براے فروخت
by
, 16-Jun-2012 at 05:19 PM (769 Views)
یوں تو ہمارے ملک کے باہر براے فروخت کی تختی برس ہا برس سے آویزاں تھی مگر اب جیسے کوئی لوٹ سیل کی آفر ہے .
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام جمہوریت اور پاکستان تینوں برائے فروخت ہیں.
مذہب کے بیوپاری اپنی اپنی مساجد میں مختلف اقسام کے اسلام بیچتے ہیں اور ہر کوئی اپنی برانچ کے اصلی اور مستند اور دوسری برانچ کے جعلی ہونے کا دعویدار ہے.
خودکش حملے جائز یا نہ جائز آپ کی منشا کے مطابق قرار دیے جا سکتے ہیں . آپ کی ضرورت کے عین مطابق قرآن و سنت کی تشریح بھی مل جائے گی . سنی ، شیعہ ، دیوبندی ، بریلوی غرض ہر طرح کا اسلام ارزاں نرخوں پر دستیاب ہے . حرام کی کمائی سے نذرانے وصول کر کے جنت کی بشارت سنانے والے شیوخ و امام بھی موجود اور آپ کی جگہ روزے رکھنے کے لئے مدرسے کے نادار اور لاچار بچے بھی حاضر. وہ دائرہ اسلام جس میں کبھی غیر مسلموں کو داخل کیا جاتا تھا یہاں مسلمان ایک دوسرے کو اس سے خارج کرتے نظر اتے ہیں . بہت سی دکانیں کھول رکھی ہیں ، مال کسی پر خالص نہیں ، دکانداروں کے حلیوں پر مت جائے گا ، ان حنوط شدہ داڑھیوں اور کلف زدہ اماموں میں سواے تعصب کی گرہوں کے اور کچھ نہیں . یہاں ولایت بھی ترکے میں چھوڑے ہوۓ مال کی طرح بچوں کو ورثے میں ملتی ہے . یہاں پر پیر کا بیٹا پیر اور مرید کا بیٹا مرید ہی رہتا ہے .
جمہوریت اس ملک میں ایک بھونڈے مذاق کے سوا اور کچھ نہیں . جتنے نوٹ اتنے ہی ووٹ . شروع میں تھوڑی سرمایاکاری کرنی پڑتی ہے مگر اس سے زیادہ سودمند بیوپار اور کوئی نہیں . حکومت کسی کی بھی قائم ہو تعلیم کے لئے بجٹ میں انتہائی قلیل رقم مختص کی جاتی ہے کے کہیں خدانخواستہ عوام پڑھ لکھ کر باشعور ہو جائیں اور اپنے مستقبل کو ایک کنستر گھی کے ڈبے اور پانچ کلو چینی کے عوض گروی رکھنے سے انکار کر دیں . جس نظام میں عوام کو بڑی اور چھوٹی برائی میں سے کسی ایک برائی کا انتخاب کرنا پڑے ایسے نظام پر سو بار لعنت .
اس ملک کی اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہو گی کے اس کی عوام اور حکمران دونوں حسب استطاعت اس کو بیچنے میں مشغول ہیں ، ہر طرح کی کرنسی اور کریڈٹ کارڈ قبول کیے جاتے ہیں . پھر مہران بیس ہو یا شمسی ائر بیس سبھی کراے کے لئے خالی ہیں ، بس آپ کی جیب گرم اور ہاتھ نرم ہوں . میڈیا شور مچاے تو اس کے مالکان سے لے کر کارکنان تک سبھی کے بول لگتے ہیں . پیسے کی چمک دکھاؤ پھر کسی کو ملکی خودمختاری یاد رہے گی نہ عزت نفس . بلکے عین ممکن ہے ناٹو سپلائی کھلنے اور ڈرون حملے جاری رکھنے ہی میں ملکی مفاد ڈھونڈ لیا جائے.
سب براے فروخت ہیں یہاں ، فن بھی فنکار بھی ، رہبر، رہرو اور سالار بھی . صحافی کا قلم بھی اور امیر لشکر کا علم بھی ، علاج بھی ، جائے آماج بھی اور غریب کے حلق میں جاتا خوشہ اناج بھی .0 Thanks, 2 Likes, 0 Dislikes









Email Blog Entry
