پتہ یہی ادا ہی اللہ کو پسند آ جاتی ۔

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
ہم خوار ہوے تارک قرآن ہو کر
اللہ ہمیں اپنی زندگیاں قرآن اور سنت کے احکامات کے مطابق بسرکرنے کی توفیق عطا فرماے اور ہمیں ہر کام میں اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت نصیب فرماے۔ ہمیں کافر، مشرکوں ، یہودیوں، عیساییوں اور شیطان کی سازشوں ، منصوبوں اور گھناونے حربوں سے بچاے اور ہمیں انکے خلاف فتح عطا فرماے


آمین ثم آمین
1 Thanks, 1 Likes, 0 Dislikes
Thanks Xiggs thanked for this post
Likes zaheerbabur liked this post
Tags: None Add / Edit Tags
Categories
Uncategorized

Comments

  1. zaheerbabur's Avatar
    very well said, kash all muslims understand the true teachings of Islam and follow the Hazoor SAW (PBUH).
    0 Thanks, 0 Likes, 0 Dislikes
  2. ashrafmudasir786's Avatar
    Aslam u Alikum. mein is qaalam se bilkul mutafiq hoon. is tamaam jhagre ki waja hamara illitrate hona (unparh) hey. q k hamara literacy rate intahai kam hei. jo k hamer piare siasat danoon ki mehrbani hey. un k bache to uk usa waghera mein parh rahe hote hein jabke hamare bachoon ko dhang ka school hi maiasar nahi. iss kam literacy rate ki waja se hamari qaum ka jo majmoi rawiya hei uss se gher muslims har waqat faida uthate hein. iss trah ham bagair soche samjhe aghyaar ke hatoon khilonaa bane rehte hein. kash Allah Taala hamein koi acha leader naseeb farmai aur hamare dukh door hoon Aameen.
    0 Thanks, 0 Likes, 0 Dislikes
  3. Xiggs's Avatar
    Beautiful write-up....i also share the same sentiments Janab kiani. I couldnt have said better than you did.

    I so wish and pray that every muslim in the world comes to realize the true spirit of ISLAM...true teachings of Rasool Allah (saww).

    Anyhow! thanks alot for such beautiful words. I sure, some day this world will become a better place just because of people like you

    Wassalam!
    0 Thanks, 0 Likes, 0 Dislikes
Siasat.pk Forums