Today, 03:48 AM
نواز پرائیویٹ لمیٹیڈ ،بھٹو پرائیویٹ لمیٹڈ اور اب ایم کیو ایم پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی ایم کیو ایم ویسے تو اپنے نظریات کا بھانڈا کہیں دفع خود ہی پھوڑ
دیا ہے اور اب یہ ثابت ہو گیا کہ یہ پارٹی ایک شخص نے قومیت کا نعرہ لگا کربنائی جس کی قیمت آج تک یہ پارٹی کسی اور کو نہیں اپنے اس لیڈر کو ہی ادا کر رہی ہے اس لیڈر نے پاکستان کی اس سب سے بڑی پڑھی لکھی قوم کو کیا دیا ' اسلحہ پکڑا کر پوری دنیا میں انھے تشدد اور دہشت گردی کی علامت بنا دیا جسکا ثبوت ایم کیو ایم کے ٹارگٹ کلرزکی وو لسٹ ہے جو سپریم کورٹ نے جاری کی اور کینیڈا کی عدالت کا وہ فیصلہ ہے جس میں ایم کیو ایم کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے
الطاف حسین کے راستے میں جو بھی آیا ہٹا دیا گیا چاہے وہ عظیم احمد طارق ہو یہ پھر عمران فاروق جیسے لوگ جو اس شہر میں کسما پرسی حالت میں قتل کر دیے جاتے ہیں جس شہر میں انکا لیڈر سخت سیکورٹی میں عیاشی کی زندگی گزار رہا ہوتا ہے میرا سوال ایم کیو ایم کے ہر کارکن سے ہے کیا آپ لوگوں کی کمائی پر صرف الطاف حسین کا حق تھا کیا عمران فاروق کی قربانیاں الطاف حسین سے کم تھیں الطاف تو خطرے کی بو سونگھ کر فورن ملک سے فرار ہو گیا لیکن عمران فاروق جیسے لوگ دس سال تک روپوشی اور اذیت کی زندگی گزارتے رہے ،اور جب اپنے لیڈر کے پاس پہنچے تو انھے پتا چلا جس تحریک کو وہ اپنی قوم کی تحریک سمجھ رہے تھے وہ تو ایک پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی بن چکی ہے جسکے سارے منافے پر صرف ایک شخص کا حق ہے
مجھے نہیں پتا کہ ایم کیو ایم میں تبدیلیاں کیوں ہو رہی ہیں لیکن اگر اہلیت کی بنیاد پر ہو رہی ہیں تو سب سے پہلے الطاف حسین کو ہٹانا چاہیے ،تحریک کے کارکن تو داد کے مستحق ہیں جنہوں نے اس پارٹی کو بیس سال تک منظم طریقے سے چلایا جو اپنے قائد کے الٹے سیدھے بیانات اور حرکتوں کا میڈیا پر بڑے حوصلے سے دفاع کرتے رہےاور اسکے بدلے میں انھے بھی کیا ملا انھے بایک جنبش ہٹا دیا گیا 'کہیں الطاف حسین کو یہ احساس تو نہیں ہو گیا تھا کے انکی پالیسیوں اور آوٹ پٹانگ حرکتوں سے انکی تحریک کے لوگ بددل ہو رہے ہیں اور انھے اپنی کرسی کھسکتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی 'الطاف صاحب دھان میں رہے اگر بیس سال پرانی عمارت کی بنیادوں کو ہلائیں گیں تو عمارت کھڑی نہیں رہ سکے گی
آج الطاف حسین فرماتے ہیں کوئی چندہ نہیں لے گا 'کوئی زمینوں پر قبضہ نہیں کرے گا "نو سو چوھے کھا کر بلا حج کو چلا" اس بیان سے یہ تو ثابت ہو گیا کہ چندہ عرف بھتہ ،قبضہ ،تشدد، دہشت گردی ٹارگٹ کلنگ جیسے عناصر ایم کیو ایم کی سیاست کا بنیادی حصہ رہے ہیں اور آج ایم کیو ایم کی گرتی ہوئی مقبولیت کو سمبھالنے کے لیے آپکو اس قسم کے بیانات کا سہارا لینا پڑ رہا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر گھوڑا گھاس سے دوستی کر لے گا تو کھا ۓ گا کیا آپ عمران فاروق کی طرح کام کاج تو کرتے نہیں تو ہمیں یقین ہے کے اپ اپنے ہاتھ سے اپنے پیٹھ پر لات نہیں ماریں گیں ،کہیں ایسا تو نہیں پاکستان مسلم لیگ ن کی طرح آپکو بھی پی ٹی آئی نے نیند سا جگا دیا ہو
یہ بیانات اس وقت کہاں تھے جب کراچی جل رہا تھا ماؤں گی گودیں اجڑ رہیں تھیں ،لوگ اپنی زمینوں سے ہاتھ دھو رہے تھے انڈسٹری کراچی سےباہر شفٹ ہو رہی تھی لوگ اپنی جائیدادیں چھوڑ چھوڑ کر ملک سے بھاگ رہے تھے ، بس کر دیں الطاف صاحب ظلم کی رات اب تمام ہونے کو ہے اب کوئی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی اس ملک اور شہر کو نہیں چلا ۓ گی اپنے دوستوں سے صرف اتنا کہہنا ہے ، امید اور حق کا دامن نہیں چھوڑنا