Usman Sadiq
10-Feb-2012, 07:40 AM
http://www.youtube.com/watch?feature=player_embedded&v=bpoVMzzGjC0
عمران خان کا ون ملین ڈالر مین اعظم خان سواتی (http://************************/imran-khan-one-million-dollar-man)
Published on 08. Feb, 2012
http://************************/wp-content/uploads/2012/02/one-million.jpg (http://************************/wp-content/uploads/2012/02/one-million.jpg)
ہمارے پاکستانی جعلی ون ملین ڈالر مین امریکہ سے نئے نئے پلٹ کر آئے تھے اور ان دنوں ملک میں جنرل مشرف نئے نودولتی سیاستدانوں کی ایک نئی پود پیدا کرنے کی فیکڑی پر کام کر رہے تھے اور اس سلسلے میں پورے ملک میں ضلعی نظام متعارف کرایا جارہا تھا ۔ ہمارے یہ جعلی ون ملین ڈالر مین بھی یہ سوچ کر امریکہ سے اپنے وطن تشریف لئے آئے کہ اب وقت آگیا ہے کہ وہ بھی سیاستدان بن کر اپنے ملک اور قوم کی خدمت کریں اور اس نیک کام کا آغاز وہ اپنے علاقے اگی سے کرنا چاہتے تھے کیونکہ تاریخ میں ہوتا آیا ہے کہ اپنے لوگوں کی لاشوں پر اپنے قد بڑے کرنا قدرے آسان کام ہوتا ہے۔
ہمارے اس جعلی ون ملین ڈالر مین کی قسمت عروج پر تھی کہ انہی دنوں ان کے علاقے میں سیلاب آگیا جس میں بہت سارے لوگ بے گھر ہوگئے۔ لوگ سیلاب میں ڈوب رہے تھے لیکن ہمارے اس ون ملین ڈالر مین کی قسمت ابھر رہی تھی۔ ماوزے تنگ نے کہا تھا کہ بحران کو موقع میں بدل دو۔ یوں ہمارے اس ون ملین ڈالر مین نے بھی یہ کہاوت پڑھ رکھی تھی اور انہوں نے بھی اس انسانی بحران سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا اور پھر انہوں نے وہ کرتب دکھایا کہ آج ہم دس سال بیٹھے ان کی وہ کہانی سنا رہے ہیں۔ اس خط میں اور کیا کچھ انہوں نے لکھا ہے اس کی تفصلات تو ہم آپ کو بعد میں بتائیں گے ۔ پہلےِ پہلے آپ اس ون ملین ڈالر مین کی کہانی سن لیں۔
ون ملین ڈالر مین کی کہانی کچھ اس طرح شروع ہوتی ہے کہ 23 جولائی دو ہزار ایک پورے مانسہرہ ڈسٹرکٹ میں ایک ہنگامہ مچ گیا کہ امریکہ پلٹ اعظم خان جنہیں علاقے کے لوگ ڈالر مین کے نام سے جانتے ہیں، نے دادر کے علاقے میں ہونے والی ایک ٹریجڈی کے متاثرین کے لیے ایک ملین ڈالر کا نوٹ عطیہ میں دیا تھا ۔ جی ہاں ایک ملین ڈالر کا نوٹ ۔ آپ یقنیا پوچھیں گے کہ دینا بھر میں سو ڈالر سے بڑا نوٹ نہیں ہے تو پھر یہ ایک ملین ڈالر کا نوٹ ؟ جی ہاں ایک ملین ڈالر کا نوٹ۔
دادر کے علاقے میں آفت آنے کے بعد وہاں کے مقامی باشندوں کی بحالی کے لیے ضلعی انتطامیہ نے مختلف اقدامات لینے شروع کر دیے تھے۔ جولائی 23, 2001 کو جب سول ایڈمنسٹریشن ریلیف اور ریسکو کام میں مصروف تھی کہ ایک مولانا نذیر اپنے ساتھ بہت سارے لوگوں کے ہمراہ پہنچے اور انہوں نے وہاں موجود انتظامیہ کے افسران کے سروں پر ایک بم گرایا کہ Oghi علاقے کے ایک رہنے والے باشندے اعظم خان نے ایک ملین ڈالر کا نوٹ عطیہ کے طور پر دیا تھا۔ یہ بہت بڑی خبر تھی کہ کسی عام شہری نے ایک ملین ڈالر کا عطیہ دیا تھا جو کہ سیلاب زدہ لوگوں کے لیے تھا۔ اس معاملے کو فوری طور پر فوجی کمانڈنٹ جے ایل اے، شنکیاڑی کے علم میں لایا گیا جو اس وقت سارے ریسکیو آپریشن کی قیادت کر رہے تھے۔
ہر طرف ہلچل مچ گئی کہ کوئی شخص ایک ملین ڈالر کا نوٹ عطیے میں دے رہا تھا۔ لوگ ریسکیو آ پریشن بھول گئے۔ فوری طور پر کمانڈنٹ نے ایک ہنگامی میٹنگ بلا لی جس میں کمشنر، ڈی آئی جی، ڈپٹی کمشنر اور مقامی لوگوں کے علاوہ میڈیا کے لوگوں نے بھی شرکت کی۔کمانڈنٹ نے ایک چار رکنی کمیٹی بنائی جس کے ذمے یہ کام لگایا گیا کہ وہ یہ ایک ملین ڈالر کا نوٹ ان سے لے کر اسے اپنے حفاظت میں لیکر اسے سرکاری اکاونٹ میں جمع کرائیں۔ اس کمیٹی میں میڈیا کے ایک نمائندے کو بھی شامل کیا گیا۔ کمانڈنٹ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ یہ ایک ملین ڈالر کا نوٹ کو مانسہرہ لے جایا جائے گا اور ایک بھاری فوج کی نفری اس کے ساتھ حفاظت کے لیے بھیجی جائے گی۔ ایک سرونگ آرمی میجر زرداد کے ذمے یہ کام لگا یا گیا کہ وہ ایک ملین ڈالر کا نوٹ لے کر ایک فوجی دستہ کی قیادت کرتے ہوئے اس نوٹ کو بحفاظت مانسہرہ چھوڑ آئیں گے۔
یوں میجر صاحب باقاعدہ اپنی ایک گارد لے کر شہر گئے تاکہ کوئی حملہ کر کے ان سے وہ نوٹ نہ چھین کر لے جائے اور بے چارے سیلاب زدگان بھوکے مر جائیں گئے۔ جب یہ ایک ملین کا نوٹ مانسہرہ پہنچ گیا تو اگلے دن اسے نیشنل بنک کی مین برانچ میں جمع کرا دیا گیا تاکہ اسے کیش کرایا جا سکے ۔ کمال اس بنک میجنر کا دیکھیں کہ اسے بھی علم نہ تھا کہ ایک ملین ڈالر کا کوئی نوٹ نہیں ہوتا اور انہوں نے بھی اسے جمع کر کے اس کی رسید بھی باقاعدہ جاری کر دی۔ اگلے دن کور کمانڈر کو بھی اس ایک ملین ڈالر کے عطیے کے بارے میں بتا دیا گیا جب وہ دادر میں ایک بریفنگ میں شریک تھے۔
اسی دن ہی کور کمانڈر نے گورنر سرحد کو بھی اس ایک ملین ڈالر کے عطیے کے بارے میں بتا دیا۔
اس اثناء میں یہ بات میڈیا کے زریعے پھیل چکی تھی جب کہ عطیہ دینے والے اعظم خان کا کہیں اتہ پتہ تک نہ تھا۔ اس کے گھر پر سرکاری اہلکار بھی بھیجے گئے لیکن اس کی کہیں سے کوئی خبر نہ ملی۔ ہوم سکریٹر ی نے ڈپٹی کمشنر کو فون کر کے پوچھا کہ عطیہ دینے والا خود کہاں ہے۔ اس پر اعظم خان کی تلاش پھر شروع ہو گئی اور اس دو دن تک پوری ضلعی انتطامیہ ڈھونڈتی رہی۔ آخر تیسرے دن پچیس جولائی کو اعظم خان نے ضلعی انتظامیہ کو اطلاع دی کہ اس نے جو نوٹ دیا تھا وہ جعلی تھا اور وہ نوٹ بچے کھیلنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
اس پر پوری انتظامیہ شرمندہ ہوگئی کہ ان کے ساتھ اتنا بڑا مذاق کیا گیا تھا۔ اس پر ایک انکوائری کا حکم دیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر مانسہرہ نے پچیس جولائی دو ہزار ایک میں یہ ساری تفصیلات لکھ کر ہوم سیکریٹری سرحد کو بھیجیں اور اس خط کی کاپی انہوں نے ملٹری سکریٹری گورنر صوبہ سرحد، پراؤیٹ سکرئٹری چیف سکریٹری کے علاوہ تمام سول ، پولیس اور فوج کے اعلی حکام کو بھیجیں۔ اب آگے تاریخ خاموش ہے کہ کیسے اعظم خان نے پولیس اور فوج کو رام کر کے اپنے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہونے دی اور کیسے ایک ملین ڈالر کا جعلی نوٹ عطیہ میں دے کر بھی صاف بچ نکلے۔ شاید انہوں نے بعد میں یہ ایک ملین ڈالر کا اس دفعہ اصلی نوٹ مولانا کی پارٹی کو چندہ دے کر پہلے سینٹ کی سیٹ خریدی اور پھر وزیر بھی بن گئے۔
اس فراڈ کا پتہ چلتے ہی ڈپٹی کمشنر نے ایس پی مانسہرہ کو حکم دے دیا تھا کہ وہ اعظم خان کے خلاف کارروائی کریں۔ تاہم ہماری تفتیش کہتی ہے کہ اس طرح کا کوئی پرچ درجہ نہیں ہوا کیونکہ ایک ماہ بعد ہماری ’ون ملین ڈالر مین‘ مانسہرہ کا ناظم بن چکا تھا اور اب وہی ایس پی ان کا ماتحت تھا جس کو ان کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی گئی تھی۔ سنا ہے کہ اس ایک ملین ڈالر جعلی نوٹ کے بعد ان کی اتنی مشہوری ہوئی کہ کچھ دنوں بعد وہ ناظم کے عہدے پر فائز تھے کہ مانسہرہ کے لوگوں کو اس سے بہتر ماڈرن لیڈر کون مل سکتا تھا جو امریکہ سے یہ سیکھ کر آیا تھا کہ کیسے جعلی ڈالروں سے لوگوں کی خدمت کرنی ہے۔
تاہم ہمارے ون ملین ڈالر مین نے ہماری مشکل آسان کردی ہے کہ انہوں نے یہ سارا فراڈ کیا اور بچ بھی نکلے۔ اپ سکرین پر ایک فوٹو ملاحظ فرمائیں جس میں اعظم خان سواتی اس وقت کے کور کمانڈر جنرل احسان کو بیس لاکھ روپے کا پے آڈرر پیش کر رہے ہیں۔ سنا ہے کہ فوج نے ان سے چیک لینے سے انکار کر دیا تھا کہ کہیں یہ بھی جعلی نہ نکلے اور انہیں کہا گیا کہ وہ پے اڈرر دیں گے۔ شاید یہ وہ بیس لاکھ روپے وہ قیمت تھی جو اس ون ملین ڈالر کے خلاف کوئی ایکشن نہ کرنے پر ادا کی گئی تھی کیونکہ اس کے بعد تاریخ خاموش ہے کہ ہمارے اس جعلی ون ملین ڈالر مین کا کیا بنا۔ ہاں اس قوم کو مبارک ہو کہ ایک نیا لیڈر ضرور مل گیا۔
تاہم یہ کہانی سنانے کی پاداش میں ہمیں اس کہانی کے مرکزی کردار جسے ہم ون ملین ڈالر سمجھتے ہیں سابق وزیر سینٹر اعظم سواتی نے ایک خط لکھا کر بھیجا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ہم یہ کہانی دراصل زرداری، گیلانی اور کاظمی سے پیسے لے کر لوگوں کو سنا اور پڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے تمام الزامات سے انکار کیا اور کہا کہ یہ ان کے خلاف سازش ہے اور اس طرح کی رپورٹ دس روپے میں باآسانی بنائی جا سکتی ہے۔ اس سازش کا پتہ چلانے کے لیے ہم نے اس کہانی کے ایک اور مرکزی کردار مولوی نذیر سے رابط کیا تو انہوں نے اسے کنفرم کیا اور ساتھ ہی پوری کہانی سنائی کہ کیسے اعظم سواتی نے کس طرح وہ جعلی نوٹ ان کو عطیے کے طور پر پیش کیا تھا اور بعد میں کیسے ضلعی انتظامیہ کو ساتھ ملا کر وہ صاف بچ نکلے بلکہ وہ مانسہرہ کے ضعلی ناظم بن گئے اور جو ڈٖپٹی کمشنر اور ایس پی ان کے خلاف کاروائی کا ارادہ رکھتے تھے، وہ الٹا ہمارے اس ون ملین ڈالر مین کے ماتحت بن گئے۔
کہاں کا فراڈ اور کہاں کی سزا
تاہم پاکستان آرمی کو اس بات کا دکھ تھا کہ ان کے ساتھ ہاتھ ہو گیا تھا۔ اس کے بدلے میں اعظم سواتی نے بیس لاکھ روپے کا پے اڈرر اس وقت کے کورکمانڈر جنرل احسان الحق کو پیش کیا ( جنرل احسان بعد میں ڈی جی آئی ایس آئی بنے تھے)۔ بیس لاکھ روپے کے اس عطیے کے بعد پاک فوج نے ہمارے اس ون ملین ڈالر مین کے ضلعی ناظم بننے کی راہ ہموار کی۔ پاک فوج کو سیلاب متاثرین کے لیے بیس لاکھ روپے مل گئے اور ہمارے ون ملین ڈالر مین ضعلی ناظم اور پھر سینٹر اور پھر وزیر بن گئے۔
ان تمام واقعات کی تصدیق کے لیے جب ہم نے مولوی نذیر سے بات کی تو ان کی باتوں نے تو ہمارے ہوش اڑا دیے۔ ملاحظ فرمائیں اس شو کی ویڈیو کلپ کہ انہوں نے ہمارے اسے جعلی ون ملین ڈالر مین کے بار ے میں کیا کہانی سنائی۔
ہارے یہ قابل احترام جعلی ون ملین ڈالر مین آج کل ہمارے تبدیلی کے نئے ہیرو عمراں خان کے ساتھ ان کے ہراول دستے میں شامل ہیں۔ اس سے پہلے مولانا کے کندھوں پر سوار ہو کر وہ برسوں گیلانی حکومت میں وزرات کے مزے لیے اور اب ملک میں انقلاب لانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ہمیں کوئی شک نہیں کہ وہ اس ملک میں انقلاب اور تبدیلی لے آئیں گے کیونکہ اگر وہ ایک ملین ڈالر کا جعلی نوٹ دے کر ناظم سے سینٹر اور پھر وزیر بن سکتے ہیں تو انقلاب بھلا کس بھاؤ بکتا ہے۔
ان کے بارے ہی شاید کسی دل جلے شاعر نے کہا تھا کہ
۔۔رند کے رند بھی رہے اور جنت بھی ہاتھ سے نہ گئی
Source: http://************************/imran-khan-one-million-dollar-man
عمران خان کا ون ملین ڈالر مین اعظم خان سواتی (http://************************/imran-khan-one-million-dollar-man)
Published on 08. Feb, 2012
http://************************/wp-content/uploads/2012/02/one-million.jpg (http://************************/wp-content/uploads/2012/02/one-million.jpg)
ہمارے پاکستانی جعلی ون ملین ڈالر مین امریکہ سے نئے نئے پلٹ کر آئے تھے اور ان دنوں ملک میں جنرل مشرف نئے نودولتی سیاستدانوں کی ایک نئی پود پیدا کرنے کی فیکڑی پر کام کر رہے تھے اور اس سلسلے میں پورے ملک میں ضلعی نظام متعارف کرایا جارہا تھا ۔ ہمارے یہ جعلی ون ملین ڈالر مین بھی یہ سوچ کر امریکہ سے اپنے وطن تشریف لئے آئے کہ اب وقت آگیا ہے کہ وہ بھی سیاستدان بن کر اپنے ملک اور قوم کی خدمت کریں اور اس نیک کام کا آغاز وہ اپنے علاقے اگی سے کرنا چاہتے تھے کیونکہ تاریخ میں ہوتا آیا ہے کہ اپنے لوگوں کی لاشوں پر اپنے قد بڑے کرنا قدرے آسان کام ہوتا ہے۔
ہمارے اس جعلی ون ملین ڈالر مین کی قسمت عروج پر تھی کہ انہی دنوں ان کے علاقے میں سیلاب آگیا جس میں بہت سارے لوگ بے گھر ہوگئے۔ لوگ سیلاب میں ڈوب رہے تھے لیکن ہمارے اس ون ملین ڈالر مین کی قسمت ابھر رہی تھی۔ ماوزے تنگ نے کہا تھا کہ بحران کو موقع میں بدل دو۔ یوں ہمارے اس ون ملین ڈالر مین نے بھی یہ کہاوت پڑھ رکھی تھی اور انہوں نے بھی اس انسانی بحران سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا اور پھر انہوں نے وہ کرتب دکھایا کہ آج ہم دس سال بیٹھے ان کی وہ کہانی سنا رہے ہیں۔ اس خط میں اور کیا کچھ انہوں نے لکھا ہے اس کی تفصلات تو ہم آپ کو بعد میں بتائیں گے ۔ پہلےِ پہلے آپ اس ون ملین ڈالر مین کی کہانی سن لیں۔
ون ملین ڈالر مین کی کہانی کچھ اس طرح شروع ہوتی ہے کہ 23 جولائی دو ہزار ایک پورے مانسہرہ ڈسٹرکٹ میں ایک ہنگامہ مچ گیا کہ امریکہ پلٹ اعظم خان جنہیں علاقے کے لوگ ڈالر مین کے نام سے جانتے ہیں، نے دادر کے علاقے میں ہونے والی ایک ٹریجڈی کے متاثرین کے لیے ایک ملین ڈالر کا نوٹ عطیہ میں دیا تھا ۔ جی ہاں ایک ملین ڈالر کا نوٹ ۔ آپ یقنیا پوچھیں گے کہ دینا بھر میں سو ڈالر سے بڑا نوٹ نہیں ہے تو پھر یہ ایک ملین ڈالر کا نوٹ ؟ جی ہاں ایک ملین ڈالر کا نوٹ۔
دادر کے علاقے میں آفت آنے کے بعد وہاں کے مقامی باشندوں کی بحالی کے لیے ضلعی انتطامیہ نے مختلف اقدامات لینے شروع کر دیے تھے۔ جولائی 23, 2001 کو جب سول ایڈمنسٹریشن ریلیف اور ریسکو کام میں مصروف تھی کہ ایک مولانا نذیر اپنے ساتھ بہت سارے لوگوں کے ہمراہ پہنچے اور انہوں نے وہاں موجود انتظامیہ کے افسران کے سروں پر ایک بم گرایا کہ Oghi علاقے کے ایک رہنے والے باشندے اعظم خان نے ایک ملین ڈالر کا نوٹ عطیہ کے طور پر دیا تھا۔ یہ بہت بڑی خبر تھی کہ کسی عام شہری نے ایک ملین ڈالر کا عطیہ دیا تھا جو کہ سیلاب زدہ لوگوں کے لیے تھا۔ اس معاملے کو فوری طور پر فوجی کمانڈنٹ جے ایل اے، شنکیاڑی کے علم میں لایا گیا جو اس وقت سارے ریسکیو آپریشن کی قیادت کر رہے تھے۔
ہر طرف ہلچل مچ گئی کہ کوئی شخص ایک ملین ڈالر کا نوٹ عطیے میں دے رہا تھا۔ لوگ ریسکیو آ پریشن بھول گئے۔ فوری طور پر کمانڈنٹ نے ایک ہنگامی میٹنگ بلا لی جس میں کمشنر، ڈی آئی جی، ڈپٹی کمشنر اور مقامی لوگوں کے علاوہ میڈیا کے لوگوں نے بھی شرکت کی۔کمانڈنٹ نے ایک چار رکنی کمیٹی بنائی جس کے ذمے یہ کام لگایا گیا کہ وہ یہ ایک ملین ڈالر کا نوٹ ان سے لے کر اسے اپنے حفاظت میں لیکر اسے سرکاری اکاونٹ میں جمع کرائیں۔ اس کمیٹی میں میڈیا کے ایک نمائندے کو بھی شامل کیا گیا۔ کمانڈنٹ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ یہ ایک ملین ڈالر کا نوٹ کو مانسہرہ لے جایا جائے گا اور ایک بھاری فوج کی نفری اس کے ساتھ حفاظت کے لیے بھیجی جائے گی۔ ایک سرونگ آرمی میجر زرداد کے ذمے یہ کام لگا یا گیا کہ وہ ایک ملین ڈالر کا نوٹ لے کر ایک فوجی دستہ کی قیادت کرتے ہوئے اس نوٹ کو بحفاظت مانسہرہ چھوڑ آئیں گے۔
یوں میجر صاحب باقاعدہ اپنی ایک گارد لے کر شہر گئے تاکہ کوئی حملہ کر کے ان سے وہ نوٹ نہ چھین کر لے جائے اور بے چارے سیلاب زدگان بھوکے مر جائیں گئے۔ جب یہ ایک ملین کا نوٹ مانسہرہ پہنچ گیا تو اگلے دن اسے نیشنل بنک کی مین برانچ میں جمع کرا دیا گیا تاکہ اسے کیش کرایا جا سکے ۔ کمال اس بنک میجنر کا دیکھیں کہ اسے بھی علم نہ تھا کہ ایک ملین ڈالر کا کوئی نوٹ نہیں ہوتا اور انہوں نے بھی اسے جمع کر کے اس کی رسید بھی باقاعدہ جاری کر دی۔ اگلے دن کور کمانڈر کو بھی اس ایک ملین ڈالر کے عطیے کے بارے میں بتا دیا گیا جب وہ دادر میں ایک بریفنگ میں شریک تھے۔
اسی دن ہی کور کمانڈر نے گورنر سرحد کو بھی اس ایک ملین ڈالر کے عطیے کے بارے میں بتا دیا۔
اس اثناء میں یہ بات میڈیا کے زریعے پھیل چکی تھی جب کہ عطیہ دینے والے اعظم خان کا کہیں اتہ پتہ تک نہ تھا۔ اس کے گھر پر سرکاری اہلکار بھی بھیجے گئے لیکن اس کی کہیں سے کوئی خبر نہ ملی۔ ہوم سکریٹر ی نے ڈپٹی کمشنر کو فون کر کے پوچھا کہ عطیہ دینے والا خود کہاں ہے۔ اس پر اعظم خان کی تلاش پھر شروع ہو گئی اور اس دو دن تک پوری ضلعی انتطامیہ ڈھونڈتی رہی۔ آخر تیسرے دن پچیس جولائی کو اعظم خان نے ضلعی انتظامیہ کو اطلاع دی کہ اس نے جو نوٹ دیا تھا وہ جعلی تھا اور وہ نوٹ بچے کھیلنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
اس پر پوری انتظامیہ شرمندہ ہوگئی کہ ان کے ساتھ اتنا بڑا مذاق کیا گیا تھا۔ اس پر ایک انکوائری کا حکم دیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر مانسہرہ نے پچیس جولائی دو ہزار ایک میں یہ ساری تفصیلات لکھ کر ہوم سیکریٹری سرحد کو بھیجیں اور اس خط کی کاپی انہوں نے ملٹری سکریٹری گورنر صوبہ سرحد، پراؤیٹ سکرئٹری چیف سکریٹری کے علاوہ تمام سول ، پولیس اور فوج کے اعلی حکام کو بھیجیں۔ اب آگے تاریخ خاموش ہے کہ کیسے اعظم خان نے پولیس اور فوج کو رام کر کے اپنے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہونے دی اور کیسے ایک ملین ڈالر کا جعلی نوٹ عطیہ میں دے کر بھی صاف بچ نکلے۔ شاید انہوں نے بعد میں یہ ایک ملین ڈالر کا اس دفعہ اصلی نوٹ مولانا کی پارٹی کو چندہ دے کر پہلے سینٹ کی سیٹ خریدی اور پھر وزیر بھی بن گئے۔
اس فراڈ کا پتہ چلتے ہی ڈپٹی کمشنر نے ایس پی مانسہرہ کو حکم دے دیا تھا کہ وہ اعظم خان کے خلاف کارروائی کریں۔ تاہم ہماری تفتیش کہتی ہے کہ اس طرح کا کوئی پرچ درجہ نہیں ہوا کیونکہ ایک ماہ بعد ہماری ’ون ملین ڈالر مین‘ مانسہرہ کا ناظم بن چکا تھا اور اب وہی ایس پی ان کا ماتحت تھا جس کو ان کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی گئی تھی۔ سنا ہے کہ اس ایک ملین ڈالر جعلی نوٹ کے بعد ان کی اتنی مشہوری ہوئی کہ کچھ دنوں بعد وہ ناظم کے عہدے پر فائز تھے کہ مانسہرہ کے لوگوں کو اس سے بہتر ماڈرن لیڈر کون مل سکتا تھا جو امریکہ سے یہ سیکھ کر آیا تھا کہ کیسے جعلی ڈالروں سے لوگوں کی خدمت کرنی ہے۔
تاہم ہمارے ون ملین ڈالر مین نے ہماری مشکل آسان کردی ہے کہ انہوں نے یہ سارا فراڈ کیا اور بچ بھی نکلے۔ اپ سکرین پر ایک فوٹو ملاحظ فرمائیں جس میں اعظم خان سواتی اس وقت کے کور کمانڈر جنرل احسان کو بیس لاکھ روپے کا پے آڈرر پیش کر رہے ہیں۔ سنا ہے کہ فوج نے ان سے چیک لینے سے انکار کر دیا تھا کہ کہیں یہ بھی جعلی نہ نکلے اور انہیں کہا گیا کہ وہ پے اڈرر دیں گے۔ شاید یہ وہ بیس لاکھ روپے وہ قیمت تھی جو اس ون ملین ڈالر کے خلاف کوئی ایکشن نہ کرنے پر ادا کی گئی تھی کیونکہ اس کے بعد تاریخ خاموش ہے کہ ہمارے اس جعلی ون ملین ڈالر مین کا کیا بنا۔ ہاں اس قوم کو مبارک ہو کہ ایک نیا لیڈر ضرور مل گیا۔
تاہم یہ کہانی سنانے کی پاداش میں ہمیں اس کہانی کے مرکزی کردار جسے ہم ون ملین ڈالر سمجھتے ہیں سابق وزیر سینٹر اعظم سواتی نے ایک خط لکھا کر بھیجا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ہم یہ کہانی دراصل زرداری، گیلانی اور کاظمی سے پیسے لے کر لوگوں کو سنا اور پڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے تمام الزامات سے انکار کیا اور کہا کہ یہ ان کے خلاف سازش ہے اور اس طرح کی رپورٹ دس روپے میں باآسانی بنائی جا سکتی ہے۔ اس سازش کا پتہ چلانے کے لیے ہم نے اس کہانی کے ایک اور مرکزی کردار مولوی نذیر سے رابط کیا تو انہوں نے اسے کنفرم کیا اور ساتھ ہی پوری کہانی سنائی کہ کیسے اعظم سواتی نے کس طرح وہ جعلی نوٹ ان کو عطیے کے طور پر پیش کیا تھا اور بعد میں کیسے ضلعی انتظامیہ کو ساتھ ملا کر وہ صاف بچ نکلے بلکہ وہ مانسہرہ کے ضعلی ناظم بن گئے اور جو ڈٖپٹی کمشنر اور ایس پی ان کے خلاف کاروائی کا ارادہ رکھتے تھے، وہ الٹا ہمارے اس ون ملین ڈالر مین کے ماتحت بن گئے۔
کہاں کا فراڈ اور کہاں کی سزا
تاہم پاکستان آرمی کو اس بات کا دکھ تھا کہ ان کے ساتھ ہاتھ ہو گیا تھا۔ اس کے بدلے میں اعظم سواتی نے بیس لاکھ روپے کا پے اڈرر اس وقت کے کورکمانڈر جنرل احسان الحق کو پیش کیا ( جنرل احسان بعد میں ڈی جی آئی ایس آئی بنے تھے)۔ بیس لاکھ روپے کے اس عطیے کے بعد پاک فوج نے ہمارے اس ون ملین ڈالر مین کے ضلعی ناظم بننے کی راہ ہموار کی۔ پاک فوج کو سیلاب متاثرین کے لیے بیس لاکھ روپے مل گئے اور ہمارے ون ملین ڈالر مین ضعلی ناظم اور پھر سینٹر اور پھر وزیر بن گئے۔
ان تمام واقعات کی تصدیق کے لیے جب ہم نے مولوی نذیر سے بات کی تو ان کی باتوں نے تو ہمارے ہوش اڑا دیے۔ ملاحظ فرمائیں اس شو کی ویڈیو کلپ کہ انہوں نے ہمارے اسے جعلی ون ملین ڈالر مین کے بار ے میں کیا کہانی سنائی۔
ہارے یہ قابل احترام جعلی ون ملین ڈالر مین آج کل ہمارے تبدیلی کے نئے ہیرو عمراں خان کے ساتھ ان کے ہراول دستے میں شامل ہیں۔ اس سے پہلے مولانا کے کندھوں پر سوار ہو کر وہ برسوں گیلانی حکومت میں وزرات کے مزے لیے اور اب ملک میں انقلاب لانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ہمیں کوئی شک نہیں کہ وہ اس ملک میں انقلاب اور تبدیلی لے آئیں گے کیونکہ اگر وہ ایک ملین ڈالر کا جعلی نوٹ دے کر ناظم سے سینٹر اور پھر وزیر بن سکتے ہیں تو انقلاب بھلا کس بھاؤ بکتا ہے۔
ان کے بارے ہی شاید کسی دل جلے شاعر نے کہا تھا کہ
۔۔رند کے رند بھی رہے اور جنت بھی ہاتھ سے نہ گئی
Source: http://************************/imran-khan-one-million-dollar-man