Siasat.pk Forums
   
View RSS Feed

bilalurrashid

لنگڑے اور کانے

Rating: 6 votes, 4.83 average.

خدا نے دنیا دو تاجروں میں بانٹ دی تھی ۔ اب واپس لے رہا ہے ۔

امیر تیمور بے حد خوش تھا۔با یزید کو ہرانے کے بعد اس نے جشن برپا کیااور مفتوح بادشاہ کو پہلو میں بٹھایا۔ تب دنیا میں وہ دو ہی بادشاہ تھے۔ دو سپر پاورز، روس اور امریکہ۔تیمور کے حاسدین اسے "تیمور لنگ " کہتے ۔اس کی ایک ٹانگ میں نقص تھا۔ رہا بایزید تو وہ ساری دنیا کو ایک ہی آنکھ سے دیکھتا تھا۔ انصاف پسندی کی بات نہیں ، اس کے پاس دوسری آنکھ تھی ہی نہیں ۔

فتح کے نشے میں مخمور ، تیمور ہنسنے لگا۔اتنا کہ بایزید عاجز آگیا۔ شکست کا غم اور اس پر یہ نمک پاشی۔ تیمور سے اس نے کہا ہوگا : ہم بیزار بیٹھے ہیں ، تجھے اٹھکیلیاں سوجھی ہیں ۔ بہرحال ہنسی رکی تو تیمور نے کہا: خدا کو کیا سوجھی تھی کہ اپنی دنیا ایک لنگڑے اور کانے میں بانٹ دی۔ پاکستان میں بھی دو لنگڑے اورکانے پائے جاتے ہیں۔

فروری 2008ئ کا الیکشن جیتنے کے بعد آصف علی زرداری نے جناب نواز شریف کو پہلو میں بٹھایا اور بتایا کہ ہم پاکستان کے تیمور اور با یزید ہیں ۔ اس بار خدا نے دنیا دو تاجروں میں بانٹ دی ہے ۔ بے شک دنیا بہت بڑی ہے اور پاکستان بہت چھوٹا ملک لیکن اس بات میں بھی ایک رمز ہے۔

شیر نے لومڑی کی گردن پر دانت جمائے تو لرز کر اس نے کہا : عالی جاہ ، مجھے آپ نے مار دیا تو دنیا ختم ہو جائے گی ۔ گھبرا کر شیر نے اسے چھوڑ دیا۔ کچھ دور گئی تو آواز دے کر پوچھا : دنیا کیسے ختم ہو جاتی؟
"میری دنیا تو ختم ہو ہی جاتی"اس نے بتایا۔

صدر زرداری کی دنیا ختم ہے اور نواز شریف کی ہونے کو ۔

ویسے قوم کے حق میں دونوں لیڈرایک جتنے مبارک ہیں ۔

دونوں ہی جفا جو ہیں جگر ، نواز ہو یا زرداری
اِک یار نے لوٹا ، مجھے اِک یار نے مارا

ایک دیدہ ہے ،دوسرا دل ۔ دونوں کے اپنے اپنے طریقہئ واردات۔

ایک سب آگ ، ایک سب پانی
دیدہ و دل عذاب ہیں دونوں

یہاں پر پہلا مصرعہ لکھنے کا مقصد فقط دوسرے کی شدّت کم کرنا ہے۔

ہلکی پھلکی رنجشوں کو نظر انداز کر دیجئے تو ان میں گہری قرابت ہے ۔ زرداری صاحب تو کبھی باقاعدہ گنگناتے ہیں

تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

اور نواز شریف کہا کرتے

دل کے آئینے میں ہے تصویرِ یار
جب ذرا گردن جھکائی ،دیکھ لی

زرداری صاحب عدالت سے نبرد آزما ہیں ۔ جناب نواز شریف نے بھی سپریم کورٹ پرلشکر چڑھا دیا تھا۔ زرداری صاحب نے منی لانڈرنگ کی ۔ نواز شریف کی دولت نے بھی باہر کا رخ کیا۔ایک ذرا سی ہوش مندی اس لیے ہے کہ مرکزی حکومت
ان کے ہاتھ میں نہیں ۔ حضرت عمر (رض) کے مطابق اقتدار ملنے سے انسان کی اصلیت آشکار ہو جاتی ہے۔ دونوں حضرات کی سوچ میں ایسی ہم آہنگی ہے کہ عدلیہ کی مشکیں کسنے کے لیے مجوزہ آئینی ترمیم کی ایک شق وہی ہے جو نواز شریف محترم نے جسٹس سجاد علی شاہ سے دنگل کے ہنگام پیش کی تھی ۔ یہ کہ اگر توہینِ عدالت کی سزا کے خلاف اپیل کر دی جائے تو فیصلہ معطل ۔ شرمندگی سی شرمندگی ہے ۔

یادِ ماضی عذاب ہے یا رب
چھین لے قوم سے حافظہ اس کا

اب ایک لمحے کو میں رکتا ہوں ۔ اتنی بزلہ سنجی بہت ہے ۔

پیپلز پارٹی کا دماغ چل گیا ہے ، جیسے این آر او کے ہنگام چلا تھا ۔ کیا عدالت پر اس بے حیا ترمیم اور اخراجات کی تفصیل مانگنے کا اس کے سوا بھی کوئی مقصد ہے کہ عدلیہ کے سینے پر پائوں رکھاجائے اور من مانی کرنے پر نئے وزیر اعظم کو نا اہلی سے بچایا جائے ۔کیا ایسا معاشرہ تباہی سے بچ پائے گا جس میں کچھ افراد قانون سے بالا ہوں ؟ ایسا امتیازی قانو ن بن ہی نہیں سکتا ۔ بن جائے تو چل نہیں سکتا۔ مسئلہ تو جنابِ زرداری کا ہے ، اتحادی بیگانی شادی میں دیوانے عبداللہ کیوںبنیں گے ؟ سیاست کے سینے میں تو دل نہیں ہوتا۔مفاد کی اس جنگ میں ہر فریق اپنے نفع و نقصان کا حساب رکھتا ہے۔ این آر او پر معاملات حکومت کے ہاتھ میں تھے۔ پھر ایم کیو ایم نے ہاتھ اٹھالیا ۔ خوفِ خدا کی بات نہیں کہ پہلے تو انہوں نے بہتی گنگا میں دھوتی سمیت چھلانگ لگا دی تھی ، جب اپنے مقدمات بخشوانے کی کوشش کی۔ بہت مشکل سے وہ اس پوتر جل سے باہر نکلے۔ اس لیے کہ وہ جانتے تھے کہ یہ قانون چل نہیں سکتا ۔ اب کی بار بھی یہی ہوگا ۔ ایم کیو ایم نہیں تو اے این پی ، کوئی اور۔ سب خاموش رہے تو سپریم کورٹ اس ترمیم کوروند ڈالے گی ۔چیف جسٹس کے بیان کے بعد صورت حال واضح ہے : قانون سب کے لیے برابر ہے اور یہ
کہ عدلیہ آئین سے متصادم اقدامات کو ختم کرتی رہی ہے ۔

بہت سی عجیب باتیں ہیں۔مثلاً یہ شق کہ چیف جسٹس پر الزام کی صورت میں وہ کیس سے الگ ہو جائیں گے اور ان کے فرائض دو سینئر جج ادا کریں گے۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ یہاں ملک ریاض کا نام لکھ دیا جاتا۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ دونوں جج صاحبان ایک گدڑی میں دو فقیروں کی مانند رہیں گے یا محل میں دو بادشاہوں کی طرح؟ پھر دوہری شہریت کا معاملہ ہے ۔یہاں پر بھی دونوں تاجروں کا مفاد ایک ہے ۔ دوہری شہریت کی اجازت ہوگی تو بیرونِ ملک اثاثے آسانی سے بچیں گے۔ مہذب ممالک اس رجحان کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں ۔ مثلاً نئی شہریت حاصل ہوتے ہی پہلی شہریت ختم ہو جانا۔ حساس عہدوں کے لیے نا اہل ہونا کجا یہ کہ قومی سلامتی کمیٹی میں انہیں بٹھادیا جائے۔
عدالت کے ناقدین کہتے ہیں کہ آصف علی زرداری کی صدارت کے خاتمے کا انتظار کرنا چاہئیے ۔یہ بات درست نہیں۔ بنیادی نکتہ صرف ایک ہے : قانون کی نظر میں شہری برابر ہیں ۔ عدالت کا کام انصاف کرنا ہے ۔ نتائج سے خوف زدہ ہو کر یہ ممکن نہیں۔ سو باتوں کی ایک بات یہ ہے کہ زرداری حکومت کا چل چلائو ہے ۔ چالاکی باقی نہیں رہتی ۔ اخلاص رہتا ہے اور ریاضت ۔ اب سانس اکھڑ رہاہے ۔ دمِ رخصت ہے مگر وہ شعبدہ بازی پر تلے ہیں ۔ لوٹ ماراور من مانی ۔

ہاں نشرِ نوازش! اک اور بھی اشارہ
محسوس ہو چلی ہے جنبش رگِ گلو کی

نیا الیکشن چاہئیے۔ جو بات لیڈرانِ کرام کے مقدس ذہنوں میں نہیں پڑ رہی وہ یہ ہے کہ انہیں اپنی تمام تر توانائی نئے الیکشن کے لیے صرف کر دینی چاہئیے۔ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں اور یہیں سے تبدیلی جنم لے گی ۔ پیپلز پارٹی اور صدر زرداری کی مہلت بہرحال تمام ہے ۔

موت کی نیند چھائی جاتی ہے
کہہ چکا ہوں فسانہئ غم کیا؟

خدا اپنی دنیا تادیر لنگڑوں اور کانوں کے حوالے نہیں کرتا۔بایزید کا قصہ تیمور نے پاک کر دیا تھا اور خود وہ خالی ہاتھ بستر پر دم توڑ گیا تھا۔

Updated 09-Jul-2012 at 01:41 PM by Waseem

Tags: None Add / Edit Tags
Categories
Pakistan , Politics , PMLN - Pakistan Muslim League N , PPP - Pakistan People's Party
Siasat.pk Forums